فریب بصارت اور مشرقِ وسطیٰ کا گرداب

بات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں بلکہ اس کے تانے بانے عالمی معاشی بالادستی اور ڈالر کے تحفظ سے جڑے ہیں


اکرم ثاقب April 08, 2026

امریکی خارجہ پالیسی کے بدلتے ہوئے انداز، بالخصوص حالیہ برسوں کی سیاسی منطق کو عموماً ایک جذباتی قیادت کے غیر متوقع فیصلے یا سطحی ابتری سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ ایک ایسا فریبِ بصارت ہے جو اس گہری اور پیچیدہ عالمی چال کو سمجھنے میں رکاوٹ بنتا ہے جسے واشنگٹن نے بڑی مہارت سے ایک ’’خصوصی حکمتِ عملی‘‘ کے غلاف میں چھپا رکھا ہے۔

کبھی جارحانہ فوجی تیور اور کبھی اچانک سفارتی پسپائی، یہ بکھراؤ نہیں بلکہ فنکاری کا ایک نمونہ ہے، جس کا مقصد اصل اہداف کو پردے میں رکھنا اور اتحادی و حریف دونوں کو مستقل ذہنی چکر اور الجھن میں مبتلا رکھنا ہے۔

اس منظم عدم استحکام کا مرکزی نکتہ ایک مستقل ’وجودی خطرے‘ کو مصنوعی طور پر برقرار رکھنا ہے۔ حقیقت پسندانہ تجزیہ بتاتا ہے کہ امریکا ایرانی مسئلے کا کوئی حتمی فوجی حل نہیں چاہتا، کیونکہ تہران کی مکمل بیخ کنی اس پورے ڈھانچے کو ہی منہدم کردے گی جو خلیج میں امریکی بالادستی کے جواز کا ضامن ہے۔ اس کے بجائے، ایران کو ایک مستقل اور منڈلاتے ہوئے ہیولے کے طور پر زندہ رکھ کر عرب ریاستوں میں شدید عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا جاتا ہے۔

یہی خوف امریکا کو ’’ناگزیر مسیحا‘‘ بنا دیتا ہے۔ اس اضطراب کا براہِ راست فائدہ واشنگٹن کی دفاعی صنعت کو پہنچتا ہے، جہاں اربوں ڈالر کے اسلحے کے سودے امریکی معیشت کو سہارا دیتے ہیں اور خطے کے دفاعی نظام کو مستقل طور پر امریکی مرضی سے نتھی کر دیا جاتا ہے۔

یہی خصوصی حکمتِ عملی اسرائیل کے لیے بھی ایک تاریخی تبدیلی کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ ایران کو ایک ہولناک عفریت بنا کر عرب دنیا کو باور کرایا جا رہا ہے کہ بقا کی خاطر اسرائیل ان کی ڈھال ہے۔ اس سحر انگیزی کے ذریعے تاریخی دشمنی کو ’’بقا کی منطق‘‘ کے نیچے دبایا جارہا ہے، جہاں اسرائیل کی فوجی اور جاسوسی مہارت کو ایک بوجھ کے بجائے ضرورت کے طور پر قبول کیا جانے لگا ہے۔ مقصد واضح ہے: ایک ایسا علاقائی اتحاد جہاں اسلحہ امریکا کا ہو، ڈھال اسرائیل بنے اور سرمایہ و زمین عربوں کی ہو۔

بات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں بلکہ اس کے تانے بانے عالمی معاشی بالادستی اور ڈالر کے تحفظ سے جڑے ہیں۔ ڈالر کی ساکھ کو متبادل معاشی گروہوں اور دیگر کرنسیوں کی ترویج سے جو خطرات لاحق ہیں، ان کا توڑ کرنے کے لیے امریکا توانائی کے عالمی راستوں پر اپنی گرفت مضبوط رکھنا چاہتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کا محض خدشہ ہی اس منصوبے کا ایک اہم حصہ ہے؛ یہ چین جیسے توانائی کے پیاسے ممالک کے لیے مستقل بے یقینی پیدا کرتا ہے اور انہیں ان کے اپنے وسیع تجارتی منصوبوں سے دور رکھ کر امریکی توانائی کے متبادل کی طرف دھکیلتا ہے۔

اسی بالادستی کی ایک اور کڑی وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر اثر و رسوخ قائم کرنا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی رسد کو دانستہ طور پر خطرے کے سائے میں رکھ کر واشنگٹن دنیا کو مجبور کرتا ہے کہ وہ امریکی ایندھن اور وینزویلا کے مستقبل کے ذخائر پر بھروسہ کرے۔ توانائی کی یہ جبری وابستگی ڈالر کے لیے زندگی بچانے والی امداد کا کام کر رہی ہے، جس کے ذریعے امریکا اپنی اندرونی مہنگائی پوری دنیا کو برآمد کر رہا ہے اور ڈالر مخالف ہر اتحاد کو مہنگا ترین سودا بنا رہا ہے۔

اگر مشرقِ وسطیٰ میں حقیقی امن قائم ہوجائے اور تہران و ریاض کے مابین قربت بڑھ جائے تو امریکی فوجی موجودگی کا پورا بیانیہ ہی زمین بوس ہوجائے گا۔ اسی لیے واشنگٹن مستقل بحران کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ ’’جمود کی منطق‘‘ہے، جہاں تبدیلی کی ہر حقیقی کوشش کو روک دیا جاتا ہے تاکہ سامراجی طاقت کے لیے زمین زرخیز رہے۔ یہ ایک ایسا کھیل ہے جہاں جنگ کو کبھی مکمل طور پر نہ لڑنا ہے اور نہ ہی ختم کرنا ہے، کیونکہ تصفیہ ہوجانے کی صورت میں امریکی مقتدرہ کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔

حتمی طور پر، یہ تمام مشق دنیا کو اس بات پر تھکا دینے کے لیے ہے کہ وہ امریکی ساختہ نظام کو ہی واحد حل تسلیم کرلے۔ الجھن کے ذریعے حکمرانی، خوف کے ذریعے قیادت اور اس جنگ سے منافع کشی جو کبھی جیتنے کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ لڑتے رہنے کے لیے شروع کی گئی ہے۔ یہی اس نئے عہد کا اصل چہرہ ہے۔ واشنگٹن ایک ایسی دنیا کا معمار بن چکا ہے جہاں امن ناممکن اور جنگ ناگزیر ہے، مگر اس کی لگامیں صرف اس کے اپنے ہاتھ میں رہنی چاہئیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
اکرم ثاقب
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔