جنگ کے بیچ امن کی امید

منصوبے کے تحت جنگ بندی کے فوراً بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل کھولنے کا امکان ہے۔


ایڈیٹوریل April 08, 2026

مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کا تیار کردہ منصوبہ ایران اور امریکی قیادت کو پہنچا دیا گیا ہے پاکستان کی جانب سے تیار کردہ فریم ورک تہران اور واشنگٹن کو پیش کیا گیا جس میں فوری جنگ بندی اور بعد ازاں جامع معاہدے کی تجاویز شامل ہیں۔منصوبے کے تحت جنگ بندی کے فوراً بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل کھولنے کا امکان ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جنگ بندی سے متعلق نئی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن برقرار ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی عہدیدار کے دعوے کے مطابق نیتن یاہو نے ٹرمپ سے کہا کہ اس وقت جنگ بندی نہ کی جائے کیونکہ اس سے اسرائیل کے سیکیورٹی مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور سفارتی و عسکری سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔

مشرق وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے اس موڑ پر کھڑا ہے جہاں فیصلے صرف سرحدوں کا تعین نہیں کرتے بلکہ تہذیبوں کی سمت بھی متعین کرتے ہیں۔ بارود کی بو، سفارتی بیانات کی تلخی اور عالمی طاقتوں کی چالوں کے درمیان ایک سچ مسلسل ابھر کر سامنے آ رہا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسائل کی افزائش گاہ ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب مستقل جنگ بندی محض ایک سفارتی اصطلاح نہیں بلکہ انسانی بقا کی شرط بن چکی ہے۔حالیہ کشیدگی نے جس تیزی سے شدت اختیار کی ہے، اس نے نہ صرف خطے کے ممالک کو بے یقینی میں مبتلا کیا ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی لرزا کر رکھ دیا ہے۔

آبنائے ہرمز، جو دنیا کی توانائی کی شہ رگ کہلاتی ہے، اس وقت ایک ایسے گلے کی مانند ہے جس پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کی بندش یا غیر محفوظ ہونا صرف تیل کی ترسیل کو متاثر نہیں کرتا بلکہ عالمی تجارت کے پورے نظام کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کا ایک جامع فریم ورک سامنے آیا تو اسے محض ایک علاقائی کوشش کے بجائے ایک عالمی ضرورت کے طور پر دیکھا گیا۔

پاکستان کی سفارتی حکمت عملی اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس نے کسی ایک فریق کی حمایت کے بجائے ایک متوازن راستہ اختیار کیا ہے۔ یہ توازن ہی دراصل اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ایک جانب امریکا کی سخت شرائط اور فوری نتائج کی خواہش ہے، تو دوسری طرف ایران کا اصولی موقف کہ وہ دباؤ کے تحت کوئی فیصلہ نہیں کرے گا۔ ان دونوں کے درمیان ایک ایسا پل تعمیر کرنا جو وقتی بھی ہو اور پائیدار بھی، ایک غیر معمولی چیلنج ہے۔ پاکستان نے اسی چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ایک ایسا خاکہ پیش کیا ہے جس میں فوری جنگ بندی، بعد ازاں مذاکرات اور بالآخر ایک جامع معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ دنیا نے ایسی کشیدگی دیکھی ہو۔ تاریخ کے اوراق اس بات کے گواہ ہیں کہ بڑی طاقتوں کے درمیان تناؤ اکثر چھوٹے خطوں کو میدانِ جنگ بنا دیتا ہے۔ سرد جنگ کے دور میں بھی یہی کچھ ہوا، جب براہ راست تصادم سے گریز کرتے ہوئے مختلف خطوں کو پراکسی جنگوں کا مرکز بنایا گیا۔ آج کا منظرنامہ اگرچہ مختلف دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کی جڑیں اسی سوچ میں پیوست ہیں جہاں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے کشیدگی کو ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان عدم اعتماد کی داستان بھی کوئی نئی نہیں۔ کئی دہائیوں پر محیط یہ کشیدگی مختلف ادوار میں شدت اختیار کرتی رہی ہے۔ کبھی پابندیوں کے ذریعے دباؤ ڈالا گیا، تو کبھی سفارتی معاہدوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم ہر بار کوئی نہ کوئی ایسا موڑ آیا جہاں یہ عمل رک گیا یا الٹ گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب جنگ بندی کی بات ہوتی ہے تو دونوں اطراف میں شکوک و شبہات کی فضا غالب آ جاتی ہے۔

پاکستان کے مجوزہ منصوبے میں 45 روزہ جنگ بندی کے بعد مذاکرات کی تجویز دراصل اسی عدم اعتماد کو کم کرنے کی ایک عملی کوشش ہے۔ فوری طور پر مکمل معاہدہ ممکن نہیں ہوتا، اس لیے ایک عبوری مرحلہ ضروری ہوتا ہے جہاں فریقین نہ صرف اپنی پوزیشن کا ازسرِ نو جائزہ لے سکیں بلکہ اعتماد سازی کے اقدامات بھی شروع کر سکیں۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ اس وقفے کو سنجیدگی سے لیا جائے، نہ کہ اسے محض وقت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔

اس سارے عمل میں ایک اہم عنصر اسرائیل کا کردار بھی ہے، جو بظاہر اس تنازعے کا براہِ راست فریق نہیں لیکن اس کے اثرات سے براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔ اس کے سیکیورٹی خدشات اور ایران کے حوالے سے اس کی پالیسی اس پورے خطے کی حرکیات پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ اگر جنگ بندی کے کسی بھی منصوبے کو اس کے تحفظات کا سامنا ہو تو اس کی کامیابی کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سفارتی کوششوں میں اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ایران کے اندرونی حالات بھی اس بحران کو ایک نئی جہت دیتے ہیں۔ عوامی سطح پر بڑی تعداد میں افراد کا ممکنہ جنگ کے لیے خود کو پیش کرنا محض ایک عسکری ردعمل نہیں بلکہ ایک نفسیاتی کیفیت کی عکاسی ہے۔ یہ کیفیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ قومیں جب اپنے وجود کو خطرے میں محسوس کرتی ہیں تو وہ غیر معمولی ردعمل دیتی ہیں۔

ایسے ماحول میں قیادت کے لیے لچک دکھانا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ اسے عوامی جذبات کا بھی سامنا ہوتا ہے۔دوسری جانب امریکا کی پالیسی میں جو سختی نظر آتی ہے، وہ اس کے عالمی کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک سپر پاور کے طور پر وہ نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ چاہتا ہے بلکہ عالمی نظام میں اپنی برتری کو بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا طاقت کے ذریعے حاصل کیا گیا استحکام واقعی پائیدار ہوتا ہے؟ تاریخ اس سوال کا جواب نفی میں دیتی ہے، کیونکہ طاقت کے زور پر قائم کیے گئے نظام اکثر وقتی ثابت ہوتے ہیں۔

 عالمی معیشت پہلے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، جن میں مہنگائی، سپلائی چین کے مسائل اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ شامل ہیں۔ ایسے میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی ایک اضافی دباؤ کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی اقتصادی مشکلات سے دوچار ہیں، اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ بندی کی ضرورت صرف ایک سیاسی معاملہ نہیں بلکہ ایک اقتصادی تقاضا بھی ہے۔

 پاکستان کا کردار اس سارے منظرنامے میں ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک ایسا ملک جو خود مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، اس کا عالمی سطح پر امن کے لیے کردار ادا کرنا ایک حوصلہ افزا بات ہے۔ یہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں اب صرف بڑی طاقتیں ہی نہیں بلکہ درمیانے درجے کے ممالک بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی منصوبے کی کامیابی کا دارومدار صرف اس کی تجاویز پر نہیں بلکہ اس پر عملدرآمد کی نیت اور صلاحیت پر ہوتا ہے، اگر فریقین اپنے اپنے موقف پر سختی سے قائم رہیں اور لچک کا مظاہرہ نہ کریں تو بہترین منصوبے بھی ناکام ہو سکتے ہیں، یہی وہ مقام ہے جہاں قیادت کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔

قیادت کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ مشکل فیصلے کرے، حتیٰ کہ اگر وہ غیر مقبول ہی کیوں نہ ہوں۔ جنگ کا راستہ اکثر آسان لگتا ہے کیونکہ یہ فوری ردعمل فراہم کرتا ہے، لیکن اس کے نتائج طویل المدتی اور تباہ کن ہوتے ہیں، اس کے برعکس امن کا راستہ مشکل ہوتا ہے، کیونکہ اس میں صبر، برداشت اور مفاہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ عالمی برادری اس عمل میں فعال کردار ادا کرے۔

اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو چاہیے کہ وہ اس موقع کو ضایع نہ کریں اور ایک ایسے فریم ورک کی حمایت کریں جو نہ صرف جنگ بندی کو ممکن بنائے بلکہ اس کے بعد کے مراحل کو بھی یقینی بنائے۔ اگر یہ ادارے صرف بیانات تک محدود رہیں تو ان کی افادیت پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ یہ وقت تاریخ کا ایک نازک موڑ ہے۔ فیصلے آج ہوں گے لیکن ان کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ اگر دانشمندی، بردباری اور دور اندیشی کا مظاہرہ کیا گیا تو یہ بحران ایک نئے آغاز کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ بصورت دیگر، یہ ایک اور ایسی کہانی بن جائے گی جس میں تباہی، پشیمانی اور کھوئے ہوئے مواقع کا ذکر ہوگا۔