آبنائے ہرمز کب کھلے گی؟ سب سے زیادہ پوچھے جانے والے سوال کا جواب آگیا

دو ہفتوں کی جنگ بندی کے دوران امریکا حملے بند رکھے گا جب کہ ایران آبنائے ہرمز کھول دے گا


ویب ڈیسک April 08, 2026
امریکا اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں کی جنگ بندی میں آبنائے ہرمز کھول دینے پر اتفاق ہوا ہے (اے آئی، تصوراتی تصویر)

امریکا اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز کو کھولنے پر اتفاق ہوگیا لیکن اس پر عمل درآمد کب اور کیسے ہوگا اس پر فریقین سمیت ماہرین بھی تذبذب کا شکار ہیں۔

پینٹاگون میں اپنی تازہ میڈیا بریفنگ میں امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کھل چکی ہے۔ امریکی فوج اب بھی خطے میں موجود رہے گی تاکہ ایران جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے۔

دوسری جانب ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز تاحال مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی ہے اور اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ کو کل یا جمعہ تک محدود اور کنٹرولڈ انداز میں کھولنے پر غور کر رہا ہے اور یہ پاکستان میں متوقع ایران امریکا مذاکرات سے قبل ممکن ہے۔

البتہ ایرانی عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ اگر مذاکرات کے لیے فریقین کے درمیان کسی فریم ورک پر اتفاق ہو جائے تو آبنائے ہرمز کو ایران کے کنٹرول میں محدود پیمانے پر کھولا جا سکتا ہے۔ اس دوران تمام بحری جہازوں کے لیے ایرانی فوج کے ساتھ ہم آہنگی لازمی ہے۔

دوسری جانب ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت فوری طور پر معمول پر نہیں آئے گی بلکہ اعتماد کی بحالی میں کچھ وقت درکار ہوگا۔

بحری جہاز رانی کے معروف تجزیہ کار لارس جینسن نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں تاحال کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔ آنے والے دنوں میں خلیجی ممالک سے کچھ بحری جہاز باہر نکل سکتے ہیں۔

تاہم انھوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ زیادہ تر جہاز آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے گریز کریں گے کیونکہ جنگ بندی کے خاتمے کی صورت میں ان کے پھنس جانے کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔

عالمی شپنگ کمپنی مرسک کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود حالات میں مکمل بہتری نہیں آئی اور وہ اب بھی احتیاطی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

اسی طرح جرمن شپنگ کمپنی کا کہنا ہے کہ خطے میں استحکام آ بھی جائے تو بھی معمول کی صورتحال بحال ہونے میں 6 سے 8 ہفتے لگ سکتے ہیں۔

میرین انشورنس کمپنیوں نے بھی خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود خطرات ختم نہیں ہوئے جس کی وجہ سے جہاز رانی کی لاگت اور رسک اب بھی بلند سطح پر ہیں۔

وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک ہزار کے قریب بحری جہاز اب بھی خطے میں پھنسے ہوئے ہیں اور مکمل آپریشن بحال ہونے میں وقت لگے گا۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی کا اہم آبی راستہ ہے جسے ایران نے 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے بند کر رکھا تھا۔