اسلام آباد:
حکومت نے ملکی و بین الاقوامی تجارتی تنازعات کے حل کو مزید موٴثر اور شفاف بنانے کے لیے ٹریڈ ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیشن کو کم ازکم 5 ہزار امریکی ڈالر مالیت کے تنازعات کی سماعت کا اختیار دے دیا، اہم شق کے تحت 100 ملین امریکی ڈالر سے زائد مالیت کے تنازعات کو ہائی کورٹ کے کمرشل بینچ بھیجا جائے گا۔
وزارتِ تجارت کے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق ٹریڈ ڈسپیوٹ ریزولوشن رولز 2026 فوری طور پر نافذ العمل ہو گئے ہیں جن کا مقصد ملکی و بین الاقوامی تجارتی تنازعات کو تیزی سے حل کرنا ہے، نئے قواعد کے تحت ٹریڈ ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیشن کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کم از کم پانچ ہزار امریکی ڈالر مالیت کے تنازعات کی سماعت کر سکے گا، درخواستیں اب نہ صرف بذریعہ ڈاک بلکہ آن لائن اور ای میل کے ذریعے بھی جمع کرائی جا سکیں گی جبکہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے انٹرنیشنل سپورٹ ڈیسک کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
قواعد کے مطابق درخواست کے ساتھ تمام ضروری دستاویزات، ثبوت اور فیس جمع کروانا لازمی ہوگا، جبکہ تمام کارروائی انگریزی زبان میں ہوگی، کمیشن درخواستوں کی جانچ پڑتال کے بعد ناقص یا بے بنیاد کیسز کو مسترد کرنے کا اختیار بھی رکھتا ہے نئے نظام میں فریقین کو پہلے مرحلے میں مذاکرات کے ذریعے تنازع حل کرنے کی ترغیب دی جائے گی جس کے لیے 30 دن کی مدت مقرر کی گئی ہے، اگر فریقین باہمی رضامندی سے معاملہ حل نہ کر سکیں تو کیس کو مصالحت، ثالثی یا کمیشن کے حتمی فیصلے کے لیے بھیجا جا سکتا ہے۔
اہم شق کے تحت ایک سو ملین امریکی ڈالر سے زائد مالیت کے تنازعات کو ہائی کورٹ کے کمرشل بینچ کو بھیجا جائے گا جبکہ اس سے کم مالیت کے کیسز کو متبادل تنازع حل کے طریقوں کے تحت نمٹایا جائے گا۔
مزید برآں فریقین کو کمیشن کے فیصلے کے خلاف 15 دن کے اندر ہائی کورٹ میں اپیل کا حق بھی دیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نئے قواعد تجارتی ماحول کو بہتر بنانے، سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری اعتماد میں اضافے کا باعث بنیں گے۔