لاپتا افراد کے کمیشن کی سربراہی کیلیے سابق جج سپریم کورٹ کو نامزد کرنے کی منظوری

عدالتی و قانونی زبان میں صنفی امتیاز کے خاتمے کے لیے جینڈر فیئر لینگویج فریم ورک 2026ء کی بھی منظوری


کورٹ رپورٹر April 08, 2026
فوٹو: فائل

اسلام آباد:

نیشنل جوڈیشل کمیٹی نے لاپتا افراد کے کمیشن کی سربراہی کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جج کی نامزدگی کی منظوری دے دی۔

چیف جسٹس آف پاکستان کی زیرِ صدارت نیشنل جوڈیشل کمیٹی کا 59 واں اجلاس ہوا جس میں فیڈرل شرعی کورٹ اور تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس سمیت اٹارنی جنرل نے شرکت کی۔

اعلامیے کے مطابق اٹارنی جنرل نے آگاہ کیا کہ لاپتا افراد کے کمیشن کی سربراہی کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جج کی نامزدگی کی منظوری دے دی گئی ہے۔

دوران اجلاس ہائی کورٹس میں غیر ملکی ثالثی ایوارڈز، نیشنل ٹیرف کمیشن اور اینٹی ڈمپنگ کیسز کے لیے مخصوص بینچز کی تشکیل پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

کمیٹی نے مختلف کیٹیگریز کے مقدمات، خصوصاً پرانے وراثتی مقدمات کو نمٹانے میں ہائی کورٹس کی کارکردگی کو سراہا، پنجاب کی ضلعی عدلیہ نے 92 فیصد اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ نے ترجیحی کیسز میں 88 فیصد ڈسپوزل ریٹ حاصل کیا، سندھ، پشاور، بلوچستان اور اسلام آباد کی ہائی کورٹس نے 2019 تک کے تمام پرانے وراثتی مقدمات ختم کر دیے۔

کمیٹی نے جھوٹی اور بے جا مقدمہ بازی کی حوصلہ شکنی کے لیے قانون سازی اور پالیسی فریم ورک کی تیاری پر پیشرفت کا جائزہ لیا۔ اٹارنی جنرل نے بار کونسلز کی ہڑتالوں کے معاملے کو حل کرنے کے لیے طریقہ کار وضع کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

جیل خانہ جات کے نظام کو بین الاقوامی نیلسن منڈیلا رولز کے مطابق ڈھالنے کے لیے پرژن ریفارم ایکشن پلان کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے جون 2026ء میں جیل اصلاحات کے حوالے سے نیشنل کانفرنس منعقد کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔

عدالتی و قانونی زبان میں صنفی امتیاز کے خاتمے کے لیے جینڈر فیئر لینگویج فریم ورک 2026ء کی منظوری دے دی گئی۔ خواتین کو قانونی امداد، مشاورت اور ثالثی فراہم کرنے کے لیے ویمن فیسیلیٹیشن سینٹرز کے قیام کی توثیق کی گئی۔

عدالتی نظام میں ڈیٹا کی شفافیت کے لیے نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ کے گورننس فریم ورک کی منظوری دی گئی۔ کمیٹی نے ہائی کورٹس کو اندرونی نظم و نسق میں بہتری کے لیے ای آفس کے نفاذ پر غور کرنے کی ہدایت کی۔

بچوں کی والدین سے ملاقات کے لیے ڈسٹرکٹ کورٹس میں تعطیلات کے دوران بھی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ضلعی عدلیہ کی اصلاحات پر ججز سے فیڈ بیک لینے کے لیے ایک گمنام سروے کرانے کی ہدایت جاری کی گئی۔