آغا خان اسپتال کے ماہرینِ موذی امراض نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں پہلی بار نوزائیدہ بچوں میں بھی ایم پاکس کے کیسز سامنے آ رہے ہیں جس کی بڑی وجہ اسپتالوں میں صفائی اور آئسولیشن کے ناقص انتظامات ہیں جس سے مریض میں باآسانی دوسرے مریض کے جراثیم منتقل ہوجاتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اب ایم پاکس صرف بیرونِ ملک سے آنے والوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک کے اندر اس کے پھیلاؤ کا خدشہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔
ماہرِ اطفال و متعدی امراض ڈاکٹر فاطمہ میر نے آغا خان یونیورسٹی میں میڈیا راؤنڈ ٹیبل کے دوران بتایا کہ صوبہ سندھ کے علاقے خیرپور سے ایسے کیسز سامنے آئے ہیں جہاں بچوں میں بخار، کمزوری اور پانی سے بھرے دانوں جیسی علامات دیکھی گئی ہیں جبکہ بعض اموات بھی رپورٹ ہوئی ہیں منکی پاکس کی بیماری پہلے زیادہ تر بالغ افراد میں دیکھی جاتی تھی لیکن اب بچوں میں اس کا ظاہر ہونا سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوزائیدہ بچوں میں انفیکشن کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ اسپتالوں میں کراس انفیکشن ہو سکتی ہے جہاں صفائی اور آئسولیشن کے مؤثر انتظامات نہیں کیے جاتے۔ بیماری کے آغاز میں بخار، سستی اور کمزوری ظاہر ہوتی ہے، جس کے بعد جسم پر بڑے اور تکلیف دہ دانے نکلتے ہیں جو عموماً 2 سے 4 ہفتوں میں خود بھی ختم ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے ہدایت کی کہ جیسے ہی علامات ظاہر ہوں، مریض کو فوراً الگ کیا جائے اور متعلقہ حکام کو اطلاع دی جائے۔ گھروں میں بھی متاثرہ فرد کو الگ رکھنا ضروری ہے، خصوصاً اگر گھر میں کوئی فرد کمزور قوتِ مدافعت یا دائمی بیماری کا شکار ہو۔
اس موقع پر ماہرِ متعدی امراض ڈاکٹر فیصل محمود نے کہا کہ اب ایم پاکس صرف بیرونِ ملک سے آنے والے افراد تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک کے اندر اس کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ پاکستان میں 2025 کے دوران ایم پاکس کے 53 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں زیادہ تر بیرونِ ملک سفر سے متعلق تھے۔ تاہم، 2026 میں یہ رجحان تبدیل ہوتا نظر آ رہا ہے۔کراچی میں اس سال سامنے آنے والے دو تصدیق شدہ کیسز میں سے ایک مقامی سطح پر یعنی خیرپور کا ہے۔
ڈاکٹر فیصل محمود نے اسپتالوں میں ناقص انفیکشن کنٹرول پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض مقامات پر ایک ہی بستر پر دو مریضوں کو رکھا جاتا ہے یا بغیر صفائی کے نئے مریض کو منتقل کر دیا جاتا ہے، جو نہایت خطرناک عمل ہے اور بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتا ہے۔ایم پاکس کی علامات چکن پاکس سے ملتی جلتی ہوتی ہیں۔ تاہم، اس میں دانے ایک ہی ساتھ ایک عمر کے ہوتے ہیں ایک ہی مرحلے میں ظاہر ہوتے ہیں اور زیادہ تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ یہ بیماری قریبی جسمانی رابطے، آلودہ کپڑوں یا بستر کے ذریعے پھیلتی ہے، جبکہ طویل قریبی رابطے کے دوران سانس کی بوندوں سے بھی منتقل ہو سکتی ہے۔ اگرچہ زیادہ تر صحت مند افراد 2 سے 4 ہفتوں میں صحت یاب ہو جاتے ہیں، تاہم نوزائیدہ بچوں، حاملہ خواتین اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد میں بیماری زیادہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔
ڈاکٹر فیصل محمود نے کہا کہ اس وقت ایم پاکس کا مخصوص علاج پاکستان میں دستیاب نہیں اور مریضوں کا علاج علامات کے مطابق کیا جاتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سادہ احتیاطی تدابیر جیسے دستانے، ماسک، صفائی اور مؤثر انفیکشن کنٹرول کے نظام کے ذریعے اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔