بیڈمنٹن کی عالمی گورننگ باڈی نے روایتی پرندوں کے پروں سے بننے والے شٹل کاک کی بڑھتی قلت کے پیش نظر منتخب ٹورنامنٹس میں مصنوعی شٹل کاک کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برڈ فلو، بیڈمنٹن کی بڑھتی مقبولیت اور چین میں دوبارہ خنزیر کے گوشت کے استعمال میں اضافے جیسے عوامل کے باعث بطخ اور ہنس کے پروں سے تیار ہونے والے شٹل کاک کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
چین دنیا میں شٹل کاک بنانے والا سب سے بڑا ملک ہے، تاہم حالیہ برسوں میں وہاں پولٹری کی پیداوار مختلف بیماریوں کے باعث متاثر ہوئی ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر عالمی فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ گریڈ تھری اور جونیئر انٹرنیشنل مقابلوں میں مصنوعی شٹل کاک کا تجرباتی استعمال کیا جائے گا۔
اس دوران کھلاڑیوں، امپائرز اور منتظمین کی رائے کے ساتھ ساتھ کارکردگی سے متعلق ڈیٹا بھی جمع کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ روایتی شٹل کاک 16 پروں سے تیار ہوتی ہے، جو ایک ہی پرندے کے ایک ہی بازو سے لیے جاتے ہیں تاکہ اس کی پرواز اور گھومنے کی خصوصیات برقرار رہیں۔
حکام کے مطابق مصنوعی شٹل کاک کے استعمال پر تحقیق مستقبل میں کھیل کو زیادہ پائیدار بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔