کراچی:
سندھ ہائیکورٹ نے پاکستان اسٹیل ملز کے کوراٹرز کے رہائشیوں کی براہ راست کے الیکٹرک سے بجلی کی فراہمی سے متعلق درخواست پر کے الیکٹرک اور اسٹیل ملز کے سربراہان کو ایک ماہ میں عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کا حکم دے دیا۔
ہائیکورٹ میں پاکستان اسٹیل ملز کے کوراٹرز کے رہائشیوں کی براہ راست کے الیکٹرک سے بجلی کی فراہمی کی درخواست کی سماعت ہوئی۔
درخواست گزاد کے وکیل نے موقف دیا کہ مارچ 2025 کے عدالتی احکامات کے باوجود درخواست گزاروں کو براہ راست بجلی فراہم نہیں کی جا رہی۔ قانونی تقاضے مکمل کرنے کے باوجود کے الیکٹرک اور اسٹیل ملز انتظامیہ دانستہ تاخیر کر رہے ہیں۔ کے الیکٹرک کی جانب سے 90 کروڑ روپے لاگت کا تخمینہ بے بنیاد ہے۔ ریگولیٹڈ ٹیرف سے زائد وصولی توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔
کے الیکٹرک کے وکیل نے موقف دیا کہ پاکستان اسٹیل ملز کا بجلی کا نظام تکنیکی اور حفاظتی تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔ پاکستان اسٹیل ملزم کو نظام کی خرابیوں، بوسیدہ کھمبوں اور دیگر مسائل سے آگاہ کیا گیا ہے۔ پاکستان اسٹیل ملز کی جانب سے تعاون فراہم نہیں کیا گیا۔ براہ راست بجلی کی فراہمی میں تاخیر کی ذمہ داری اسٹیل ملز انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔
عدالت نے کے الیکٹرک اور پاکستان اسٹیل ملز انتظامیہ پر اظہار برہمی کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ تکنیکی اور انتظامی مسائل کی بنیاد پر عدالتی احکامات پر غیر معینہ مدت تک عمل درآمد مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔ درخواست گزاروں پر تکنیکی مسائل کو جواب بنا کر اضافی مالی بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا۔ کے الیکٹرک اور اسٹیل ملز کے سی ای اوز 30 روز میں درخواست گزاروں کو براہ راست بجلی کنکشنز فراہم کریں۔
عدالتی ریمارکس میں کہا گیا کہ بجلی کی فراہمی کے لئے تکنیکی مسائل کا مشترکہ جائزہ لیکر عارضی انتظامات کیے جائیں۔ براہ راست کنکشنز کی فراہمی تک درخواست گزاروں سے ٹیرف کے علاوہ کوئی اضافی چارجز وصول نا کیے جائیں۔ عدالتی احکامات پر عدم تعمیل کی صورت میں کے الیکٹرک اور اسٹیل ملز سربراہان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔ آئندہ سماعت پر عمل درآمد رپورٹ پیش کی جائے۔
عدالت نے کے الیکٹرک اور اسٹیل ملز کے سربراہان کو ایک ماہ میں عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کا حکم دے دیا۔