پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ آبادی پر ڈیٹا کا فقدان ہے، جرمن ماہر

جرمن ماہر ڈاکٹریان فرایئہارٹ کے مطابق پاکستان میں بھی قیمتی زرعی اراضی دریا برد ہورہی ہے جس پر تحقیق کی ضرورت ہے۔


سہیل یوسف April 10, 2026
ڈاکٹر یان ڈاکٹریان فرایئہارٹ نے مسلسل کئی برس تک بنگلہ دیش میں تحقیق کی ہے جس سے پاکستان بھی مستفید ہوسکتا ہے۔ تصویر: سہیل یوسف

جرمن ماہر ڈاکٹریان فرایئہارٹ کے مطابق پاکستان میں بھی قیمتی زرعی اراضی دریا برد ہورہی ہے جس پر تحقیق کی ضرورت ہے۔

ممتاز جرمن ماہر نے بنگلہ دیش میں ماحولیاتی شدت اور نقل مکانی پر طویل تحقیق کے بعد کہا ہے کہ یہ تحقیق پاکستان کے لیے دو طرح سے مفید ثابت ہوسکتی ہے، اول، دونوں ممالک میں طویل دریائی اراضی سیلاب سے کٹاؤ کا شکار ہوری ہے اور دوم موسمیاتی تبدیلیوں سے نقل مکانی بھی عام ہے۔

جامعہ کراچی میں واقع بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) میں یونیسکو چیئر کے تحت ایک معلوماتی لیکچر میں ای ٹی ایچ زیورخ، جرمنی کے ماہر ڈاکٹر یان فرایئہارٹ نے خصوصی لیکچر میں شرکا کو اپنی تحقیق سے آگاہ کیا۔ کئی برسوں کے سروے پر مشتمل تحقیق میں بنگلہ دیش کے سیلاب ، دریائی کٹاؤ اور انسانی نقل مکانی پر انہوں نے پیچیدہ تحقیق کو نہایت سادہ انداز میں پیش کیا۔

ڈاکٹر یان نے  پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ آبادی سے متعلق ڈیٹا کی عدم دستیابی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دریائی کناروں کا کٹاؤ ماحولیاتی تبدیلی کے نمایاں نتائج میں سے ایک ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بلوچستان، ساحلی سندھ اور گلگت  بلتستان سمیت کئی علاقے موسمیاتی تبدیلی کے باعث بتدریج لیکن تیزی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں سائنس کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے۔

”کلائمٹ چینج اور نقل مکانی و عدم نقل مکانی، بنگلہ دیش میں تحقیق اور پاکستان کے لیے مضمرات“ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے بعد وہ پاکستان میں ماحولیاتی اور آب و ہوا کے مسائل پر تحقیق کرنا چاہتے ہیں اور اس ضمن میں قراقرم یونیورسٹی سے فضائی آلودگی پر تحقیق شروع کی جارہی ہے۔

اپنی پریزینٹیشن میں انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش میں مون سون بارشوں میں شدت آرہی ہے۔ بالخصوص دریائے جمنا پر تحقیق میں دیکھا گیا کہ پانی کا بہاؤ زرعی اور رہائشی اراضی کو تیزی سے نگل رہا ہے۔ سروے اور سیٹلائٹ تصاویر سے اس کی تصدیق ہوئی ہے۔

اس کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد معاش اور تحفظ کے تحت محفوظ علاقوں تک نقل مکانی کرتی ہے خدشہ ہے کہ سال 2050 تک 36 لاکھ سے لے کر ایک کروڑ 33 لاکھ تک لوگ صرف بنگلہ دیش میں دربدر ہوسکتے ہیں۔ تاہم اس تناظر میں صرف وسائل والے افراد ہی کہیں جاسکتے ہیں جبکہ غریب افراد مجبوری میں وہیں پھنسے رہتے ہیں جس کے لیے "محصور آبادی" جیسی اصطلاحات استعمال جاتی ہے۔ دوسری جانب تحقیق بتاتی ہے کہ بعض لوگ رضاکارانہ اور غیر رضاکارانہ طور پر بھی اپنی سکونت تبدیل کررہے ہیں۔

ڈاکٹریان فرایئہارٹ نے سال 2022 تا 2024 کے تین سالہ سروے میں اپنے مطالعے میں 36 دیہات سے وابستہ 2200 افراد کے انٹرویو کئے تو انکشاف ہوا کہ کئی افراد نے بارش اور سیلاب کے باوجود جگہ نہیں بدلی اور مسلسل تین برس تک ان کے گھر تباہ ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ ایک دفعہ کی بارش سے 200 میٹر چوڑے کنارے پانی میں نمک کی طرح گھل کر ہمیشہ کے لیے غائب ہوگئے!

پاکستانی تناظر

اپنی گفتگو کے آخر میں ڈاکٹر فرائیہارٹ نے بتایا کہ یہ تحقیق پاکستان کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہے تاہم اس ضمن میں ڈیٹا کی شدید کمی ہے۔ اگر مناسب اعدادوشمار دستیاب ہوں تو اس سے امدادی اداروں اور پالیسی سازوں کو بہت مدد مل سکے گی۔ اس ضمن میں انہوں نے بار بارپاکستان کے لیے اپنے دستِ تعاون بڑھانے اور تحقیق میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر یان کے مطابق ان کی تحقیق پاکستان میں سیم و تھور کے مسائل سمجھنے، دریائی کٹاؤ، لوگوں کی نقل مکانی، شدید بارش اور سیلابی صورتحال کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔