مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال محض سرحدوں کی جنگ یا زمین کے ٹکڑے کے حصول کا تنازع نہیں رہی، بلکہ یہ ایک گہرے اخلاقی اور نظریاتی تصادم کی صورت اختیار کر چکی ہے جس کی جڑیں تاریخ، عقیدے اور مزاحمت کے ایک مخصوص فلسفے میں پیوست ہیں۔
اس پورے منظرنامے میں ایران کا نقطہ نظر ایک ایسے اخلاقی فریم ورک پر مبنی ہے جو دنیا کو دو واضح گروہوں، مستکبرین اور مستضعفین میں تقسیم کرتا ہے۔
اس نظریے کے تحت امریکا اور اسرائیل کو وہ متکبر (مستکبر)قوتیں قرار دیا جاتا ہے جو اپنی فوجی اور معاشی برتری کے زعم میں کمزور اقوام پر اپنی مرضی مسلط کرتی ہیں۔
ایران کے لیے یہ جنگ ایک تزویراتی ضرورت سے بڑھ کر ایک ابدی اخلاقی فریضہ ہے، جس کا نمونہ وہ واقعہ کربلا کی صورت میں اپنی تاریخ اور شعور میں محفوظ رکھتے ہیں۔
ان کے نزدیک مادی برتری یا عسکری ساز و سامان کسی قوم کی حتمی فتح کا فیصلہ نہیں کرتے، بلکہ حق پر ڈٹے رہنا اور باطل کے سامنے سر نہ جھکانا ہی وہ حقیقی اخلاقی فتح ہے جو کسی بھی زمینی شکست کو لافانی کامیابی میں بدل دیتی ہے۔
اس فکری ڈھانچے کا سب سے مضبوط ستون ’’شہادت کا فلسفہ‘‘ہے، جو موت کے روایتی تصور کو یکسر تبدیل کر دیتا ہے۔ ایرانی معاشرے اور ان کے ہم نوا گروہوں میں موت کا خوف ختم کر دینا ہی دشمن کی شکست کی پہلی سیڑھی تصور کیا جاتا ہے۔
جب ایک ماں اپنے لخت جگر کی قربانی پر نوحہ کرنے کے بجائے اسے فخر اور اعزاز قرار دیتی ہے، تو وہ درحقیقت دشمن کے سب سے بڑے نفسیاتی ہتھیار یعنی ’’موت کے ڈر‘‘ کو ناکارہ بنا دیتی ہے۔
یہی وہ جذبہ ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے لگی سخت ترین معاشی پابندیوں اور ہمہ وقت منڈلاتے فوجی حملوں کے سائے میں بھی انھیں اپنے موقف پر قائم رہنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ان کے نزدیک ایک ایسی زندگی جو غلامی اور سمجھوتے پر مبنی ہو، اس سے وہ موت ہزار درجہ بہتر ہے جو عزت اور خودداری کے ساتھ آئے۔
یہ فلسفہ محض جذبات تک محدود نہیں بلکہ یہ ان کے دفاعی اور سیاسی فیصلوں میں ایک عملی قوت بن کر ابھرا ہے، جس کا مقابلہ کرنا روایتی افواج کے لیے ایک مشکل ترین چیلنج ثابت ہو رہا ہے۔ علاقائی سطح پر ایران نے ’’محورِ مزاحمت‘‘ (Axis of Resistance) کے نام سے جو اتحاد قائم کیا ہے، وہ درحقیقت اسی نظریاتی اور اخلاقی ضرورت کی عملی شکل ہے۔
ایران کا یہ موقف کہ اسرائیل کا قیام ایک تاریخی ناانصافی اور فلسطینی زمین پر غاصبانہ قبضہ ہے، اسے ایک انسانی اور اسلامی بحران کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس تناظر میں حزب اللہ، حماس اور حوثی جیسے گروہوں کی حمایت ان کے نزدیک دہشت گردی نہیں بلکہ ایک جائز دفاعی جدوجہد ہے۔
ان کا یہ پختہ ایمان ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن تب تک ممکن نہیں جب تک بیرونی مداخلت کا خاتمہ نہیں ہوتا اور فلسطینیوں کو ان کا حق ِ خودارادیت نہیں مل جاتا۔ یہ اتحاد اب محض کاغذوں تک محدود نہیں رہا بلکہ حالیہ برسوں میں ایک مربوط اور فعال دفاعی نظام کی صورت میں سامنے آیا ہے، جہاں ایک محاذ پر ہونے والی کارروائی کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔
حالیہ غزہ اور لبنان کی جنگ نے اس نظریے کے عملی اثرات کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ پہلی بار یہ دیکھا گیا کہ ’’محورِ مزاحمت‘‘ کے تمام گروہوں نے ایک منظم اکائی کے طور پر کام کیا۔ غزہ میں حماس کی مدد کے لیے یمن، لبنان اور عراق سے ہونے والی کارروائیوں نے ’’ایک پر حملہ، سب پر حملہ‘‘ کے فلسفے کو حقیقت کا روپ دے دیا ہے۔
اس صورتحال نے اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کو ایک ایسی کثیر الجہتی جنگ میں الجھا دیا ہے جس کا حل روایتی فوجی طاقت سے ممکن نظر نہیں آتا۔
مزید برآں، اپریل 2024 میں ایران کا اسرائیل پر براہِ راست حملہ اس بات کا اعلان تھا کہ ’’تزویراتی صبر‘‘کی پالیسی اب ’’براہِ راست تصادم‘‘ میں بدل رہی ہے۔
اس اقدام نے اسرائیل کے ناقابلِ تسخیر ہونے کے افسانے کو پارہ پارہ کر دیا اور یہ ثابت کیا کہ ایران اب اپنے نظریات کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔اس جنگ کا ایک اور اہم رخ ’’بیانیے کی جنگ‘‘ میں آنے والی تبدیلی ہے۔
ایران اور اس کے اتحادیوں نے اس تنازع کو محض ایک علاقائی جنگ کے بجائے عالمی انسانی بحران کے طور پر پیش کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ آج دنیا بھر کے بڑے دارالحکومتوں اور مغربی دنیا کی نامور یونیورسٹیوں میں اسرائیل کے خلاف وہ آوازیں اٹھ رہی ہیں جو ماضی میں کبھی نہیں سنی گئیں۔
ایران کا یہ بیانیہ کہ یہ جنگ ’’انسانیت بمقابلہ ظلم‘‘ ہے، اب عالمی عوامی رائے عامہ کا حصہ بن رہا ہے۔ اس نظریاتی اثر نے امریکا اور یورپ کے اندر بھی ایک ایسی بحث چھیڑ دی ہے جس نے اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کو اخلاقی طور پر کمزور کر دیا ہے۔
یہ ایران کی وہ سفارتی اور نظریاتی فتح ہے جس نے اسے عالمی سطح پر مظلوموں کی آواز کے طور پر متعارف کروایا ہے۔معاشی محاذ پر یمن کے حوثیوں کے ذریعے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کی ناکہ بندی نے یہ ثابت کیا کہ مزاحمت کا یہ نظریہ عالمی معیشت کو متاثر کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
’’معاشی مزاحمت‘‘ کے اس نئے ہتھیار نے ثابت کر دیا کہ اگر مظلوموں پر بمباری بند نہیں کی گئی تو ظالموں کی معیشت بھی محفوظ نہیں رہے گی۔
اس حکمت عملی نے عالمی طاقتوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے مسائل کا حل صرف طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ عدل و انصاف کے قیام میں ہے۔ ایران کی یہ جنگ اب صرف جغرافیائی سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ انسانی شعور، عالمی معیشت اور بین الاقوامی سیاست کے ہر پہلو کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔
آخر کار، ایران کا یہ اخلاقی فریم ورک اس یقین پر قائم ہے کہ باطل کی طاقت چاہے جتنی بھی زیادہ کیوں نہ ہو، وہ عارضی ہے اور حق کو بالآخر غالب آنا ہے۔ یہ کالم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا بحران صرف ایک فوجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عظیم نظریاتی جنگ ہے، جہاں ایک طرف جدید ترین ٹیکنالوجی اور مادی برتری ہے تو دوسری طرف جذبہ شہادت اور ایک غیر متزلزل اخلاقی موقف۔ مستقبل کی تاریخ یہ فیصلہ کرے گی کہ اس ٹکراؤ نے عالمی نظم و ضبط کو کس طرح ایک نئی سمت عطا کی۔