جنگ،موسیقار اور عوام کے جنون اور جذبے کے سامنے ڈھیر پڑی تھی ،جنگ کی وحشت راگ ساز، تنبورے، ہارمونیم اورستار سے شکست کھا چکی تھی،موسیقی کے سر ایٹم کے دھویں کو شکستہ کرچکے تھے۔
بم کے آگ برساتے گولے سروں میں قید ہوکراپنے ’’آتشی قہر‘‘ کو برف کا گالہ کرنے پر مجبور کر دیے گئے تھے،یہ رات کا وہ پہر تھا کہ جس میں بچوں کی خوشیاں حیران کر رہی تھیں،یہ سب زندگی سے اپنے جینے کا وچن لے رہے تھے۔
رات کے پچھلے پہر کے گھونسلوں میں دبکے پرند موسیقی کے سروں سے لے اور تال ملارہے تھے،پرندے اپنے سکون کو امن پر قربان کرنے میں پر جوش تھے،تہران میں پیدا ہونے والا عالمی شش تار نواز ’’علی قمصری‘‘شش تار کے امن پسند اعتماد کے تحت جرات رندانہ کیے بے خوف و خطرایران کے ’’دماوند پاور پلانٹ‘‘کے سامنے جنگی جنوں کا شش تارے کے سروں سے مقابلہ کرنے کے لیے بیٹھ چکا تھا۔
اسے اپنے پر امن شش تارے کے سروں پر بھروسہ تھا کہ وہ جنگ کے آگ برساتے گولوں کو ’’امن ‘‘ کے لیے رام کر لے گا،علی قمصری کے اس جذبے کے ساتھ کمسن جوان بوڑھے اورخانمیں سب جڑ کر ’’جنگی جنون‘‘میں مبتلا قوتوں کے جب سامنے سینہ سپر ہو گئے تو دنیا بھر سے آواز آنے لگی کہ جنگی جنون ہار گیا جب کہ موسیقی اور عوام کے امن پسند جذبے جیت گئے۔
اس لمحے مجھے سالوں پہلے وہ فیصلہ یا جبر بالکل بے معنی لگا جب ایران میں 2020کے اوائل میں 30سالہ موسیقار مہدی رجبیان کو محض اس وجہ سے جیل بھیج دیا گیا تھا کہ اس کے گروپ میں خاتون گلوکار کیوں کام کررہی تھی،ایرانی موسیقار رجبیان احتجاج کرتا رہا کہ ’’میری آواز کو حکومت دبانا چاہتی ہے اور حکومت کا اصرار ہے کہ رجبیان موسیقی بنانا ترک کردے۔
‘‘رجبیان موسیقی کو زندہ رکھنے کے لیے دو بار جیل گیا اورایرانی حکومت کو سمجھاتا رہا کہ پوری کائنات کا امن موسیقی میں پنہاں ہے ،آج جنگ کی ہولناکی میں رجبیان کے قبیل اور قید کے ساتھی علی قمصری نے شش تار کے سر سنگیت جنگ روکنے کے جذبے کی طاقت دکھا دی ہے وہ ایک قابل تقلید اور جرات کا اظہار ہے۔
ایران کے ’’دماوند پاور پلانٹ‘‘ پر موسیقی سے جنگ کی وحشت ناکیوں کا مقابلہ امن و محبت کا وہ استعارہ ہے جس نے نہ صرف فارس کی معروف شاعرہ قرۃالعین طاہرہ کی آزادی پسند شاعری کی ترقی پسند سوچ کو زندہ کیا بلکہ علی شریعتی ایسے دانشور کی روشن خیال و امن پسند سوچ سے یہ پیغام دیا کہ سماج سے موسیقی،شاعری اور دانش کی قوت کو چاہتے ہوئے بھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔
تاریخ میں قربانی کے جذبے سے سرشارعمومی طور سے آپ کو اس مٹی کی دانش ہی ملے گی ،جو مٹی کی اہمیت و حیثیت کو سمجھتی ہو گی،کیا جنگ و جدل میں مصروف ملک ایران کے عالمی فلم سازاورایرانی محنت و مشقت پر مبنی فلم’’ٹیکسی‘‘ کے خیال کو مکالمے کی زبان دینے پر کینز فلم فیسٹیول میں بہترین اسکرین پلے کا ایوارڈ وصول کرنے والے’’ جعفر پناہی‘‘ کے مٹی سے وفا نبھانے کے اس کردار کو بھلایا جا سکتا ہے کہ جس کو حکومت نے سزاوار قرار دے کر ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔
جعفر پناہی کا قصور یہی تھا نا کہ وہ فلم سازی کے ذریعے ایرانی سماج کے ان محکوم کرداروں کی بات کرتا تھا جو بلاجواز حکومتی رضا کے بغیر اپنا حق اظہار برملا کیاکرتے تھے،ان کے دکھ اور المیوں کو مکالمے اور کرداروں کے باہم اشتراک سے دنیا کو بتانے والا ’’ جعفر پناہی ‘‘ ہی تھا جس کو عوام کی آزادی دلانے کی کوششوں کے تحت سزا کا مستحق اور غدار قرار دیا گیا تھا۔
مگر جب وطن کی مٹی کو جعفر پناہی کی ضرورت پڑی تو وہ اپنی سزا اور مقدمے کی پرواہ کیے بغیر مٹی کی سوگند بچانے بے خوف و خطر جنگ میں مبتلا ایران میں یہ کہتا ہوا داخل ہوا کہ’’میں اپنے ملک واپس جائوں گا اور وہی دکھ جھیلوں گا جو ایرانی عوام جھیل رہے ہیں،میں اپنی زمین اور اپنے لوگوں کے خلاف ہونیوالی جارحیت کے سامنے سینہ سپر رہوں گا۔‘‘ایسے لمحات کے لیے افتخار عارف نے درست ہی تو کہا ہے کہ
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے
ایران کی موجودہ جنگی صورتحال میں موسیقی،شش تارا،دانش،شاعری اور فلم سازی کا فن دستار کے مقابل فتح یاب ہوا اور طے کروایا کہ کسی بھی ملک کا ’’مزاحمتی کردار‘‘ ہی وطن پرست اور مٹی کا جانثار ہوا کرتا ہے،جس کو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والے کروفر حکمرانوں کی کمزور دانش نہیں سمجھ سکتی،عوام اور حکمرانوں کے درمیان عوام کی مزاحمتی تاریخ کا یہی وہ المیہ ہے جو عوام اور حکمرانوں میں دوری پیدا کرکے مزاحمت کو اب تک سر بلندکیے ہوئے ہے۔
اس موقع پر یہ بات یاد رکھی جائے کہ تاریخ کے سبق، انداز اور اس کے اپنے ہی مزاج ہوا کرتے ہیں اور تاریخ بار بار غلطی درست کرنے کا وقت بھی نہیں دیتی،آج کی دنیا کی دانش کا تقاضہ ہے کہ جنگی جنون سے نفرت اور عوام کی زندگی کو بموں میں جھونکنے سے پرہیز کیا جائے وگرنہ محکوم عوام کی تنگ دستی سرمائے اور طاقت کے سامنے جب سپر ہو جاوے گی تو نہ طاقت رہے گی،نہ سرمایہ کام آئے گا اور نہ ہی حکمرانوں کی عوام سے لوٹی ہوئی دولت انھیں بچا پائے گی۔
یاد رکھا جائے کہ عوام کی جمہوری آزادی کو طاقت کے زعم میں تاراج کرنے والے حکمران عوام کی بپھری ہوئی قوت کے سامنے صرف بے بس ہی دکھائی دیتے ہیں،یہ عوام کی طاقت کا وہ ’’نوشتہ مزاحمت ’’ہے جس کو طاقت کے بدمست حکمران جتنا جلد ہو سمجھ لیں۔
امریکا اور اسرائیل کی ایران پر مسلح جارحیت 40روز کے بعد وقتی جنگ بندی کی صورت میں اس وقت مذاکرات کے عمل میں ہے جس میں ثالثی کا کردار پاکستان ادا کر رہا ہے جب کہ امریکا و ایران کے مابین مستقل جنگ بندی کے لیے دونوں فریق اسلام آباد میں جمع ہو چکے ہیں جہاں دو روزہ مذاکرات کے بعد کسی ممکنہ مشترکہ اعلامیہ جاری ہونے کے امکانات پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔
یہاں سوال یہ ہے کہ کیا امریکا اور ایران کے مابین مذکورہ مذاکرات پہلے مرحلے میں طے ہو جائیں گے یا دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے وقت سے زیادہ مختلف مرحلوں میں مذکورہ مذاکرات پایہ تکمیل کو پہنچیں گے؟ دعا ہے کہ حالات جلد بہتر ہو جائیں۔
ابتدائی مذاکرات میں ایران کا زور یہ ہوگا کہ امریکا اسرائیل کو لبنان پر حملے کرنے سے روکے جب کہ امریکا کا زور اس بات پر زیادہ رہے گا کہ جلد سے جلد آبنائے ہرمز کو ایران سے بغیر کسی شرائط کے کھلوائے تاکہ امریکا کی عالمی اور معاشی تباہی کو جلد سے جلد استحکام ملے،تجزیاتی طور سے یہ دو ایسے ابتدائی نکات ہو سکتے ہیں جس کے مختلف مرحلے طے کرنے میں دو ہفتوں کی جنگ بندی میں توسیع کی جائے۔
اس اہم موقع پر دونوں فریق سفارتی محاذ پر کتنی لچک دکھا سکتے ہیں یہ تو مذاکرات کے پہلے دور کے بعد ہی طے ہو جائے گا مگر ان مذاکرات کے دوران امریکا اور ایران کو یہ بھی یاد رکھنا پڑے گا کہ اس جنگ کے مستقل خاتمے کی سب سے بڑے فریق دونوں ممالک کے وہ عوام ہیں، جس کی مزاحمت اور جنگ سے نفرت کے دبائو نے دونوں ممالک کو مذاکرات پر مجبور کیا ہے۔
مذاکرات کی ٹیبل پر اگر عوام کی معاشی اور سماجی آزادی کو فریق اول کے طور پر نہ رکھا گیا تو عوام کی مزاحمت کسی بھی فریق کی رجیم کے لیے درد سر ہوگی۔بس آخر میں یہی کہنا ہے کہ ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں روح تعمیر زخم کھاتی ہے۔