1998 کی ایک رات، دو الگ الگ سائنسی ٹیمیں کائنات کی رفتار کا حساب لگا رہی تھیں۔ انھیں پورا یقین تھا کہ کائنات پھیل تو رہی ہے، مگر آہستہ آہستہ سست ہو رہی ہوگی، مگر جب نتائج سامنے آئے تو سائنسدان ورطہ حیرت میں پڑ گئے۔
پتا چلا کہ کائنات دراصل سست نہیں، بلکہ تیز ہو رہی تھی۔ یہ دریافت کوئی عددی تعبیر نہیں تھی، بلکہ ایک فکری زلزلہ تھا۔ جس کے بعد سائنس کو ماننا پڑا کہ کائنات کا تقریباً 70 فی صد حصہ ایک ایسی پراسرار قوت پر مشتمل ہے جسے ہم نہ دیکھ سکتے ہیں، نہ چھو سکتے ہیں،اسے سائنس دانوں نیڈارک انرجی کا نام دیا۔
اس دریافت پر 2011 میں نوبل انعام بھی دیا گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب انسان کو پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ وہ جس حقیقت کو’’دیکھ‘‘رہا ہے، شاید وہ مکمل حقیقت نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوا: کیا ہم واقعی کائنات کو دیکھ رہے ہیں اور ویسا ہی دیکھ رہے ہیں جیسی کہ وہ ہے یا ہم صرف اپنی سمجھ کا عکس دیکھ رہے ہیں؟
ہم جانتے ہیں کہ پچھلی چند دہائیوں سے ’’ملٹی ورس‘‘ کا تصور سائنس کے ایوانوں میں ایک سحر بن کر گونج رہا ہے۔ یہ تصور دراصل ایک ریاضیاتی مجبوری سے پیدا ہوا۔
جب طبیعیات دانوں نے دیکھا کہ ہماری کائنات کے بنیادی ثوابت (کونسٹینٹ)اتنے باریک بینی سے متوازن ہیں کہ ذرا سی تبدیلی بھی زندگی کا وجود ناممکن بنا دیتی، تو ان کے پاس دو ہی راستے بچتے تھے یا تو وہ اسے کسی شعوری تخلیق کار کا ڈیزائن مان لیں یا پھر یہ فرض کر لیں کہ ایسی کھربوں کائناتیں موجود ہیں جن میں سے ایک ’’لاٹری‘‘اتفاقاً ہمارے نام نکل آئی ہے۔
’’ملٹی ورس‘‘ دراصل مادیت پرستی کا وہ آخری قلعہ ہے جہاں سائنسدانوں نے پناہ لی، لیکن اس میں ایک بنیادی خرابی تھی۔ یہ ناقابلِ مشاہدہ و تجربہ ہے۔ آپ اسے ثابت نہیں کر سکتے،لہٰذا یہ سائنس کم اور مابعد الطبیعیات زیادہ بن گئی۔
اب ’’جو مرچنٹ‘‘ ہمیں ’’پلوری ورس‘‘ کے نئے جال میں لے جاتی ہیں۔ آپ ایک صحافی اور مصنفہ ہیں۔’’ نیو سائنٹس ‘‘ جیسے موقر و وقیع سائنسی مجلے نے آپ کا مضمون اپنے 21 مارچ 26ء کی اشاعت میں سرورق کے مضمون کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس سے آپ موضوع اور مضمون کی اہمیت کا اندازہ کر سکتے ہیں اوریہ ملٹی ورس سے بھی زیادہ خطرناک اور دلچسپ موڑ ہے۔
اگر ملٹی ورس یہ کہتا تھا کہ ’’باہر بہت سی کائناتیں ہیں‘‘، تو پلوری ورس کہتا ہے کہ ’’باہر کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘’’جو مرچنٹ‘‘ کوانٹم فزکس کے ’’کیو بی ازم‘‘ اور نیورو سائنس کے ’’کنٹرولڈ ہیلوسینیشن‘‘ کا سہارا لے کر یہ استدلال پیش کرتی ہیں کہ حقیقت کوئی ایسی شے نہیں جو ہمارے مشاہدے سے آزاد باہر کہیں مو جود ہے۔
بلکہ حقیقت وہ ہے جو ہمارا دماغ حواس کے خام مال سے ’’تخلیق‘‘کرتا ہے۔ ان کے نزدیک کائنات کا کوئی ایک ورژن کوئی معروضی حقیقت موجود ہی نہیں ہے۔
جتنے مشاہدہ کار، اتنی حقیقتیں۔یہ استدلال سائنسی سے زیادہ صوفیانہ یا یونانی سوفسطائیت کے قریب ہے۔ سائنس کی پوری عمارت اس بنیاد پر کھڑی تھی کہ ایک ’’معروضی حقیقت‘‘ موجود ہے جسے ہم تجربے اور دلیل سے دریافت کر سکتے ہیں، اگر ہم یہ مان لیں کہ ہر انسان کا اپنا ’’پلوری ورس‘‘ ہے، تو پھر ’’سچ‘‘ نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔
یہ سائنسی مابعد جدیدیت ہے، جہاں کوئی بھی نظریہ غلط نہیں رہتا کیوں کہ ہر ایک کی اپنی ’’سچائی‘‘ ہوتی ہے۔’’جو مرچنٹ‘‘ جس نیورو سائنس کا حوالہ دیتی ہیں، وہ انسان کو اس کے اپنے ہی دماغ کے اندر قید کر دیتی ہے، اگر ہمارا ہر تجربہ ایک ’’کنٹرولڈ فریب‘‘ ہے، تو پھر ہم کائنات کو جاننے کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں؟
یہ تو ایسا ہی ہے کہ ایک قیدی اپنی کوٹھڑی کی دیواروں پر بنی تصویروں کو دیکھ کر کہے کہ یہ ہی پوری دنیا ہے۔ پلوری ورس کا تصور دراصل ان سوالات سے فرار ہے جن کا جواب فی الحال سائنس کے پاس نہیں ہے۔
جب ہم ڈارک میٹر، ڈارک انرجی اور کوانٹم الجھاؤ (کوائنٹم انٹلجن منٹ) کی وضاحت نہیں کر پاتے، تو ہم کہہ دیتے ہیں کہ ’’شاید حقیقت کا کوئی ایک رخ ہے ہی نہیں۔‘‘ یہ سائنسی عاجزی و نارسائی نہیں، بلکہ سائنسی تھکن ہو سکتی ہے۔’’جو مرچنٹ ‘‘کا پلوری ورس ہمیں ایک ایسی دنیا کی طرف بلا رہا ہے جہاں ہم سب اپنی اپنی حقیقتوں کے مالک ہیں۔
یہ سننے میں بہت خود اعتمادی والا لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ انسان کی سب سے بڑی تنہائی ہے۔سائنس کا سفر ’’واحد کائنات‘‘ سے شروع ہوا، ’’کثیر کائناتوں‘‘ (ملٹی ورس) سے گزرا اور اب ’’ذاتی کائناتوں‘‘ (پلوری ورس)کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ یہ سچ کی تلاش کا عروج نہیں، بلکہ سچائی کے اس بوجھ سے فرار ہے جسے اٹھانے کی سکت شاید جدید مادی سائنس میں باقی نہیں رہی۔
کائنات کی تفہیم اس لیے نہیں تھی کہ وہ ہماری مرضی کے مطابق ڈھل جائے، بلکہ اِسے اِس لیے سمجھنا تھا کہ ہم حقیقت جان سکیں۔ ’’پلوری ورس ‘‘کا تصور کائنات کو آئینہ بنانے کی کوشش ہے، جب کہ کائنات ایک ایسی کھڑکی تھی جس سے ہمیں پار دیکھنا تھا۔ اگر کھڑکی آئینہ بن جائے، تو سفر ختم ہو جاتا ہے اور انسان صرف اپنا عکس دیکھ کر ہی خود فریبی میں مبتلا رہتا ہے۔
مگر یہاں ایک اور آواز بھی ہے۔ایک پرانی، مگر غیر معمولی طور پر واضح آواز۔ یہ آواز ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کائنات کی وسعت جتنی بھی ہو، حقیقت بکھری ہوئی نہیں ہے۔یہ ’’توحید‘‘ کی صدا ہے، جو یہ نہیں کہتی کہ انسان غیر اہم ہے، یا اس کا شعور بے معنی ہے۔
بلکہ وہ انسان کو’’خلیفہ‘‘کا درجہ دیتی ہے،یعنی وہ اس کائنات میں شعوری کردار رکھتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے، سوچتا ہے، معنی اخذ کرتا ہے، مگر ایک بنیادی فرق کے ساتھ: انسان حقیقت کا خالق نہیں، اس کا پانیوالا ہے۔توحید یہ اعلان کرتی ہے کہ حقیقت ایک ہے، کیونکہ اس کا خالق ایک ہے۔
زاویے مختلف ہو سکتے ہیں، فہم مختلف ہو سکتی ہے، مگر حقیقت اپنی اصل میں منقسم نہیں ہوتی۔یہ وہ نکتہ ہے جسے جدید فکر کھو رہی ہے۔ جب سائنس غیر مرئی کائناتوں میں الجھتی ہے اور فلسفہ حقیقت کو مکمل طور پر نسبتی بنا دیتا ہے، تو انسان کے ہاتھ سے ’’یقین‘‘ پھسلنے لگتا ہے۔
آج کا انسان معلومات کے سمندر میں کھڑا ہے، مگر یقین کی ایک بوند کو ترس رہا ہے۔ اس کے پاس ڈیٹا ہے، مگر سمت نہیں۔ اس کے پاس زاویے ہیں، مگر مرکز نہیں۔ایسے میں سوال یہ نہیں کہ کائناتیں کتنی ہیں، یا حقیقت کتنے روپ رکھتی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا سچ ایک ہے یا نہیں؟یہ اعلان انسان کو محدود نہیں کرتا، بلکہ اسے انتشار سے بچاتا ہے۔ یہ اسے سکھاتا ہے کہ وہ کثرت میں وحدت تلاش کرے، نہ کہ وحدت کو کثرت میں گم کر دے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہم حقیقت کو نہیں پا سکے، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے یہ ماننا چھوڑ دیا ہے کہ حقیقت ایک ہو بھی سکتی ہے۔ملٹی ورس ہمیں کائناتوں میں پھیلا دیتا ہے، پلوری ورس ہمیں زاویوں میں تقسیم کر دیتا ہے،مگر توحید ہمیں ایک مرکز پر لا کھڑا کرتی ہے۔اور اسی میں نجات ہے کہ ہم سچ کوتخلیق کرنے کے بجائے، اسے پہچاننے کی عاجزی سیکھ لیں۔