مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان ایک ماہ سے زائد جاری رہنے والی کشیدگی اور عسکری محاذ آرائی کے بعد سامنے آنے والی حالیہ جنگ بندی اور مذاکراتی عمل نہ صرف خطے بلکہ عالمی نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب کرنے جا رہا ہے۔
یہ محض ایک جنگ بندی نہیں بلکہ طاقت، مزاحمت، سفارتکاری اور نئے عالمی توازن کی تشکیل کی کہانی ہے۔ ایران کی قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے جاری کردہ بیانیے کے مطابق، اس طویل اور فیصلہ کن جدوجہد میں ایران نے اپنے تقریباً تمام بڑے اہداف حاصل کر لیے ہیں۔
ایرانی عوام کی استقامت، میدانِ جنگ میں موجود افواج کی قربانیاں اور مسلسل مزاحمت نے مخالف قوتوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔ یہ دعویٰ اپنی جگہ، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ نے طاقت کے روایتی تصورات کو چیلنج کیا ہے۔
ابتدائی مراحل میں امریکا اور اس کے اتحادی بارہا جنگ بندی کی پیشکش کرتے رہے، مگر ایرانی قیادت نے واضح حکمت عملی اپناتے ہوئے ان تمام پیشکشوں کو اس وقت تک مسترد کیا جب تک اپنے بنیادی اہداف کے حصول کو یقینی نہ بنا لیا، اب جب کہ ایران خود کو ایک مضبوط پوزیشن میں دیکھتا ہے، اس نے عسکری محاذ سے سفارتی میدان کی طرف پیش قدمی کا فیصلہ کیا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ مذاکرات اسلام آباد میں ہو رہے ہیں، جہاں پاکستان ایک کلیدی ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ پاکستان کا کردار نہایت اہم رہا ہے، جس نے فریقین کے درمیان نہ صرف رابطہ قائم رکھا بلکہ ایک قابلِ اعتماد سفارتی پل کا کردار بھی ادا کیا۔
ایران نے مذاکرات کے لیے امریکا کے مجوزہ فریم ورک کو مسترد کرتے ہوئے اپنا ایک جامع دس نکاتی منصوبہ پیش کیا ، جو اس پورے عمل کی بنیاد رہا۔ اس منصوبے کے اہم نکات میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول، خطے میں امریکی افواج کا انخلا، ایران پر عائد تمام پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی واپسی، اور خطے میں جاری تنازعات خصوصاً فلسطین، لبنان اور یمن تنازعات کا خاتمہ شامل ہیں۔
اگر ان نکات کو دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ایران محض جنگ بندی نہیں بلکہ ایک وسیع تر جیوپولیٹیکل تبدیلی کا خواہاں ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی بات عالمی معیشت کے لیے انتہائی حساس ہے، کیونکہ یہ دنیا کی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔
دوسری جانب، اس پیش رفت پر اسرائیل کے حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، بعض اسرائیلی تجزیہ نگاروں نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ امریکی بیانیے میں نہ تو ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا ذکر ہے، نہ ایٹمی پروگرام کا، اور نہ ہی اس کے علاقائی اتحادیوں کا۔ اس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ امریکا اپنے ابتدائی اہداف سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کئی مبصرین اس پیش رفت کو ایران کی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ مزید برآں، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مستقبل کے کسی بھی معاہدے میں اسرائیل کو شامل نہ کرنا ایران کی ایک بڑی کامیابی ہے، جو خطے کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
ایرانی فوجی ترجمان کمانڈر ذوالفقاری کے مطابق، یہ کامیابی صرف ایران کی نہیں بلکہ پورے محورِ مقاومت کی مشترکہ جدوجہد کا نتیجہ ہے، جس میں لبنان کی حزب اللہ، عراق و شام کے مزاحمتی گروہ اور یمن کی قوتوں نے اہم کردار ادا کیا۔
اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ایران اس جنگ کو ایک وسیع علاقائی اتحاد کی کامیابی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔بعض بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال میں اصل نقصان خلیجی عرب ریاستوں کو اٹھانا پڑا ہے، جو اس تنازع میں معاشی دباؤ کا بھی شکار ہوئیں،اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ جنگ بندی ایک نئے عالمی توازن کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
ایران نے نہ صرف عسکری میدان میں اپنی موجودگی کا لوہا منوایا بلکہ سفارتی سطح پر بھی اپنی شرائط منوانے کی کوشش کی ہے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مذاکرات کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں، مگر یہ طے ہے کہ یہ مرحلہ انتہائی نازک اور فیصلہ کن ہے۔
آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ 21ویں صدی کی تاریخ میں ایران کو ایک ایسے ملک کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے عالمی طاقتوں کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کیا، تاہم اصل کامیابی کا تعین آنے والے دنوں میں ہوگا، جب یہ دیکھا جائے گا کہ کیا یہ جنگ بندی ایک مستقل امن کی شکل اختیار کرتی ہے یا محض ایک وقفہ ثابت ہوتی ہے۔
اس تمام عمل میںایران کا قومی اتحاد، داخلی استحکام اور دانشمندانہ سفارتکاری ہی وہ عناصر ہیں جو اس پیش رفت کو ایک دیرپا کامیابی میں بدل سکتے ہیں۔