امن مذاکرات اور تیل کی قیمتوں میں کمی

اسلام آباد میں ایران اور امریکا کا وفد جنگ بندی کے حوالے سے موجود ہے


ایڈیٹوریل April 12, 2026

پاکستان میں ایران امریکا جنگ کے حوالے سے تاریخ ساز امن مذاکرات کے ماحول میں ہی وزیر اعظم شہباز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ ڈیزل 135روپے جب کہ پٹرول 12 روپے فی لٹر سستا کر دیا گیا ہے۔ مٹی کے تیل اورلائٹ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے اگلے روز قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیزل کی نئی قیمت 385روپے اور پٹرول کی نئی قیمت 366روپے ہوگی۔ انھوں نے واضح کیا کہ وعدہ کیا تھا کہ جیسے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کم ہوگی، اس کا فائدہ عوام تک پہنچاؤں گا، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کچھ کمی ہوئی ہے ، لہٰذا فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر کے عوام کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ مہنگائی کو روکنے کے لیے حکومت نے 129 ارب روپے خرچ کیے تھے۔انھوں نے پٹرویم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے انکشاف کیا کہ مجھے کہا گیا کہ تیل کی قیمت میں کمی کا کچھ حصہ عوام تک پہنچایا جائے جب کہ کچھ حصہ اخراجات میں کمی پر لگایا جائے، میں نے یہ تجویز مسترد کردی ہے، انھوں نے وضاحت کی کہ میں نے خود مشاہدہ کیا ہے کہ عوام نے صبر اور تحمل سے مہنگائی کا بوجھ برداشت کیا ہے لہٰذا اب میری ذمے داری ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کا فائدہ عوام تک پہنچایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے دیگر ذرائع سے کچھ وسائل جمع کرکے اپنا بھرپور حصہ ڈالا، اس وقت کسان کے لیے لاگت کم کرنا بہت ضروری ہے۔ موٹرسائیکل، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کے لیے سبسڈی جاری رہے گی۔

خلیجی جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں کے حوالے سے جو مہنگائی دیکھنے میں آئی، وہ یقینا غیرمعمولی نوعیت کی ہے۔ پوری دنیا اس سے متاثر ہوئی ہے۔ اب جنگ بندی کے باعث معاملات کچھ بہتری کی طرف گامزن ہیں۔

اسلام آباد میں ایران اور امریکا کا وفد جنگ بندی کے حوالے سے موجود ہے۔ اسی دوران ایک اور اچھی پیش رفت یہ بھی ہوئی ہے کہ سعودی عرب نے مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو مکمل مالی معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔

سعودی عرب نے ایسے وقت میں مدد کا ہاتھ بڑھایا جب پاکستان تقریباً 5 ارب ڈالر کے قرضوں کی ادائیگیاں کر رہا ہے اور بڑھتی ہوئی درآمدی لاگت کے درمیان بیرونی کھاتے کو مستحکم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی وزیرِ خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان نے وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کی مسلسل اقتصادی و مالی معاونت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام اور حکومت ہر مشکل وقت میں اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی سمیت ہر شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق حکومتی حکام نے بتایا کہ سعودی وزیرِ خزانہ نے پاکستان کومکمل مالی معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے اور امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کے کردار پر مملکت کے اعتماد کا اعادہ کیا ہے۔

اگرچہ وزیرِ اعظم اور سعودی وزیرِ خزانہ کے درمیان وفود کی سطح پر ہونے والی ملاقات میں کسی مخصوص مالی تجاویز پر بات نہیں ہوئی، تاہم وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب دو روز قبل اپنے ہم منصب کے ساتھ ان تجاویز پر بات کر چکے تھے۔

پاکستان نے اس سے قبل سعودی عرب سے کم از کم 5 ارب ڈالر قرض اور مزید 1.2 ارب ڈالر سالانہ تیل کی مالی سہولت فراہم کرنے کی درخواست کی تھی، حکام کے مطابق پاکستان اس وقت 5 ارب ڈالر کے سعودی نقد ڈیپازٹ قرض سے بھی فائدہ اٹھا رہا ہے اور ذخائر کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کے لیے اس رقم کو کم از کم دوگنا کرنے کا خواہاں ہے۔

پاکستان اس ماہ 4.8 ارب ڈالر کا قرض واپس کر رہا ہے جس میں متحدہ عرب امارات کا واجب الادا 3.5 ارب ڈالر بھی شامل ہے۔ کسی بھی نئے قرض کی عدم موجودگی میں زرمبادلہ کے ذخائر 11.5 ارب ڈالر تک گر سکتے ہیں۔ اس سے قبل وزیرِ اعظم شہباز شریف کو مقامی آئل ریفائنریوں سے بھی ریلیف حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی جنھوں نے رضاکارانہ طور پر اپنے غیر متوقع منافع کا ایک حصہ واپس کر دیا، جسے بعد ازاں وزیر اعظم نے پٹرولیم قیمتوں میں کمی کی صورت میں صارفین تک منتقل کر دیا۔

پانچ آئل ریفائنریوں نے ایک ہفتے کے لیے ڈیزل پر مجموعی ریفائنری مارجن میں فی بیرل 70 ڈالر کی رعایت اور پٹرول پر فی بیرل 15 ڈالر کی رعایت چھوڑنے پر اتفاق کیا۔پاکستان نے حالیہ مشکل حالات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

خلیج کی جنگ کے حوالے سے بھی پاکستان کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ اسلام آباد میں حالیہ تاریخ کے اہم ترین مذاکرات اس امر کی دلیل ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سمت درست ہے۔

اگلے روز ہی برطانوی ہم منصب کیئر اسٹارمر نے ٹیلی فون کیا اورامریکا، ایران جنگ بندی کے لیے موثر سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اسلام آباد میں امن مذاکرات کی میزبانی پرمبارکباد دیتے ہوئے کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

یہ ساری چیزیں ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان کی عوام اور کاروباری طبقے نے بھی حالات کی نزاکت کو سمجھا ہے۔ پاکستان کے متوسط طبقے نے ذمے داری کا مظاہرہ کیا ہے اور حکومت کے ہر فیصلے کو تسلیم بھی کیا ہے۔

حکومت نے بھی جیسے ہی موقع ملا، عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔ قوم کو امید ہے کہ اسلام آباد مذاکرات میں اچھی پیش رفت سامنے آئے گی اور جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا کے حالات میں بھی بہتری آئے گی جب کہ پاکستان میں بھی مہنگائی کی لہر میں کمی آئے گی۔

پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں استحکام دیکھنے میں آئے گا۔ پاکستان نے اس مشکل وقت میں بہتر منصوبہ بندی کر کے معیشت کو بھی مستحکم رکھا ہے جب کہ ملک کے اندر سیاسی استحکام بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

اسلام آباد میں امن مذاکرات بھی تاریخ ساز ہیں۔ اس سے پاکستان کے عالمی وقار میں بہت زیادہ ہو رہا ہے۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ ڈپلومیسی کے میدان میں عالمی سطح پر ایک قابل اعتماد ریاست ہے اور عالمی تنازعات کے سلسلے میں پاکستان کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔

پاکستان نے اپنے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو پہلے سے بہت بہتر بنایا ہے۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کا کردار بہت اہم ہے۔ سعودی عرب کے وزیر خزانہ کا حالیہ دورہ پاکستان اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان غیرمعمولی تعلقات ہیں۔

پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانے کے لیے سعودی عرب نے جو کردار ادا کیا ہے، وہ بھی ایک حقیقی دوست ملک کے طور پر یاد رکھے جانے کے قابل ہے۔ پاکستان کی معیشت کو اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔

سعودی عرب کا تعاون اس سلسلے میں ایک رہنما کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کے کاروباری طبقے کو بھی مکمل ذمے داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ توانائی کی بچت کر کے پاکستان اپنے بہت سے معاملات پر قابو پا سکتا ہے۔

پاکستان نے اپنی عالمی ذمے داریوں کو بااحسن طریقے سے نبھایا ہے۔ اگر ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی ہوتی ہے تو اس سے کاروباری سرگرمیوں میں استحکام آئے گا۔ خاص طور پر کنسٹرکشن انڈسٹری اس سے بہت زیادہ فوائد سمیٹے گی۔

کنسٹرکشن انڈسٹری پاکستان میں سکلڈ اور غیرسکلڈ روزگار کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اگر یہ انڈسری چلتی رہتی ہے تو پاکستان میں روزگار بھی چلتا رہے گا۔ دوسری جانب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں عالمی امن مذاکرات پاکستان کے عالمی امیج میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

پاکستان کو جو پذیرائی ملی ہے، اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ حالات ایسے بن گئے ہیں کہ جس سے دنیا کی بڑی سے بڑی معیشتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو اہے۔ حتیٰ کہ امریکا جیسا ملک جو دنیا بھر میں تیل کے ذخائر کے لیے مشہور ہے، وہاں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا ہے۔

اسلام آباد امن مذاکرات دنیا میں معاشی استحکام کے لیے کلیدی کردار ادا کریں گے۔ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کا اپنے وفد کے ساتھ پاکستان کا دورہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ دنیا کی سپرپاور کا پاکستان پر اعتماد ہے۔

اسی طرح ایرانی وفد کا پاکستان میں آنا بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ایران کا بھی پاکستان پر اعتماد ہے۔ بھارت جس طریقے سے پاکستان کے بارے میں پروپیگنڈا کر رہا ہے، اس سے بھارتی مایوسی جھلک رہی ہے۔ بھارت کی بی جے پی حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث بھارت اس وقت عالمی تنہائی کا شکار ہے۔

پاکستان میں امن مذاکرات ہو رہے ہیں جب کہ بھارت کو کوئی پوچھ بھی نہیں رہا۔ یہ صورت حال بھارت کی قیادت کے لیے سوہان روح بھی ہوئی ہے۔ بھارت جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے، وہ اس وقت اپنی غلط پالیسیوں کے باعث اپنی اہمیت کھو چکا ہے۔ اس کا اظہار بھارتی میڈیا بھی کر رہا ہے۔