بین الاقوامی سیاست کے وسیع اور پیچیدہ منظرنامے میں بعض لمحات ایسے بھی آتے ہیں جب تاریخ اپنے دھارے کو معمول سے ہٹ کر ایک نئے رخ پر ڈالتی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ مواقع ہوتے ہیں جب طاقت کی روایتی تعریفیں، عسکری برتری کے تصورات اور اقتصادی غلبے کے پیمانے کسی قدر پس منظر میں چلے جاتے ہیں، اور ان کی جگہ فہم و فراست، تحمل، سفارتی مہارت اور توازن کی وہ باریک قوتیں نمایاں ہو جاتی ہیں جو بظاہر دکھائی نہیں دیتیں مگر اپنے اثر میں کہیں زیادہ گہری اور دیرپا ہوتی ہیں۔ حالیہ عالمی حالات میں پاکستان نے جس انداز سے خود کو منوایا ہے، وہ اسی خاموش مگر موثر قوت کا مظہر ہے، ایک ایسا کردار جس نے نہ صرف خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے میں مدد دی بلکہ دنیا کو یہ احساس بھی دلایا کہ امن کی کوششیں محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی شکل بھی اختیار کر سکتی ہیں۔
اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے طویل، پیچیدہ اور اعصاب شکن مذاکرات کا اختتام بظاہر کسی حتمی معاہدے کے بغیر ہوا، مگر اس منظر کو محض ایک سفارتی ناکامی کے طور پر دیکھنا سطحی اور جانبدارانہ تجزیہ ہوگا۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ اکیس گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والی یہ بات چیت دراصل ایک ایسے عمل کا حصہ ہے جو فوری نتائج کے بجائے تدریجی پیش رفت پر یقین رکھتا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ کہنا کہ وہ بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہے ہیں، ایک رسمی اعلان ضرور ہے، لیکن اس کے اندر وہ خاموش اشارہ بھی موجود ہے کہ دروازے بند نہیں ہوئے، راستے مسدود نہیں ہوئے اور بات چیت کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے جس انداز میں جزوی پیش رفت کا اعتراف کیا، وہ بھی سفارت کاری کی اسی باریک بینی کی عکاسی کرتا ہے جہاں مکمل اتفاق رائے نہ ہونے کے باوجود پیش رفت کو تسلیم کیا جاتا ہے تاکہ مستقبل کی راہیں ہموار رہیں۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں پاکستان کا کردار محض ایک میزبان سے بڑھ کر ایک فعال مصالحت کار کا بن جاتا ہے۔
اس نے نہ صرف فریقین کو ایک جگہ جمع کیا بلکہ ایسا ماحول بھی فراہم کیا جہاں سخت ترین مؤقف رکھنے والے ممالک بھی نسبتاً نرم لہجے میں گفتگو پر آمادہ ہوئے۔نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے جنگ بندی برقرار رکھنے اور مذاکرات کے تسلسل پر زور دینا دراصل پاکستان کی اس پالیسی کی عکاسی ہے جس میں جذبات کے بجائے حکمت اور وقتی فائدے کے بجائے طویل المدتی استحکام کو ترجیح دی جاتی ہے۔ پاکستان نے اس پورے عمل میں جس غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا، وہ اس کی سفارتی کامیابی کی بنیاد ہے۔
عالمی سیاست میں ثالثی کا کردار اسی وقت معتبر ہوتا ہے جب ثالث کسی ایک فریق کا حامی نہ بنے بلکہ دونوں کے لیے یکساں قابل قبول ہو۔ پاکستان نے اسی اصول کو نہایت مہارت سے اپنایا اور یہی وجہ ہے کہ اسے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔یہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ بیان بھی اہمیت اختیار کر جاتا ہے جس میں انھوں نے مذاکرات کے نتائج سے بظاہر بے نیازی کا اظہار کیا۔ اس بیان کو اگر سطحی انداز میں دیکھا جائے تو یہ لاتعلقی محسوس ہوتی ہے، مگر گہرائی میں جائیں تو یہ عالمی سیاست کی اس پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے جہاں بیانات اور حقیقی حکمت عملی ہمیشہ ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ٹرمپ کا یہ مؤقف دراصل داخلی سیاسی تقاضوں، عالمی دباؤ اور اسٹرٹیجک ترجیحات کے درمیان ایک توازن قائم رکھنے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔
اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ امریکا نے پاکستان کی میزبانی میں ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کیے، جو بذات خود پاکستان کی سفارتی حیثیت کا ایک واضح اعتراف ہے۔اس پورے عمل کو اگر وسیع تر علاقائی تناظر میں دیکھا جائے تو اس کے اثرات محض پاکستان، ایران اور امریکا تک محدود نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ، خلیجی خطے اور حتیٰ کہ عالمی سیاست تک پھیلے ہوئے ہیں۔ تل ابیب میں بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف ہونے والے بڑے پیمانے پر احتجاج اس امر کی علامت ہیں کہ جنگی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل شدت اختیار کر رہا ہے۔ یہ احتجاج صرف ایک ملک کا داخلی معاملہ نہیں بلکہ ایک عالمی رجحان کی عکاسی کرتے ہیں جہاں عوام اب تصادم کے بجائے امن، استحکام اور بہتر طرزِ حکمرانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کا ایک اور اہم پہلو اس کا علاقائی توازن ہے۔ ایک طرف ایران کے ساتھ اس کے تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی تعلقات ہیں، جب کہ دوسری طرف امریکا کے ساتھ اس کے تعلقات میں پیچیدگی کے باوجود ایک اسٹرٹیجک اہمیت موجود ہے۔ ان دونوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ایک نازک کام ہے، مگر پاکستان نے اسے نہایت دانشمندی سے انجام دیا ہے۔ یہی توازن مستقبل میں اسے مزید اہم کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے، خصوصاً ایسے حالات میں جہاں ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی کے امکانات موجود رہتے ہیں۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے اس پورے معاملے میں جذباتی یا وقتی فیصلوں کے بجائے ایک طویل المدتی حکمت عملی کو اپنایا، اگر وہ کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑا ہو جاتا تو شاید وقتی طور پر کچھ فوائد حاصل ہو جاتے، مگر اس کا ثالثی کردار ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا۔ اس کے برعکس، غیر جانبداری اختیار کرکے پاکستان نے نہ صرف اپنی ساکھ کو مضبوط کیا بلکہ خود کو ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر بھی منوایا۔ بھارت کی سفارتی پوزیشن اس تمام منظرنامے میں کمزور دکھائی دیتی ہے۔
خود کو عالمی رہنما کے طور پر پیش کرنے والی قیادت کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے کہ ایک اہم علاقائی اور عالمی معاملے میں اس کی کوئی نمایاں موجودگی نہیں رہی۔ بھارتی اپوزیشن کی جانب سے اٹھنے والی تنقید اسی خلا کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں پاکستان نے اپنی جگہ بنائی اور عالمی توجہ حاصل کی۔ یہ صورتحال اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ محض دعوے اور نعروں سے عالمی سیاست میں مقام حاصل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات اور موثر حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اقتصادی پہلو سے دیکھا جائے تو پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاک ایران ٹرانزٹ کوریڈور کے تحت تجارتی سرگرمیوں کا آغاز اور وسطی ایشیا تک رسائی کے نئے امکانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ امن اور سفارت کاری کا براہِ راست تعلق معاشی ترقی سے ہوتا ہے۔ جب خطے میں کشیدگی کم ہوتی ہے تو سرمایہ کاری کے مواقع بڑھتے ہیں، تجارتی راستے کھلتے ہیں اور علاقائی تعاون کو فروغ ملتا ہے۔
یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا پاکستان اس کامیابی کو مستقل پالیسی میں تبدیل کر سکے گا؟ سفارت کاری میں ایک کامیاب لمحہ جتنا اہم ہوتا ہے، اس سے کہیں زیادہ اہم اس کامیابی کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں تسلسل، لچک اور حقیقت پسندی کو برقرار رکھے۔ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں وہی ممالک کامیاب ہوتے ہیں جو اپنی حکمت عملی کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کی ذمے داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ اس عمل کو جاری رکھنے کے لیے اپنی کوششیں برقرار رکھے۔عالمی برادری کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا اب اسے ایک ذمے دار اور مؤثر کردار کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ یہ ایک قابل فخر لمحہ ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک بڑی ذمے داری بھی ہے۔ اس تاثر کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو نہ صرف اپنی موجودہ پالیسیوں کو جاری رکھنا ہوگا بلکہ انھیں مزید بہتر بھی بنانا ہوگا۔تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان نے ماضی میں بھی کئی مواقع پر اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے، مگر حالیہ کامیابی اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا شدید تقسیم اور عدم استحکام کا شکار ہے۔
ایسے ماحول میں کسی بھی ملک کا مصالحت کار کے طور پر ابھرنا ایک بڑی کامیابی تصور کی جاتی ہے۔مستقبل کے امکانات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اگر اسی حکمت عملی کو برقرار رکھتا ہے تو وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم ثالث کے طور پر اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی غیر جانبداری، توازن اور مکالمے کے اصولوں پر قائم رہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان نے حالیہ سفارتی کاوشوں کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ امن کا راستہ اگرچہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے جس پر چلنے کے لیے صبر، حکمت اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔
پاکستان نے اس راستے پر ایک اہم قدم اٹھایا ہے، اب یہ عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ اس قدم کو آگے بڑھائے اور دنیا کو ایک زیادہ محفوظ، مستحکم اور پرامن مقام بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔یہ امر اس حقیقت کا عکاس ہے کہ عالمی سیاست میں اصل کامیابی وہی ہوتی ہے جو انسانیت کے مفاد میں ہو، جو جنگ کے امکانات کو کم کرے اور جو مکالمے کے دروازے کھلے رکھے۔ پاکستان نے اس سمت میں ایک قابل ذکر پیش رفت کی ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب اسے عالمی امن کے قیام میں ایک مرکزی کردار کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔