ماہ اپریل 1919 کا زمانہ تھا، برصغیر پر برٹش سرکار کا سامراجی نظام قائم تھا۔ یہ بات دیگر تھی کہ برصغیر میں آزادی کی لہر بیدار ہو چکی تھی اور پنجاب کے لوگوں نے میدان عمل میں قدم رکھ دیے تھے۔ دوسری جانب گورنر پنجاب جنرل ڈائر بھی تمام حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے تھا۔ چنانچہ پنجاب کے عوام کی آواز کو دبانے کے لیے جنرل ڈائر نے بزور قوت نمٹنے کا فیصلہ کیا اور ایک قانون رولز ایکٹ پنجاب بھر میں نافذ کر دیا۔
اس قانون کے تحت پنجاب پولیس کو یہ اختیار حاصل ہو گیا تھا کہ وہ جس شہری کو جب چاہے گرفتار کر سکتی تھی اور اپنی حراست میں جب تک چاہے رکھ سکتی تھی، کوئی وجہ بتانا بھی ضروری نہ تھا۔ ان حالات میں پنجاب کے لوگوں میں غم و غصہ پایا جانا فطری عمل تھا، چنانچہ 9 اپریل 1919 کو رام جل تہوار تھا لیکن لوگوں کے اجتماعات پر حکومت پنجاب نے پابندی لگا دی۔
10 اپریل کو بھرپور احتجاج ہوا، بالخصوص امرتسر میں حکومت پنجاب نے قوت کا بے دریغ استعمال کیا، بہت سارے لوگ جاں بحق ہوئے 11 اپریل کو پورے امرتسر میں یوم سوگ منایا گیا۔ 12 اپریل کو بھی امرتسر شہر میں حالات کشیدہ رہے۔ 13 اپریل کو وساکھی کا میلہ تھا مگر حکومت پنجاب نے قوت کے زور سے یہ روایتی میلہ جلد ختم کروا دیا۔
دوسری جانب گولڈن ٹیمپل سے چند قدم دوری پر جلیانوالہ باغ میں احتجاج کا اعلان ہو چکا تھا چنانچہ وساکھی کے میلے میں آئے لوگ اس احتجاج میں شرکت کی غرض سے چلے آئے۔ احتجاج کرنے والوں میں ہندو، مسلم، سکھ سبھی شریک تھے۔ اس کیفیت میں گورنر پنجاب جنرل ڈائر کے حکم سے پولیس جلیانوالہ باغ میں داخل ہو گئی اور بلااشتعال فائرنگ کر دی۔ 1900 لوگوں کو گولیاں ماری گئیں، 400 افراد جاں بحق ہوئے، 1500 افراد زخمی ہوئے، ان لوگوں میں بزرگ، بچے، خواتین، نوجوان سبھی شامل تھے۔ ہم نے مختصر ترین الفاظ میں کوشش کی ہے کہ جلیانوالہ باغ سانحہ کا ذکر کریں۔ جنرل ڈائر اس سانحے کے بعد برطانیہ واپس چلا گیا۔
اس پر فرضی مقدمہ بھی چلایا گیا لیکن اسے بری کر دیا گیا۔ برٹش سرکار نے یہ تاثر دیا کہ جنرل ڈائر نے پنجاب فتح کر لیا ہے، مگر حقیقت یہ تھی کہ جنرل ڈائر نے ہندوستان کھو دیا تھا۔ البتہ ان تمام حالات میں ایک نام بڑے واضح طور پر ہمارے سامنے آتا ہے اور وہ نام ہے ادھم سنگھ کا۔ ادھم سنگھ اس سانحے کے وقت وہاں موجود تھا اور اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ احتجاج میں شریک لوگوں کو پانی پلا رہا تھا۔ ادھم سنگھ نے تمام حالات خود دیکھے تھے اس نے عہد کیا کہ اس قتل عام کے بدلے جنرل ڈائر کو لازمی قتل کرے گا۔
چنانچہ قبل اس کے وہ برطانیہ جاتا وہ پنجاب بھر میں برٹش سرکار مخالف پر تشدد تحریک میں شریک ہو گیا ایک اور حریت پسند رہنما کا ذکر یہاں بے محل نہ ہوگا۔ وہ تھا بھگت سنگھ جوکہ سانحہ جلیانوالہ باغ کے وقت 12 برس کی عمر میں اپنے بزرگوں کے ساتھ وہاں موجود تھا اور تمام حالات کا چشم دیدگواہ بھی تھا۔ بھگت سنگھ نوجوانی میں قدم رکھتے ہی آزادی کی تحریک میں شریک ہو گیا تھا۔ بھگت سنگھ اور ادھم سنگھ دونوں نے مل کر برٹش سرکار مخالف تحریک میں بھی حصہ لیا۔ 23 مارچ 1931 کو جس روز بھگت سنگھ کو پھانسی دی گئی اسی روز ادھم سنگھ کو رہا کر دیا گیا یہ دونوں منٹگمری جیل میں بھی ایک ساتھ رہے۔ ادھم سنگھ و بھگت سنگھ سرابھا سنگھ و مدن لال ٹھیکرے کی جدوجہد سے بے حد متاثر تھا۔
اس دوران ادھم سنگھ کے ماموں اور ممانی نے اس کی شادی کے لیے کوششیں کیں مگر وہ بات کو ٹال جاتا۔ البتہ 1934کو ادھم سنگھ برطانیہ پہنچ گیا وہاں اس کی ملاقات کامریڈ چون اور کامریڈ صورت علی سے ہو گئی اگرچہ اور لوگ بھی تھے جوکہ برصغیر کی آزادی کے لیے کوششیں کر رہے تھے۔ اب ادھم سنگھ کا سارا وقت ان لوگوں کے ساتھ گزرنے لگا۔ لندن ہی میں ادھم سنگھ کی ملاقات ایک جرمن لڑکی سے اتفاقیہ ہو گیا۔ بعدازاں معلوم ہوا کہ وہ ترقی پسند نظریات رکھنے والی ایک کامریڈ ہے چنانچہ ان دونوں کے درمیان گہری دوستی قائم ہو گئی۔ ادھم سنگھ نے اس جرمن لڑکی کو اپنے ارادے سے مطلع کر دیا کہ وہ لندن کس مقصد سے آیا ہے اس جرمن لڑکی نے ادھم سنگھ کا بہت ساتھ دیا اور اس جرمن لڑکی نے ادھم سنگھ کو جنرل ڈائر کے گھر ملازمت بھی دلا دی۔
ادھم سنگھ اگر چاہتا تو آسانی سے جنرل ڈائر کو قتل کر دیتا مگر اس کا موقف تھا کہ اس طرح یہ خیال کیا جائے گا کہ ایک ملازم نے اپنے مالک کو ذاتی رنجش کی بنا پر قتل کر دیا۔ ادھم سنگھ چاہتا تھا کہ جنرل ڈائر کے قتل کا چرچہ پوری دنیا میں ہو اور لندن کی عدالت میں بھرپور دلائل دیے چنانچہ بالآخر 12 مارچ 1940 کو ادھم سنگھ کو یہ معلوم ہو گیا کہ کل 13 مارچ کو جنرل ڈائر ساؤتھ کنگسٹن ہال لندن میں ایک لیکچر دے گا۔ ادھم سنگھ نے اس خوشی میں اپنے ساتھیوں کو مٹھائی کھلائی، سب نے مٹھائی کھلانے کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی مگر ادھم سنگھ نے کسی کو نہیں بتایا کہ وہ آنے والی کل کیا کرنے جا رہا ہے۔
چنانچہ 13 اپریل 1940 کو وہ پوری تیاری کے ساتھ ایک کتاب کے اندر اپنی پستول رکھ کر کنگسٹن ہال میں لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔ جنرل ڈائر کو دعوت خطاب دی گئی اس نے چند الفاظ ہی ادا کیے تھے کہ ادھم سنگھ نے فائرنگ کر دی۔ جنرل ڈائر زمین بوس ہو گیا اور چند لمحوں کے بعد اس کا کھیل تمام ہوا۔ پوری دنیا میں ایک شور برپا ہو گیا، کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم چیمبرلین نے اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا۔ ناکامی یہ کہ وہ جنرل ڈائر کی حفاظت یقینی نہ بنا سکے۔ پورے ہندوستان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، البتہ موہن داس کرم چند گاندھی جی نے جنرل ڈائر کی موت پر اظہار افسوس کیا اور برطانوی حکومت سے تعزیت بھی کی۔ گاندھی جی شاید بھول گئے تھے کہ جنرل ڈائر چار سو ہندوستانیوں کا قاتل تھا۔
لندن میں مقیم صورت علی کامریڈ وچون و دیگر ہندوستانیوں نے ادھم سنگھ کو سزا سے بچانے کی کوشش بھی کی اور ایک ایڈووکیٹ کا انتظام بھی کیا مگر ادھم سنگھ کا اسرار تھا کہ میں نے جنرل ڈائر کو قتل کیا ہے جو سزا دینی ہے دو۔ وہ مسلسل عدالت و مجسٹریٹ کی توہین بھی کرتا رہا۔ مجسٹریٹ نے ادھم سنگھ کو سزائے موت سنا دی۔ سزا سن کر وہ انقلاب زندہ باد کے نعرے لگاتا رہا۔ یہ ضرور تھا تمام تر عدالتی کارروائی کے دوران وہ فقط پنجابی میں گفتگو کرتا رہا ،البتہ 31 جولائی 1940 کو ادھم سنگھ کو پھانسی دے دی گئی۔ یوں ایک چراغ بجھا مگر ہزاروں چراغ روشن ہو گئے۔ آزادی کی جنگ میں مزید شدت آ گئی اور برصغیر کے لوگ جیت گئے برطانوی سامراج شکست کھا گیا۔
14 اگست 1947 کو پاکستان قائم ہوا۔ 15 اگست 1947 کو ہندوستان آزاد ہو گیا۔ یہ جغرافیائی آزادی تھی سماجی آزادی کی آج بھی ضرورت ہے۔ بہر کیف 13 اپریل 2026 کو جلیانوالہ باغ سانحہ کو ایک سو سات برس مکمل ہو جائیں گے، البتہ جب جب جلیانوالہ باغ سانحہ کا ذکر ہوگا تو ادھم سنگھ کا ذکر لازمی ہوگا جس نے 1899 میں مشرقی پنجاب کے ایک گاؤں میں جنم لیا اور 31 جولائی 1940 کو 41 برس کی عمر میں دھرتی پر قربان ہو گیا۔