وی آئی پی کلچر کے خاتمے سے کفایت شعاری ممکن

ملک میں عشروں سے جاری وی وی آئی پی پروٹوکول اور وی آئی پی کلچر کم ہونے پر کوئی سرکاری توجہ نہیں ہے۔


[email protected]

حکومتوں نے دکھاوے کی کفایت شعاری کے لیے متعدد فیصلوں کا اعلان تو کیا مگر سرکاری طور پر نہ ہی وی وی آئی پی کلچر کو محدود کیا جس سے کفایت شعاری برائے نام ہوئی اور وی آئی پی کلچر پر تو کوئی اثر پڑا ہی نہیں، جس کا واضح ثبوت وزیراعظم کا حالیہ دورہ کراچی تھا جس پر لوگوں کی نظر تھی اور وہ گن رہے تھے کہ وی وی آئی پی پروٹوکول میں کتنی سرکاری و غیر سرکاری گاڑیاں ہیں جو گننے والوں کے مطابق 37 تھیں ۔تنقید کرنے والے کہہ رہے تھے کہ وزیراعظم کو رمضان المبارک سے قبل سانحۂ گل پلازہ کے موقع پر کراچی آنا چاہیے تھا جہاں بڑی تعداد میں ہلاکتیں اور کروڑوں روپے کا نقصان ہوا تھا ۔

وزیراعظم کے دورے میں کوئی سرکاری پروگرام نہیں تھا، بس وہ سینیٹر شیری رحمن کے گھر ان کی صاحبزادی کی وفات پر اظہار تعزیت اور پی پی رہنما فریال گوہر کی صاحبزادی کی شادی کی مبارک باد کے لیے کراچی آئے تھے اور چلتے چلتے ایئرپورٹ پر ایم کیو ایم کی قیادت کو بھی ملاقات کا شرف بخشا ۔

پی پی رہنماؤں سے ملاقات وزیراعظم کے دورے کے شیڈول کا حصہ تھی ۔میرے خیال میں وہ کراچی آئے تھے تو شہر کے نمائندوں کو بھی وزیر اعظم سے ملاقات کرکے کراچی شہر کی ابتر حالت سے آگاہ کرنا چاہیے تھا۔ اگر ملاقات ہوتی تو کراچی میں وفاقی اور صوبائی حکومت کے جاری منصوبوں میں بہت زیادہ تاخیر اور شہریوں کو درپیش مسائل سے وزیراعظم کو آگاہی دی جاتی مگر کسی نے بھی وزیر اعظم سے ملاقات کرنے کی کوشش نہیں کی ،لگتا ہے کہ عوامی نمائندوں کو شہر کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ وزیراعظم مہینوں بعد کراچی کا یہ سیاسی دورہ کرکے واپس اسلام آباد لوٹ گئے ۔

جہاں ترقیاتی منصوبے ہفتوں میں مکمل کرلیے جاتے ہیں اور کراچی میں منصوبے سالوں سے زیر تعمیر ہیں جن کی تکمیل کی سندھ حکومت کو ہی فکر نہیں تو وفاقی حکومت کو کیوں ہوگی اور نہ کراچی کے منصوبوں کی تکمیل وفاقی وزراء کی ذمے داری ہے۔ وزیر داخلہ کو جب پنجاب کی ذمے داری ملی تھی تو انھوں نے پنجاب میں اپنی کارکردگی دکھائی تھی اور اب وہ اسلام آباد میں اپنی ذمے داری پوری کرکے وہاں وفاقی منصوبوں کو قبل از وقت تکمیل تک پہنچا رہے ہیں۔

ملک میں عشروں سے جاری وی وی آئی پی پروٹوکول اور وی آئی پی کلچر کم ہونے پر کوئی سرکاری توجہ نہیں ہے۔ صرف 1985 میں ملک میں مارشل لاء کے باوجود وزیراعظم محمد خان جونیجو نے اس کلچر کے خاتمے پر توجہ دی تھی اور ملک کے ہر شعبے کے اعلیٰ افسران کے لیے سرکاری گاڑیوں کے استعمال کی پالیسی دی تھی جس پر خود بھی عمل کیا تھا اور سرکاری عہدیداروں سے بھی عمل کراکر دکھایا تھا مگر 1988 میں ان کی حکومت ختم کردی گئی تھی کیوں کہ ملک کے وزیراعظم سے بڑوں کو وہ پالیسی پسند نہیں تھی جس کے بعد سے سرکاری طور پر مہنگے سے مہنگی کاریں فروغ پا رہی ہیں اور سندھ و پنجاب وکے پی میں سب سے زیادہ اور بلوچستان میں کچھ کم وی وی آئی پی کلچر بڑھ رہا ہے اور 17گریڈ تک کے افسروں کو بھی مہنگی گاڑیاں فراہم کردی گئی ہیں جن میں نمایاں اسسٹنٹ کمشنر ہیں جب کہ ملک بھر میں ڈپٹی کمشنروں کی رہائش گاہیں ان کے زیر استعمال سرکاری گاڑیاں سہولتیں اور مراعات ہر دور میں عوام دیکھ اور بھگت رہے ہیں۔

جن کی زندگی عوامی ٹیکسوں پر شاہانہ گزر رہی ہے۔ایران پر مسلط کی جانے والی جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر پٹرول گیس کے بحران کے باعث حکومت پاکستان نے بھی کفایت شعاری کا اعلان اور سرکاری و عوامی تقریبات کے انعقاد پر کچھ پابندیاں عائد کی تھیں مگر ملک کے تاجروں کے آگے وفاقی و صوبائی حکومتیں اتنی مجبور بے بس ہیں کہ کاروباری اوقات مقرر یا ان پر عمل نہیں کرا پا رہی کیوں کہ تاجروں کو ملک سے زیادہ اپنے کاروباری مفادات عزیز ہیں جس کی وجہ سے جزوی لاک ڈاؤن بھی نہیں لگا پا رہیں اور وفاقی حکومت کا بھی صوبائی حکومتوں پر بھی اثر نہیں اور وفاقی حکومت صوبوں پر حکم نہیں چلاسکتی۔ صرف صوبوں سے درخواست ہی کرسکتی ہے۔ صوبائی حکومتیں مالی طور پر وفاق سے زیادہ مستحکم ہیں جہاں کے حکمران اپنے اپنے صوبوں میں کمال بااختیار اور شاہانہ اخراجات میں آزاد اور وی وی آئی پی پروٹوکول انجوائے کررہے ہیں۔

خواہ پنجاب حکومت اربوں کا جہاز خریدے یا کے پی حکومت اپنے مال سے اپنے ورکروں میں کروڑوں روپے بانٹے اور سندھ کی حکومت ہر محکمے میں اپنے جیالے ضرورت سے زیادہ بھرے اور جس کو چاہے حکومتی عہدوں سے نوازے۔ بلوچستان حکومت بھی دیگر صوبوں کے ہی نقش قدم پر چل رہی ہے۔ایران جنگ کی وجہ سے حکومت پاکستان کو پٹرولیم مصنوعات کے باعث کفایت شعاری کا خیال آیا اور وفاقی و صوبائی حکومتوں نے متعدد اعلانات تو کیے مگر وی آئی پی کلچر کے خاتمے اور سرکاری پروٹوکول میں کمی کا کوئی اعلان نہیں ہوا جس کے بغیر کفایت شعاری ممکن ہی نہیں اور حکمرانوں کی سادگی کی صرف باتیں ہیں کیوں کہ ان کی سادگی دکھاوے کے لیے صرف اپوزیشن میں ہوتے ہوئے دکھائی جاتی ہے اور اقتدار میں آتے ہی انھیں نئی سرکاری گاڑیاں اور زیادہ سے زیادہ پروٹوکول مطلوب ہوتا ہے، البتہ نئے نئے سوٹ انھیں خود سلوانے پڑتے ہیں اور ان کی سادگی ختم ہوجاتی ہے۔