ڈِیل ہو سکی نہ کوئی معاہدہ طے پا سکا!

پاکستان نے پورے اخلاص اور نہائت شاندار اسلوب میں میزبانی کا حق ادا کیا ہے ۔


[email protected]

یہ کالم 12اپریل2026، اتوار کی علی الصبح ، رقم کیا جارہا ہے ۔ شدت اور بیقراری سے انتظار تھا کہ ایران ، امریکہ مذاکرات کا کوئی حتمی اور واضح نتیجہ برآمد ہو جائے تو کچھ لکھا جائے ۔ یہ توقع مگر پوری نہیں ہو سکی ۔ مایوسی بھی مگر نہیں ہے ۔ دُنیا بھر کی نظریں پچھلے تین روز سے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت، اسلام آباد، پر لگی تھیں ۔ اور دُنیا بھر کے کم از کم ڈیڑھ سو اخبار نویس اسلام آباد میں، براہِ راست رپورٹنگ کے لیے،اکٹھے ہوئے تھے۔پاکستان نے پورے اخلاص اور نہائت شاندار اسلوب میں میزبانی کا حق ادا کیا ہے ۔

کسی کو کوئی گلہ شکوہ نہیں ہونا چاہیے ۔ پاکستان کے وزیر اعظم جناب شہباز شریف ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب اور وزیر خارجہ و ڈپٹی وزیر اعظم جناب اسحاق ڈار کی انتھک کوششوں اور بے مثال دوڑ دھوپ کی بنیاد پر ایران و امریکہ ، اسرائیل میں 38روزہ سخت جنگ میں دو ہفتوں کا وقفہ آیا ۔ یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں تھی ۔

مذکورہ باہمت اور پُر عزم پاکستانی لیڈر شپ کی تجاویز ہی پر تینوں متحارب ممالک کی توپیں خاموش ہُوئی تھیں ۔ یہ سیز فائر ، پاکستانی قیادت کی مساعی جمیلہ کے نتیجے میں، یوں بھی منتج ہُوا کہ امریکہ و ایران کسی صلح ، جنگ بندی یا مستقل متارکہ جنگ پر پہنچنے کے لیے اسلام آباد میں اکٹھے ہُوئے ۔ پاکستان کی لاجواب اور تاریخی میزبانی میں فریقین میں ڈائیلاگ کے لیے مذاکراتی میز بچھی۔ ایران اور امریکہ میں بدستور جاری ٹَف اور کشیدہ ماحول کے باوصف فریقین مکالمے کے لیے آمنے سامنے بیٹھے ۔ 21گھنٹوں پر محیط تاریخی مذاکرات کے بعد بھی مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا ۔

اِن مذاکرات میں ایران کی طرف سے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ، جناب محمد باقرقالیباف، کی قیادت میں ایرانی وفد شامل تھا ۔ امریکہ کی جانب سے نائب امریکی صدر ، جے ڈی وانس صاحب، کی لیڈرشپ میں امریکی وفد امریکہ کی نیابت و قیادت کررہا تھا ۔ یہ مذاکرات اس لیے بھی تاریخی کہے گئے ہیں کہ پچھلے47سال کے طویل اور کشیدہ برسوں کے بعد ایران اور امریکہ میں پہلی بار مذاکرات ہُوئے ہیں ۔ جب سے ایران میں آئیت اللہ روح اللہ خمینی مرحوم کا مذہبی انقلاب آیا ہے ، تب سے ایران و امریکہ میں ناراضیاں اور کشیدگیاں چلی آرہی ہیں ۔اِن ناراضیوں کی وجوہ کیا ہیں ، متعلقہ سبھی افراد اِن سے آگاہ اور آشنا ہیں ۔ ایران و امریکہ کشاکش میں امریکہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کا ناطقہ بند کرنے اور اسے جھکانے کے لیے ہر حربہ اور ہتھکنڈہ استعمال کیا ہے ۔

ایران پر تقریباً پانچ عشروں پر محیط امریکہ نے متنوع پابندیاں عائد کیے رکھیں ۔ عراقی صدر ، صدام حسین ، کو ایران پر یلغار کرنے کی شہ دی جو آٹھ سال تک دونوں اسلامی ممالک کی بربادی کا باعث بنتی رہی ۔ ایران کا سر مگر جھکایا نہ جا سکا ۔ ایران نے گذشتہ 47برسوں میں کئی معاشی تنگدستیوں کا سامنا کیا ہے ، مگر اُس کی عسکری ترقی رک نہ سکی ۔ ایران کو جوہری اور جدید میزائل معاملات میں آگے بڑھنے سے روکنے کیلیے امریکہ نے پچھلے سال ، جون2025، میںایران پر بلا وجہ اور بے جواز حملہ بھی کیا تھا ۔ حسبِ معمول اسرائیل بھی اس کے دائیں بائیں تھا ۔ ایران پھر بھی اپنے پورے قد کے ساتھ اقوامِ عالم میں کھڑا رہا ۔

واقعہ یہ ہے کہ ایرانی مذہبی قیادت میں ایران نے ثابت کیا ہے کہ امریکہ ، اسرائیل اور مغرب اپنی شرائط پر اُسے گھٹنوں پر نہیں لا سکتا ۔ ایرانی ہمتوں اور عزائم کی آزمائش کے لیے صہیونی اسرائیل اور مسیحی امریکہ نے 28فروری2026 کو ایک بار پھر متحد اور متفق ہو کر ایران پر آتش و آہن کی بارش کر دی ۔ امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، نے بڑھک ماری تھی کہ بس دو چار دنوں میں ایران کو شکست دے ڈالوں گا۔ ایران مگر امریکہ کے لیے ترنوالہ ثابت ہونے کی بجائے لوہے کا چنا ثابت ہُوا ہے ۔

اِس لوہے کے چنے نے بیک وقت حملہ آور اسرائیل اور امریکہ کے دانت توڑ ڈالے ہیں ۔ 38روزہ جنگ میں صہیونی اسرائیل اور مسیحی امریکہ اپنے مقاصد و اہداف میں کامیاب نہیں ہو سکے ۔ ایران کا شدید جانی و مالی نقصان تو ہُوا ہی ہے، امریکہ بھی ایران کے ہاتھوں متنوع مالی نقصانات سے بچ نہیں سکا ۔ دیکھا جائے تو عالمی میڈیا کے ساتھ خود امریکی میڈیا بھی شہادت دے رہا ہے کہ اِس 38روزہ جنگ میں شکست کا داغ امریکہ ہی کو سہنا پڑا ہے ۔

پاکستان کی کوششوں اور ایما پر امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، نے پہلے متارکہ جنگ اور پھر اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات کیلیے جس شتابی کے ساتھ ہامی بھری، یہ اِس امر کا عندیہ تھا کہ امریکہ فی الواقعہ ایران کے ساتھ محاربے سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔ امریکی نائب صدر ، جے ڈی وانس، اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ جس انداز میں مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں اُترے ، لگ تو یہی رہا تھا کہ وہ کسی حتمی نتیجے کے ساتھ ہی واپس اپنے گھر جائیں گے ۔ دُنیا کو بھی اِس کی بڑی اُمید تھی ۔ پاکستان کے تینوں بڑوں نے بہترین حکمت اور صبر کے ساتھ درمیان داری اور سہولت کاری کے فرائض ادا کیے ۔

دُنیا بھر کی اعلیٰ ترین قیادتوں نے، آن دی ریکارڈ، پاکستان کے اِس تاریخی کردار کی ستائش و تحسین کی ہے ۔ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے مذاکرات میں شامل معزز ایرانی و محترم امریکی وفود کا جس انداز میں استقبال کیا ، اِسے بھی مدتوں یاد رکھا جائیگا۔ مذاکرات کو کامیاب کروانے کیلیے پاکستانی قیادت نے کوئی کسر چھوڑی نہیں ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ کوئی حتمی اور متفقہ نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا ہے۔ اگرچہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب دُنیا بھر کے حکمران اوردُنیا بھر کا میڈیا بیقراری سے کسی حتمی نتیجے کا منتظر رہا ۔

سب سے پہلے اتوار کی صبح امریکی نائب صدر ، جے ڈی وانس، یہ کہتے ہُوئے اسلام آباد سے رخصت ہُوئے کہ ’’ہماری طرف سے ایران کو بہترین آفر کے باوجود ایران سے کوئی ڈِیل نہیں ہو سکی ۔ کوئی حتمی نتیجہ برآمد نہیں ہُوا ۔ہم 21گھنٹے مذاکرات میں بیٹھے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایران کس طرح اور کب (ہماری آفرکا) جواب دیتا ہے ۔‘‘ پاکستان سے رخصت ہوتے ہُوئے امریکی نائب صدر کا یہ بیان مبہم ہے ۔

مبہم اسلیے کہ ایران کو مبینہ امریکی آفر پر پردہ پڑا ہُوا ہے ۔ اور ایرانی قیادت کی جانب سے بھی ، اِس ضمن میں، ابھی کوئی جواب سامنے نہیں آیا ۔ کم از کم اتوار کی صبح یہ سطور لکھتے وقت تک تو کوئی بھی ایرانی موقف سامنے نہیں آ سکا تھا ۔ اُمید مگر یہی ہے کہ’’فاتح‘‘ ایران کا جواب دُنیا کیلیے اطمینان بخش ہی ہوگا۔ اور اِس جواب سے سہولت کاری کے فرائض ادا کرنیوالے پاکستان کو بھی یک گونہ اطمینان ملے گا۔ ضروری مگر یہ بات سمجھی جارہی ہے کہ پاکستان کے توسط سے ایران اور امریکہ ( اور اسرائیل) کے مابین دو ہفتوں کے لیے جو سیز فائر ہُوا ہے ، اِس میں فریقین کی باہمی رضامندی کے ساتھ ایکسٹینشن کی جائے ۔

اسلام آباد (امن) مذاکرات کے دوران ایرانی اور امریکی وفود نے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی تفصیلی ملاقاتیں کیں۔اِن مذاکرات کا ایک مستحسن پہلو یہ بھی ہے ۔ یہ بات تو معروف ہے کہ ایرانی ڈائیلاگ کرنے میں بے حد تجربہ کار اور سخت ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ بھی یہ اعتراف کر چکے ہیں ۔

اب مگر دُنیا بھر میںاندازے لگائے جارہے ہیں کہ آخر کس بات پر مذاکرات بے نتیجہ رہے ہیں؟ کیا امریکہ کا یہ مطالبہ کہ ایران وعدہ کرے کہ نہ تو وہ ایٹمی ہتھیار بنائے گا اور نہ ہی یورینیم افزودہ کرے گا؟ کیا آبنائے ہرمز پر بات آ کر اٹک گئی ؟ کیا امریکہ نے ایران کی تعمیرِ نَو کے لیے ایرانی تاوان ادا کرنے سے انکار کیا ہے ؟ کیا لبنان پر اسرائیلی حملے بند کرنے کی ایرانی شرط پوری نہیں کی گئی ؟ کیا امریکہ ایران کی 168اسکول بچیاں شہید کرنے پر معذرت کرنے سے انکاری ہُوا ہے ؟کچھ بہرحال ہُوا ضرور ہے ۔ اندازے یہ بھی ہیں کہ ایران ، امریکہ مذاکرات کے ابھی مزید دَور ہوں گے ۔یہ منظر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اسلام آباد میں ایران ، امریکہ مذاکرات کے دوران بھارت و اسرائیل کے پیٹ میں مسلسل مروڑ اُٹھتے رہے ۔ انڈین اسٹیبلشمنٹ اور بھارتی میڈیا تو خاص طور پر حسد کی دہکتی آگ میں جلتے رہے ۔