کچھ اپنے بارے میں

ایکسپریس میڈیا گروپ سے مجھے وابستہ ہوئے بیسواں سال شروع ہونے والا ہے ۔ ایڈیٹر ایڈیٹوریل لطیف چوہدری صاحب سے تعلق ابتداء میں ہی قائم ہو گیا تھا۔


زمرد نقوی April 13, 2026

ایکسپریس میڈیا گروپ سے مجھے وابستہ ہوئے بیسواں سال شروع ہونے والا ہے ۔ ایڈیٹر ایڈیٹوریل لطیف چوہدری صاحب سے تعلق ابتداء میں ہی قائم ہو گیا تھا۔ ہم مختلف موضوعات پر اکثر گفتگو کرتے جس میں عالمی، مقامی اور خطے کی سیاست ، مذہبی اور سماجی معاملات زیر بحث آتے ۔

اُن میں سے کچھ معاملات انتہائی حساس ہوتے جن پر کھلے عام گفتگو اپنے آپ کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف تھی۔ لیکن ہم سب ان معاملات پر انتہائی آسانی اور مزے سے گفتگو کرتے، اس طرح ہمارا کتھارس ہو جاتا اور ذہنی و نفسیاتی بوجھ بھی ختم ہو جاتا ۔ ذہنی ہم آہنگی بہت کم لوگوں سے ہوپاتی ہے ، خاص طور پر نظریاتی ہم آہنگی۔ ہمارے معاشرے میں مسلسل اور بتدریج بڑھتی ہوئی سماجی و قانونی جکڑ بندیوں نے نظریاتی اور تھیالوجیکل مباحث مشکل بنا دیئے ہیں۔

مجھے پیش گوئیاں کرتے ہوئے 35واں برس شروع ہو گیا ہے ۔ پہلی پیشگوئی 6مارچ1992کو مرحوم منو بھائی صاحب کے کالم میں چھپی تھی۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ مال روڈ لاہور پر ایک جلوس نکلا ہوا تھا جس میں منو بھائی سمیت لاہور کے تقریباً سبھی ترقی پسند صحافی و اہل قلم شامل تھے ۔ میں منو بھائی کا کالم باقاعدگی سے پڑھتا تھا اور وہ میرے پسندیدہ کالم نگار تھے ۔ دوسرے ایک ہی ایریا میں ہم رہتے تھے ۔

میں بھی جلوس میں شامل ہونے کے لیے لاہور کے مال روڈ پہنچ گیا،ساتھ ہی وہ کاغذ بھی لے گیا جس پر چند پیش گوئیاں لکھی ہوئی تھیں۔ منوبھائی سے ملاقات ہوئی، میں نے پیش گوئیوں والا کاغذ اُس ہجوم میں اُن کے حوالے کردیا ۔ ایک دو دن بعد میں نے دیکھا کہ انھوں نے میری تمام پیشگوئیاں اپنے کالم کی زینت بنا دیں ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اجمل خٹک مرحوم سے اگلے دن ملاقات ہوئی تو مجھ سے کہنے لگے، نقوی صاحب آج تو آپ پورے پاکستان میں مشہور ہو گئے ۔ بہرحال یہ ایک الگ کہانی ہے ۔

بہت ساری پیش گوئیوں میں مرتضیٰ بھٹو کے حوالے سے پشین گوئی بھی شامل تھی۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ جب مرتضی بھٹو اپنی جلا وطنی ختم کرکے پاکستان آئے تو لاہور آنے پر انھوں نے مجھے ٹیلی فون کیا اور کہا کہ کیا آپ کے پاس ٹائم ہے ، میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں ۔ نہر کنارے اپنے پارٹی ساتھیوں کو بتایا کہ نقوی صاحب نے میری جلا وطنی کے خاتمے کی پیش گوئی کی تھی کہ اتنے سال ، اتنے مہینے اور اتنے دن بعد میری جلا وطنی ختم ہو جائے گی۔ میں نے اور میرے دوستوں نے بیٹھ کر حساب لگایا تو عین اُسی دن میں نے پاکستان میں قدم رکھا جس کی نقوی صاحب نے پیش گوئی کی تھی۔ اور اُس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی سب کو بتایا کہ یہ پیش گوئی لندن میں ایک اردو اخبار میں چھپی جسے میری والدہ نصرت بھٹو نے مجھے شام کے دارالحکومت دمشق بھیجا۔ بہرحال مرتضی بھٹو نے کراچی آنے کی دعوت دی ۔ ایک معروف ہوٹل جہاں میرا قیام کئی ماہ رہا، تفصیل پھر کبھی سہی۔

بہرحال مجھ گمنام کی شہرت کا آغاز اس طرح سے ہوتا ہے ۔ منو بھائی کے کالم میں چھپی ہوئی پیش گوئیوں کے بعد صبح سے رات گئے تک ٹیلی فون کا سلسلہ جاری رہتا ، بہرحال سرکار دربار تک رسائی بھی رہی ۔ یہ فن یا صلاحیت مجھے ورثے میں ملی ہے اور اس سے آگاہی مجھے عمر کے ایک خاص حصے میں اچانک حاصل ہوئی۔ یعنی مستقبل میں جھانکنا ۔ پہلے میں ملکی ، عالمی اور خطے کے معاملات کا تجزیہ کرتا ، پھر پیش گوئی کرتا ۔ دنیا میں بیشتر لوگ یا تو تجزیہ کرتے ہیں یا پیش گوئی کرتے ہیں ۔

دنیا میں شائد بہت کم لوگ ہیں جو تجزئیے اور پیش گوئی کو BLEND کر سکتے ہیں ۔ میں تجزئیے سے پیش گوئی کرتا ہوں اور پیش گوئی سے تجزیہ ۔ اگر تجزیہ غلط تو پیش گوئی بھی غلط ۔ درست تجزئیے کے لیے اپنے تعصبات، پسند نا پسند، عقائد سے اوپر اٹھنا ناگزیر ہے ۔ بے رحمانہ مثبت جائزہ، چاہے اپنے ہوں یا پرائے یا اپنی ذات ہوبہت ضروری ہے ۔

اس معاملے میں کوئی معافی نہیں ۔ ملکی سطح پر ایک بڑے سیاستدان اور سینئر قانون دان نے میرے تجزئیوں پر مجھے پروفیسر صاحب کا خطاب دے ڈالا۔ مرحوم پیر پگاڑا صاحب کا بھی دلچسپ واقعہ سن لیں ۔ لاہور میں اُن سے ملاقات ہوئی ، میں نے انھیں بتایا کہ بے نظیر صاحبہ جلد اقتدار میں آنے والی ہیں ۔ انھوں نے کہا، یار Common Senseکی بات کرو ۔ یعنی عقل سے کام لو ۔ جب بے نظیر اقتدار میں آگئیں تو پوچھنے لگے ، اب بتاؤ آگے کیا ہو گا۔ کراچی کنگری ہاؤس آنے کی دعوت دی ۔ سردی ہو یا گرمی ہم ہمیشہ کافی پیتے تھے ۔بہرحال منو بھائی ہوں یا عباس اطہر شاہ جی ۔ اﷲ ان کی مغفرت کرے ۔مجھ جیسے گمنام کو شہرت کے زینوں تک پہنچا دیا۔ یہ وہ شاندار لوگ تھے جو جہاں میرٹ دیکھتے تھے، اس کی انگلی پکڑ کر آگے لے جاتے تھے ۔ اب کہاں ایسے لوگ ۔ اب تو باجماعت میرٹ کا راستہ روکا جاتا ہے ۔

گذشتہ سال جون میں اسرائیل ایران جنگ ہو یا بھارت پاکستان جنگ ۔ تاریخوں کے حساب سے پشین گوئیاں پوری ہوئیں ۔ حالیہ جنگ سے ہفتوں پہلے میں نے اپنے کالم میں پیش گوئی کی تھی کہ امریکا ایران ڈیل ہو یا نہ ہو، دونوں صورتوں میں مشرق وسطی کی ری برتھ ضرور ہو گی۔ اب میری 30مارچ کی تازہ ترین پشین گوئی ہی دیکھ لیں، میں نے لکھا تھا کہ اس جنگ کا مستقبل کیا ہے ، اس کا پتہ 8سے 12اپریل کے دوران چلے گا اور عین 8تاریخ کو جنگ بندی ہو گئی۔

اب جنگ بندی کے حوالے سے فوری اہم تاریخیں 12-13اپریل اور خاص طور پر 18-17 -16-15اپریل ہیں ۔