کھیل سے بڑا کوئی کھلاڑی نہیں

جنہوں نے کھیل سے کھلواڑ کیا وہ بیچارے اب جوانی میں ہی ٹی وی پر ایکسپرٹ بن کر نئے پلیئرز پر غصہ نکالتے ہیں


سلیم خالق April 13, 2026

کرکٹ ہو یا کوئی اور گیم یہ کسی کھلاڑی کو عزت، دولت، شہرت تو دیتے ہیں لیکن جہاں آپ نے کھیل کو ہی نظر انداز کرنا شروع کیا اور خود کو زیادہ بڑا سمجھنے لگے تو یہ نہایت سفاک روپ میں سامنے آتے ہیں، ماضی کے کارنامے کسی کو یاد نہیں رہتے اور حال پر لعنت ملامت ہوتی رہتی ہے۔

آپ نے فٹبال، ٹینس اور دیگر کھیلوں کے بڑے بڑے سپر اسٹارز کا حال بھی دیکھا ہو گا جنہوں نے وقت کی قدر نہ کی، اب ان بیچاروں کو کوئی نہیں پوچھتا لیکن بعض ایسے پلیئرز بھی موجود ہیں جنہوں نے ہمیشہ کھیل کو عزت دی لہذا بدستور سب کی آنکھ کا تارا ہیں۔

پاکستان میں بھی ایسی چند مثالیں مل سکتی ہیں، البتہ جنہوں نے کھیل سے کھلواڑ کیا وہ بیچارے اب جوانی میں ہی ٹی وی پر ایکسپرٹ بن کر نئے پلیئرز پر غصہ نکالتے ہیں یا سوشل میڈیا پر اپنے ماضی کو یاد کرتے رہتے ہیں، زیادہ بولیں تو پیشیاں بھی بھگتنا پڑتی ہیں، ایسے لوگ باصلاحیت ہونے کے باوجود کیریئر کو اتنا طول نہ دے سکے کہ بڑے اسٹارز میں شمار ہوتا حالانکہ ان کے ساتھی کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔

آپ انہیں ٹی وی پر تند وتیز بیانات دیکھ کر خوش ہوتے ہوں گے لیکن کاش وہ زبان سے نہیں اب بھی اپنے بیٹ سے حریفوں کے چھکے چھڑا رہے ہوتے، افسوس اس بات کا ہے کہ موجودہ کھلاڑیوں نے بھی ایسی مثالوں سے کوئی سبق نہ سیکھا۔

میں کسی کی ذاتی زندگی کو خبر بنا کر شائع کرنے کا قائل نہیں، اسی لیے کافی پہلے سے کچھ باتوں کا علم ہونے کے باوجود انہیں عوام کے سامنے نہیں لایا، البتہ جو سوال ایک ” نوجوان باصلاحیت کرکٹر“ کو مسلسل کافی عرصے سے پرفارم نہ کرتے دیکھ کر آپ کے ذہنوں میں آتے ہیں حکام بھی ان سے واقف ہیں۔

بورڈ نے ان پر بڑی سرمایہ کاری کی تھی لہذا ناقص کارکردگی پر تشویش ہوئی، چپکے سے تحقیقات کی گئیں تو ”رنگین مزاجی“ کا علم ہوا، ہوٹل میں طریقہ واردات بھی نائنٹیز والوں جیسا تھا، مزید باتیں کیا بتاؤں خیر اتنا جان لیں کہ انہیں سمجھایا گیا تو اب وہ خود کو سدھارنے کی کوشش کر رہے ہیں، فیملی لائف کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے ہیں لیکن بات وہیں آ جاتی ہے کہ وہ زیادہ دولت کمانے اور مشہور ہونے کو نہ سنبھال سکے جس کی وجہ سے یہ حال ہوا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کتنا سدھر پاتے ہیں اور کیا ماضی جیسا پرفارم کر سکیں گے یا نہیں، ہمارے ایک اور ”اسٹار“ کے بھی کئی ایسے کارنامے قومی کرکٹ سرکل میں زیرگردش ہیں، ان کے کئی ساتھی ہی سب کو قصے سناتے نظر آتے ہیں۔

آپ کو ایک نوجوان کرکٹر لیگز وغیرہ میں اچھا پرفارم کرتا نظر آتا ہوگا، جارح مزاج اسٹائل ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کیلیے آئیڈیل ہے پھر بھی وہ قومی ٹیم سے دور ہے، میں نے بورڈ کی ایک اعلیٰ شخصیت سے وجہ پوچھی تو انہوں نے جو بتایا وہ یہاں تحریر نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے ایک انٹرنیشنل ٹور میں ایسا کام کیا تھا کہ جیل کی ہوا بھی کھا سکتے تھے، ملک کی بدنامی کے سبب بورڈ نے خفیہ ایکشن لیتے ہوئے مذکورہ کھلاڑی کو قومی ٹیم سے دور کر دیا، اس میں ان کھلاڑیوں کی فیملیز کا بھی کردار ہے، صحیح وقت پر اگر شادیاں کر دیں تو شاید ایسے حالات پیش نہ آئیں جنہیں سنبھالنے کیلیے حکام کو ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑے۔

ڈھکے چھپے الفاظ میں جو باتیں آپ کو یہاں بتائی ہیں ان کی تصدیق مختلف ذرائع سے کر چکا ہوں، آج کل ہر کسی کے پاس موبائل فونز ہیں، خفیہ طور پر ویڈیو بنانا انتہائی آسان ہے، مشکوک عناصر ماضی میں بھی کئی کرکٹرز کو ہنی ٹریپ میں پھانس کر فکسنگ کیلیے استعمال کر چکے ہیں۔

ایسے ہی ایک کھلاڑی سزا کاٹ کر اب پی ایس ایل میں بھی شریک ہیں، ایسے میں تو کھلاڑیوں کو زیادہ محتاط رہنا چاہیے، کیا پتا کون کس مقصد سے ان کے قریب آ رہا ہے، مستقبل میں بلیک میلنگ سے بچنے کیلیے ابھی سے بچ کر رہیں، ٹیم مینجمنٹ کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ پلیئرز پر گہری نظر رکھے، جو بھی ڈسپلن کی خلاف ورزی میں ملوث ہو اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے، بدنامی تو ہو گی لیکن اتنا تو بتائیں کہ ڈسپلنری ایکشن لینے کی یہ وجہ ہے، ورنہ میڈیا اور شائقین تو اسے ”معصوم“ سمجھتے ہوئے ٹیم میں نہ لینے پر سلیکٹرز کو ہی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہوں گے۔

پی سی بی کے پاس سوشل میڈیا کی بڑی ٹیم موجود ہے، ان سے ویڈیوز بنوائیں کہ ماضی کے بعض باصلاحیت کرکٹرز کیسے غلط سرگرمیوں میں پڑ کر برباد ہوئے، انہیں میٹنگز میں دکھائیں شاید اس سے کوئی سبق سیکھ لے۔

کرکٹرز کے پاس اب آپشنز کی کمی نہیں، آپ نے چند انٹرنیشنل میچز بھی کھیلے ہوں تو ریٹائرمنٹ کے بعد کسی بھی ٹی وی چینل پر بیٹھ کر تنقید کریں اور پیسے کمائیں، یا تعلقات اچھے ہوں تو ڈومیسٹک یا کسی اور لیول پر کوچنگ کا کام مل جائے گا، ہاں اگر اپنے کھیل پر توجہ دی اور پرفارم کرتے رہے تو اتنا پیسہ کما لیں گے کہ شاید ریٹائرمنٹ کے بعد کسی کام کی ضرورت نہ پڑے۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ پی ایس ایل کے دنوں میں یہ کس موضوع کو لے کر بیٹھ گیا، دراصل یہ ایک بیحد سنجیدہ مسئلہ ہے، ایک کھلاڑی کا کیریئر بنانے میں کئی لوگوں کی محنت اور پیسہ لگتا ہے، جب آپ کو نظر آئے کہ کسی میں بہت صلاحیت ہے اور وہ خوب نام کمائے گا لیکن پھر اس کی گروتھ رک جائے تو افسوس تو ہوتا ہی ہے۔

خیر اچھی بات یہ ہے کہ بورڈ حکام بھی تمام معاملات سے واقف ہیں اور اقدامات شروع کیے جا چکے ہیں، امید یہی کی جا سکتی ہے کہ بہتری آئے گی۔

پاکستان کرکٹ ماضی میں کئی بڑے اسکینڈلز میں پھنس چکی، ہم اب مزید ایسے کسی مسئلے کا شکار نہیں ہونا چاہتے، اس لیے جو کھلاڑی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرے اسے سمجھائیں، اگر وہ کوئی سبق نہ لے تو مستقل گھر بھیج دیں، ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں کوئی دوسرا مل جائے گا لیکن کسی کو قومی وقار سے کھیلنے سے کسی صورت اجازت نہیں دینی۔