امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع؛ ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ

تاکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا


ویب ڈیسک April 13, 2026

امریکا نے ایران کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے ایرانی بندرگاہوں پر آنے اور وہاں سے جانے والی تمام بحری آمدورفت کی ناکہ بندی کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے بیان میں کہا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کردی گئی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی ملک کے جہازوں کو ایرانی بندرگاہ یا ساحلی علاقوں تک جانے نہیں دیا جائے گا تاہم آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے 158 ایرانی بحری جہاز مکمل طور پر تباہ کر دیے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس وقت ایران کی بحریہ سمندر کی تہہ میں پڑی ہوئی ہے۔

صدر ٹرمپ کے بقول ایران کے جو جہاز ابھی تک نشانہ نہیں بنے وہ ایران کے فاسٹ اٹیک یعنی تیز رفتار حملہ آور جہاز ہیں لیکن انھیں امریکی ناکہ بندی کے لیے زیادہ خطرہ نہیں سمجھتا۔

تاہم امریکی صدر نے دھمکی دی کہ اگر یہ فاسٹ اٹیک جہاز امریکی ناکہ بندی کے قریب آئے تو انھیں فوراً ختم کر دیا جائے گا۔ بالکل اُسی طریقے سے جس طرح سمندر میں منشیات اسمگل کرنے والی کشتیوں کو تباہ کیا تھا۔

اپنی سوشل میڈیا پوسٹ کے آخر میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ سمندر کے ذریعے امریکا میں آنے والی منشیات کا 98.2 فیصد بند ہوچکا ہے۔ آپ سب کا شکریہ

امریکی ناکہ بندی کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کسی نتیجے کے بغیرختم ہوگئے۔

ماہرین کے بقول اس ناکہ بندی سے نہ صرف ایران کی معیشت متاثر ہوسکتی ہے بلکہ عالمی تیل کی ترسیل اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی گہرے اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔