10 سے زائد ممالک سے گاڑیوں کے آٹو پارٹس منگانے کی نئی ویلیو ایشن مقرر

ان ممالک میں چین، کوریا، تائیوان، امریکا، ملائیشیا، انڈونیشیا، جاپان، یورپ اور تھائی لینڈ و دیگر ممالک شامل ہیں


بزنس رپورٹر April 13, 2026

اسلام آباد:

ایف بی آر نے چین، کوریا، تائیوان، امریکا، ملائیشیا، انڈونیشیا، جاپان، یورپ اور تھائی لینڈ سے درآمد کیے جانے والے آٹو پارٹس پسٹن اور رنگ سیٹس سمیت دیگر سیکڑوں پرزہ جات کی درآمد کے لیے نئی ویلیو ایشن مقرر کردی ہیں جو فوی طورپر نافذالعمل ہوں گی۔

اس حوالے سے ایف بی آر کے ماتحت ادارے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن کراچی نے نئی کسٹمز رولنگ جاری کردی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ پرزہ جات چین، کوریا، تائیوان، امریکا، ملائیشیا، انڈونیشیا، جاپان، یورپ اور تھائی لینڈ سے درآمد کیے جاتے ہیں۔

نئی ویلیوایشن اس وقت کی گئی جب متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے موجودہ مارکیٹ صورتحال کے پیش نظر کسٹمز ویلیوز کے تعین کے لیے درخواستیں موصول ہوئیں۔

ڈائریکٹوریٹ کے مطابق 12 مئی 2020ء کی ویلیوایشن رولنگ نمبر 1446/2020 اپنی مدت پوری کر چکی تھی اس لیے کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 25A کے تحت اس کا ازسرِنو جائزہ لیا گیا۔

اس سلسلے میں ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس میں پاکستان آٹو موبائل اسپیئر پارٹس امپورٹرز اینڈ ڈیلرز ایسوسی ایشن اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی اور مارکیٹ کے موجودہ حالات پر اپنی آراء پیش کیں، جبکہ انڈس موٹر کمپنی کے نمائندے نے بھی انجن کی گنجائش کے لحاظ سے درجہ بندی پر اپنے نکات بیان کیے۔

حکام کا کہنا ہے کہ انجن کے پرزہ جات کی قیمتیں مختلف عوامل جیسے انجن کی گنجائش، گاڑی کی قسم، معیار اور ملکِ اصل کے مطابق مختلف ہوتی ہیں، اس لیے یکساں بنیاد پر موازنہ صرف ہم نوع اشیاء کے درمیان ہی ممکن ہے۔

پاکستان میں بڑی تعداد میں پرانی گاڑیاں اب بھی استعمال میں ہیں، جن میں انجن کے پرزہ جات کی طلب زیادہ رہتی ہے، جس سے قیمتوں اور مارکیٹ کے رجحانات پر اثر پڑتا ہے مزید یہ کہ کچھ پرزہ جات جیسے پسٹن اور رنگ سیٹس مارکیٹ میں انفرادی سلنڈر کے بجائے مکمل سیٹ کی صورت میں فروخت ہوتے ہیں، جسے ویلیوایشن کے عمل میں مدنظر رکھا گیا۔

درآمدی ڈیٹا کے تجزیے سے مختلف کھیپوں اور ممالک کے درمیان قیمتوں میں نمایاں فرق سامنے آیا جس کے باعث پرانے طریقہ کار کے تحت درست ویلیو کا تعین ممکن نہ رہا۔

ڈائریکٹوریٹ نے بتایا کہ پہلے انجن کی گنجائش کی بنیاد پر وسیع درجہ بندی موجود تھی، جس میں مختلف قیمتوں کے پرزہ جات ایک ہی زمرے میں شامل ہو جاتے تھے اب اس درجہ بندی کو مزید بہتر بنایا گیا ہے تاکہ مارکیٹ قیمتوں کے مطابق زیادہ درست اور منصفانہ ویلیوز مقرر کی جا سکیں۔

مارکیٹ سروے کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے تاکہ یکساں اور شفاف کسٹمز اسیسمنٹ یقینی بنائی جا سکے۔

حکام کے مطابق نئی کسٹمز ویلیوز کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 25(7) اور 25(9) کے تحت مقرر کی گئی ہیں، جن کا مقصد درآمدی اشیاء کی منصفانہ اور یکساں ویلیوایشن کو یقینی بنانا ہے۔