مشرق وسطیٰ کشیدگی ‘دنیا کے مستقبل کا سوال

ایران کو عالمی منڈی میں اپنا تیل فروخت کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔


ایڈیٹوریل April 14, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے خلاف جاری ناکہ بندی کو برقرار رکھا جائے گا۔ ایران کو عالمی منڈی میں اپنا تیل فروخت کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کو خطرہ لاحق ہوا تو خطے کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔

برطانوی حکومت کی ترجمان صوفی کلیئر نے کہا ہے کہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور عمان کے سلطان ہیثم بن طارق نے اتوار کے روز امریکا اور ایران کے درمیان ناکام امن مذاکرات پر گفتگو کی اور کہا کہ مزید کشیدگی سے بچنا ضروری ہے۔انھوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ جنگ بندی کا تسلسل انتہائی اہم ہے اور تمام فریقوں کو مزید کشیدگی سے گریز کرنا چاہیے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکی حکومت اپنی آمرانہ روش ترک کر دے اور ایرانی قوم کے حقوق کا احترام کرے تو امریکا کے ساتھ ایک معاہدہ ہونا ممکن ہو سکتا ہے۔انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچنا ناممکن نہیں ہے اور اس کے لیے راستہ نکالا جا سکتا ہے۔

عالمی سیاست کے پیچیدہ منظرنامے میں بعض اوقات ایسے مراحل آتے ہیں جب بظاہر معمولی واقعات دراصل ایک بڑے جغرافیائی اور تاریخی ارتعاش کا پیش خیمہ بن رہے ہوتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی بھی اسی نوعیت کی ایک صورتِ حال کی عکاسی کرتی ہے، جہاں سفارتکاری، عسکری حکمت عملی، اقتصادی دباؤ اور نظریاتی تصادم سب ایک ساتھ حرکت میں نظر آتے ہیں۔ یہ محض دو ریاستوں کے درمیان اختلاف کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی نظام کی جھلک ہے جس میں طاقت کا توازن مسلسل تبدیل ہو رہا ہے اور ہر فریق اپنی جگہ مضبوط کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

حالیہ سفارتی رابطوں میں برطانیہ اور عمان کے رہنماؤںکی گفتگو اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی برادری اس تنازع کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ ان کی جانب سے کشیدگی سے گریز اور مذاکرات کے تسلسل پر زور دینا دراصل اس خدشے کا اظہار ہے کہ اگر یہ صورتحال مزید بگڑی تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی کے ڈھانچے کو بھی متاثر کریں گے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں سفارتکاری کی ناکامی محض ایک سیاسی ناکامی نہیں بلکہ ایک عالمی بحران کا دروازہ کھول سکتی ہے۔

امریکی موقف، جس کی نمائندگی ڈونلڈ ٹرمپ کر رہے ہیں، ایک واضح اور سخت حکمت عملی پر مبنی ہے۔ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں برقرار رکھنا، اس کی تیل برآمدات کو محدود کرنا اور جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے ہر ممکن دباؤ ڈالنا اس پالیسی کے بنیادی عناصر ہیں۔ بظاہر یہ اقدامات ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کیے جا رہے ہیں، مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا دباؤ کی سیاست واقعی کسی ریاست کو جھکانے میں کامیاب ہو سکتی ہے؟ یا یہ الٹا ردعمل پیدا کر کے مزید مزاحمت کو جنم دیتی ہے؟ تاریخ میں ایسے کئی واقعات موجود ہیں جہاں اقتصادی پابندیوں نے مطلوبہ نتائج دینے کے بجائے بحران کو مزید گہرا کیا۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت اس پورے تنازع کو ایک نئی سطح پر لے جاتی ہے۔ یہ گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا کے ایک بڑے حصے کو تیل کی فراہمی اسی راستے سے ہوتی ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کو شدید متاثر کر سکتی ہے، اگر امریکا اس راستے پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی اختیار کرتا ہے تو یہ محض ایک علاقائی اقدام نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، تجارتی سرگرمیوں میں سست روی اور مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی ایسے نتائج ہیں جو کسی بھی بڑے بحران کا حصہ بن سکتے ہیں۔

ایران کی حکمت عملی بھی اس تمام صورتحال میں نہایت اہم ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے بیانات میں ایک محتاط توازن نظر آتا ہے۔ وہ ایک طرف مذاکرات کے امکان کو برقرار رکھتے ہیں اور دوسری طرف اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہ کرنے کا عندیہ دیتے ہیں۔ یہ رویہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران نہ صرف بیرونی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے بلکہ داخلی سطح پر بھی مختلف توقعات اور دباؤ موجود ہیں۔

ایک طرف عوامی مسائل ہیں جو اقتصادی پابندیوں کے باعث بڑھ رہے ہیں، اور دوسری طرف ایک ایسا سیاسی بیانیہ ہے جو مزاحمت اور خودداری کو اپنی بنیاد بناتا ہے۔امریکی قیادت کے اندر بھی مکمل ہم آہنگی نظر نہیں آتی۔ جے ڈی وینس کی جانب سے یہ کہنا کہ ایران نے اپنی طاقت کا غلط اندازہ لگایا ہے، اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ واشنگٹن میں اس معاملے پر مختلف نقطہ ہائے نظر موجود ہیں۔ یہی اختلافات پالیسی سازی کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں، کیونکہ ایک طرف سخت اقدامات کی حمایت کی جاتی ہے اور دوسری طرف سفارتی حل کی گنجائش بھی برقرار رکھی جاتی ہے۔اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اس کشیدگی کے بیچ ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آئے۔ پاکستان نے ایک ایسے ثالث کا کردار ادا کیا جس نے فریقین کو ایک محفوظ اور غیر جانبدار ماحول فراہم کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف اور فلیڈ مارشل عاصم منیرکی قیادت میں اس عمل کو ممکن بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ علاقائی ممالک عالمی تنازعات کے حل میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں، اگرچہ یہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے، مگر انھوں نے ایک ایسا راستہ ضرور کھولا ہے جس پر مستقبل میں پیش رفت کی جا سکتی ہے۔ عالمی طاقتوں کا کردار اس تمام صورتحال میں انتہائی اہم ہے۔ چین، روس اور یورپی ممالک سب اس تنازع سے متاثر ہو سکتے ہیں اور ہر ایک کے اپنے مفادات ہیں۔

چین توانائی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانا چاہتا ہے، روس اس صورتحال کو اپنے جغرافیائی اثر و رسوخ کے تناظر میں دیکھتا ہے، جب کہ یورپی ممالک استحکام کے خواہاں ہیں تاکہ اقتصادی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔ اس طرح یہ تنازع ایک عالمی شطرنج کی بازی کی شکل اختیار کر لیتا ہے جہاں ہر فریق اپنی چال سوچ سمجھ کر چلتا ہے۔ یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا عالمی نظام ایک نئے توازن کی طرف بڑھ رہا ہے؟ کیا یہ کشیدگی اس بات کی علامت ہے کہ دنیا ایک نئے جغرافیائی اور سیاسی دور میں داخل ہو رہی ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف موجودہ حالات بلکہ آنے والی نسلوں پر بھی مرتب ہوں گے۔

یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات ابھی واضح نہیں، مگر ان پر غور کرنا ضروری ہے۔سفارتکاری کا کردار اس تمام صورتحال میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ مذاکرات محض بیانات کا تبادلہ نہیں بلکہ اعتماد سازی کا ایک عمل ہوتے ہیں، اگر فریقین سنجیدگی سے اس عمل کو آگے بڑھائیں تو حتیٰ کہ سب سے پیچیدہ تنازعات کا بھی حل نکالا جا سکتا ہے، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں جانب سے لچک کا مظاہرہ کیا جائے اور ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔

میڈیا اور عوامی رائے بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اطلاعات کی ترسیل اور بیانیے کی تشکیل کے ذریعے میڈیا نہ صرف عوام کو آگاہ کرتا ہے بلکہ پالیسی سازی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر میڈیا ذمے داری کا مظاہرہ کرے تو یہ کشیدگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، مگر اگر وہ سنسنی خیزی کو فروغ دے تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔مستقبل کے ممکنہ منظرنامے مختلف ہو سکتے ہیں۔ ایک امکان یہ ہے کہ مذاکرات کے ذریعے کوئی درمیانی راستہ نکال لیا جائے، جس میں ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرے اور بدلے میں پابندیوں میں نرمی دی جائے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ کشیدگی برقرار رہے اور وقتاً فوقتاً چھوٹے پیمانے پر تصادم ہوتے رہیں۔

تیسرا اور سب سے خطرناک امکان یہ ہے کہ یہ تنازع ایک بڑے عسکری تصادم میں تبدیل ہو جائے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر پڑیں گے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جدید دنیا میں طاقت کا استعمال ہمیشہ مطلوبہ نتائج نہیں دیتا۔ عراق اور افغانستان کی مثالیں اس بات کی یاد دہانی کراتی ہیں کہ عسکری مداخلت کے نتائج اکثر غیر متوقع اور طویل المدتی ہوتے ہیں۔ اسی لیے آج کی دنیا میں سفارتکاری کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ یہ ایک ایسا راستہ ہے جو تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔آخرکار، اس تمام صورتحال کا خلاصہ یہی ہے کہ عالمی امن ایک نازک توازن پر قائم ہے۔

اگر اس توازن کو برقرار رکھنا ہے تو طاقت کے بجائے حکمت، تصادم کے بجائے مکالمہ، اور انا کے بجائے تعاون کو ترجیح دینا ہوگی۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف اس بحران کو حل کر سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے تنازعات کو جنم لینے سے بھی روک سکتا ہے۔ یہ لمحہ تاریخ کے ان نازک لمحات میں سے ایک ہے جہاں کیے گئے فیصلے آنے والی نسلوں کی تقدیر کا تعین کریں گے۔ اگر دانشمندی سے کام لیا گیا تو یہ بحران ایک نئے استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے، اور اگر جذبات اور ضد کو غالب آنے دیا گیا تو یہ ایک ایسے تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنا اور تسلیم کرنا آج کی عالمی قیادت کے لیے سب سے بڑا امتحان ہے۔