بچپن میں ہمارا اور ہمارے دوستوں کا اکثر وقت محلے کی مسجد میں گزرتا تھا۔ فجر کی نماز کے بعد مسجد میں سپارہ پڑھتے گھر آکر ناشتہ کرتے۔ اس کے علاوہ پانچ وقت مسجد میں باجماعت نماز پڑھتے کیونکہ امام صاحب ہمیں سپارہ پڑھنا نہیں سیکھاتے تھے بلکہ پورے دین پر عمل کرنا بھی سیکھاتے تھے۔
اس وقت مسجدیں بڑی سادہ ہوتی تھیں جن میں نماز پڑھنے کا ایک الگ ہی لطف ہوتا تھا۔ کچے فرش پر چٹائی کی صفیں بچھی ہوتی تھیں۔مسجد میں ایک دیوار پر کالا رنگ کر کے بلیک بورڈ بنایا جاتا تھا جس پر نماز کے اوقات لکھے ہوتے تھے۔وقت دیکھنے کے لیے ایک گھڑی ہوتی تھی جب کہ پنکھے بہت کم مساجد میں ہوتے تھے۔ سامنے کی صف کی بڑی کھڑکیاں کھول کر نماز پڑھتے تھے جن سے ہوا چلنے پر ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں نمازیوں کو چھو جاتی تھی۔مسجد کا وضو خانہ اور واش روم نہایت سادہ ہوتاتھا۔
مسجد کے دروازے ہر وقت کھلے رہتے تھے جس وقت بھی کوئی نمازی، نماز پڑھنا چاہے یا چلتا مسافر آ کر یہاں آرام کرنا چاہے تو اسے کوئی دقت نہیں ہوتی تھی بلکہ مسجد کے نمازی جب دیکھتے کہ کوئی مسافر آ کر مسجد میں ٹہرا ہے، آرام کر رہا ہے تو وہ اس کو کھانے کا بھی پوچھتے اور عموماً مسافر کو کھانا بھی محلے والے ہی پہنچا دیتے تھے جب کہ روزانہ شام کو کسی نہ کسی گھر سے امام صاحب اور ان کے گھر والوں کے لیے بھی کچھ نہ کچھ کھانا آجایا کرتا تھا۔ امام صاحب کی سب عزت کرتے تھے یہاں تک کہ جب وہ کسی کلینک پر دوا لینے جاتے تو ڈاکٹر ان سے فیس تک نہیں لیتا۔
ہم سب بچے جمعہ کی نماز کی پہلی اذان پر مسجد میں پہنچ جاتے تھے اور مسجد کے چھوٹے موٹے کام کر کے وہیں بیٹھے رہتے ہیں پورا خطبہ سنتے۔خطبے میں ہمیں بہت ساری اسلامی معلومات حاصل ہوتی۔
آج سے کوئی 30 برس پہلے تک تقریباً تمام ہی مساجد کا کچھ ایسا ہی حال تھا تاہم اب بہت کچھ بدل چکا ہے۔ اب مساجد میں بہت ساری ایسی سہولیات دستیاب ہیں جو عام لوگوں کو اپنے گھر میں بھی دستیاب نہیں ہوتی یعنی یہاں بہترین ماربل اور ٹائل کا فرش ملے گا، اس پر اعلیٰ قسم کی صفیں، قالین وغیرہ کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے دستیاب ہوتی ہیں۔ بڑے بڑے پنکھے اور ایئر کنڈیشنڈ بھی نمازیوں کو دستیاب ہوتے ہیں۔ اسی طرح الیکٹرانک گھڑیاں انھیں تمام نماز کے اوقات بتا رہی ہوتی ہیں۔ واش روم میں بھی اور وضو خانے میں بھی ٹائل وغیرہ لگے ہوتے ہیں۔ مساجد میں نہایت خوبصورت و قیمتی آرائش بھی ہوتی ہے۔ اس سب کے باوجود مساجد میں یہ بھی نوٹس بورڈ پہ لکھا ہوتا ہے کہ ’’مسجد جماعت کے آدھے گھنٹے بعد بند کر دی جائے گی۔‘‘
گویا مساجد جس مقصد کے لیے ہوتی ہیں اس پر ہی کاری ضرب لگی نظر آتی ہے۔اب کوئی چلتا پھرتا نمازی یا مسافر بعد میں مسجد میں آ کر آرام کرنا چاہے یا نماز وغیرہ پڑھنا چاہے تو اس کے لیے یہ نوٹس بورڈ کافی ہوتا ہے۔ گویا پہلے مساجد میں دن رات نماز پڑھنے، آرام کرنے اور واش روم استعمال کرنے کی سہولت ہر ایک کو حاصل ہوتی تھی جو کہ اب نہیں ہے۔ ہماری مساجد کے منتظمین کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔
دوسری طرف اب نمازی بھی بدل چکے ہیں اور وہ بھی جمعہ کی پہلی اذان میں مسجد کا رخ نہیں کرتے بلکہ جب جماعت کھڑی ہونے لگے تو بڑی تعداد اس وقت ہی مسجد میں داخل ہوتی نظرآتی ہے۔اس طرح سے امام صاحب کا قیمتی اور اہم خطبہ جو لوگوں کے لیے ہوتا ہے، نمازی اس سے محروم رہ جاتے ہیں خاص کر نئی نسل کو جنھیں پہلے ہی اسلامی معلومات نہیں ہے وہ اس موقع کو گنوا بیٹھتے ہیں۔
یوں مساجد سے نئی نسل کی جو ایک تربیت پہلے ہوا کرتی تھی وہ اب مشکل سے ہی نظر آتی ہے۔مسجد تربیت کا ایک انمول ادارہ ہے کیونکہ جمعہ کے خطبے اور رمضان کے اعتکاف میں لوگوں کو خاص کر نئی نسل کو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ کرنے کے بیشتر مواقع میسر آتے ہیں، لیکن ایک مسئلہ یہ ہے کہ ان مواقعوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔راقم کے گزشتہ چند برسوں کے مشاہدے کے مطابق اب مساجد میں جب نوجوان اعتکاف میں بیٹھنے کے لیے آتے ہیں تو ان کی ایک بڑی تعداد کو یہ کہہ کے منع کر دیا جاتا ہے کہ ان کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہے۔
اکثر مساجد میں اس پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے اور 18 سال سے کم عمروالے نوجوانوں کو اعتکاف میں بیٹھنے نہیں دیا جاتا اور جواز پیش کیا جاتا ہے کہ کم عمر لڑ کے مسجد کا ماحول خراب کرتے ہیں، مسجد کا احترام نہیں کرتے بدتمیزیاں کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔یوں بہت سارے ایسے نوجوان جو مسجد میں بیٹھنا چاہتے ہیں لیکن اعتکاف اس لیے نہیں کر سکتے کہ ان کی عمر 18 سال سے کم ہے چنانچہ وہ رمضان کے مہینے میں اپنی مصروفیت پھر کہیں اور ڈھونڈ لیتے ہیں یعنی دنیا داری میں مشغول ہوجاتے ہیں۔
ہمارے ایک واقف کار کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچے کو جب اعتکاف کے لیے مسجد میں لے کر گئے انھیں بھی 18 سال سے کم عمر کی وجہ سے منع کر دیا گیا جس پر انھوں نے کہا کہ اسلام میں تو بالغ کا اصول ہے، بالغ پرنماز بھی فرض ہے تو یہ آپ کون سا قانون یہاں نافذ کر رہے ہیں؟ان کا شکوہ تھا کہ میں بطور باپ اپنے بیٹے کو لے کر مسجد گیا لیکن انھوں نے بیٹھنے نہیں دیا پھر دوسری مسجد گئے وہاں بھی انھیں فارم میں لکھا ہوا دکھا دیا گیا کہ 18 سال سے کم اور 60 سال سے زائد عمر کے لوگوں کو اعتکاف میں بیٹھنے کی اجازت نہیں۔ مزید یہ بھی معلوم ہواکہ سفارش کی بنیاد پر اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کو بھی اعتکاف میں بیٹھنے کی اجازت درپردہ دے دی گئی گویا سرکاری محکموں کی طرح یہاں بھی سفارش، تعلقات پر اپنے ہی قائم کردہ قانون کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔
یہ صاحب جن مساجد میں گئے ، وہ دونوں مساجد دو مختلف تنظیموں کے زیر انتظام تھی ۔ سوال یہ ہے کہ جب ہم مسجد کی سطح پر ہی نوجوانوں کی تربیت نہیں کر سکتے اور اپنے اسلامی اصول بالغ ہونے کو بھی نافذ نہیں کر رہے ہیں تو پھر دنیا بھر میں کیا اسلامی انقلاب لائیں گے؟
اسلامی انقلاب لانے کے لیے تو ہمیں نئی نسل کی تربیت کی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ بچوں اور نوجوانوں پر خصوصی توجہ دیں اور انھیں اسلامی تعلیمات سے زیادہ سے زیادہ آگاہ کریں نیز انھیں اسلام سے قریب لائیں۔ اس طرح سے تو ہم نوجوانوں کو صرف مسجد سے ہی دور نہیں کریں گے بلکہ اسلام سے بھی دور کر دیں گے۔ ہمارے ہاں 18 سال کی عمر ہونے سے پہلے نوجوانوں کی بڑی تعداد فارغ اوقات رکھتی ہے اس لیے وہ مساجد کا بھی رخ کر لیتی ہے۔ 18 سال کے بعد جب شناختی کارڈ بن جاتا ہے تو زیادہ تر نوجوان کھانے کمانے میں مصروف ہو جاتے ہیں پھر ظاہر سی بات ہے اتنا وقت ہر ایک کے پاس نہیں ہوتا کہ وہ اعتکاف میں بیٹھے۔
بہر حال یہ ایک اہم معاملہ ہے جس میں ہمارے نوجوانوں کی تربیت کا بھی مسئلہ ہے اور ہماری مساجد کو بہتر بنانے کا بھی۔ اس طرف خصوصی طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ مسجد کے دروازے زیادہ سے زیادہ وقت تمام لوگوں کے لیے کھلے ہوں اور صرف نوجوان اور بچے ہی نہیں بزرگ اور مسافر بھی جب چاہیں مساجد میں آ سکیں نیز انھیں وضو اور حاجت کی سہولیات بھی میسر ہوں جیسا کہ ماضی میں ہوا کرتی تھیں۔