لاہور:
ماحولیاتی تحفظ ایجنسی نے پنجاب بھر میں ماحولیاتی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جہاں 2024 سے 2026 کے اوائل تک معائنوں، جرمانوں اور قانونی اقدامات میں واضح تیزی دیکھی گئی ہے۔
ادارے کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق بھٹہ خشت، صنعتی یونٹس، پلاسٹک کے استعمال، گاڑیوں کے دھوئیں اور تعمیراتی گردوغبار کے خلاف کریک ڈاؤن میں وسعت لائی گئی ہے، جو ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومتی پالیسی کا حصہ ہے۔
بھٹہ خشت کے شعبے میں معائنوں کی تعداد 2024 میں 62 ہزار 173 سے بڑھ کر 2025 میں 81 ہزار 827 ہو گئی، جبکہ 2026 کے ابتدائی مہینوں میں مزید 24 ہزار 883 معائنے کیے جا چکے ہیں۔
اس دوران درج مقدمات کی تعداد بھی 2024 میں ایک ہزار 862 سے بڑھ کر 2025 میں 2 ہزار 357 ہو گئی، جبکہ 2026 میں اب تک 323 مقدمات درج کیے گئے ہیں، جس سے بہتری کے ابتدائی آثار ظاہر ہوتے ہیں۔
صنعتی شعبے میں بھی معائنوں کی تعداد تقریباً دوگنا ہو کر 2024 کے 24 ہزار 344 سے بڑھ کر 2025 میں 44 ہزار 684 تک پہنچ گئی، جبکہ رواں سال اب تک 14 ہزار 834 معائنے کیے جا چکے ہیں۔
خلاف ورزی پر سیل کیے گئے یونٹس کی تعداد 2024 میں ایک ہزار 538 سے بڑھ کر 2025 میں ایک ہزار 834 ہو گئی، جبکہ 2026 میں مزید 327 یونٹس سیل کیے گئے۔
پلاسٹک کے خلاف مہم میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جہاں ضبط شدہ پلاسٹک کی مقدار 2024 میں 36 ہزار 94 کلوگرام سے بڑھ کر 2025 میں 4 لاکھ 19 ہزار 33 کلوگرام تک پہنچ گئی۔ 2026 میں اب تک 78 ہزار 876 کلوگرام پلاسٹک ضبط کیا جا چکا ہے۔ جرمانوں کی رقم بھی 2024 کے 25 لاکھ 10 ہزار روپے سے بڑھ کر 2025 میں 81 لاکھ 40 ہزار روپے سے زائد ہو گئی۔
تعمیراتی مقامات پر گردوغبار کے کنٹرول کے لیے معائنوں کی تعداد 2024 میں 242 سے بڑھ کر 2025 میں 3 ہزار 817 ہو گئی، جبکہ رواں سال اب تک 104 مقامات کی نگرانی کی جا چکی ہے۔
گاڑیوں کے دھوئیں کے خلاف بھی کارروائیاں تیز کی گئی ہیں، جہاں 2025 میں 2 لاکھ 94 ہزار 228 گاڑیوں کے اخراجی ٹیسٹ کیے گئے، جبکہ 2026 میں مزید 3 ہزار 268 گاڑیوں کی جانچ کی گئی، جس سے مجموعی تعداد 3 لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔
اسی دوران پانی کے تحفظ کے اقدامات کے تحت 2025 میں سروس اسٹیشنز پر 2 ہزار 242 واٹر ری سائیکلنگ یونٹس نصب کیے گئے، جبکہ 2026 میں مزید 57 یونٹس لگائے جا چکے ہیں۔
سیکرٹری محکمہ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی پنجاب سلوت سعید نے کہا کہ حکومت ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد کو مزید مؤثر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ معائنوں اور جرمانوں میں اضافہ زیرو ٹالرنس پالیسی کا عکاس ہے، جبکہ عوامی آگاہی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ضروری ہے۔
ڈی جی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی عمران حمید شیخ کے مطابق اعداد و شمار نہ صرف سخت نگرانی بلکہ بتدریج بہتری کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2025 کے دوران کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ 2026 کے ابتدائی رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعلقہ شعبے قوانین پر عملدرآمد کی طرف آ رہے ہیں۔
انہوں نے عالمی ادارے آئی کیو ایئر کے حوالے سے بتایا کہ 2025 لاہور کی فضائی معیار کے لحاظ سے حالیہ برسوں میں بہتر سالوں میں شمار ہوا، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بہتری مسلسل اقدامات اور مربوط پالیسیوں کا نتیجہ ہے، تاہم اسموگ کے مستقل مسئلے سے نمٹنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2024 سے 2026 تک ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد میں اضافہ، دائرہ کار میں وسعت اور بہتری کی جانب پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے صوبے میں ماحولیاتی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔