اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات امریکا میں ختم ہوگئے جس میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی شرکت کی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان شروع ہونے والے مذاکرات دوبارہ ختم ہوگئے جس میں وہاں تعینات دونوں ممالک کے سفرا شامل ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ مذاکرات کے اس دور میں امریکا میں تعینات سفیر اسرائیلی سفیر یخیل لیٹر اور لبنانی سفیر نَدا حمادہ معوذ کے ساتھ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی شریک تھے۔
محکمہ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ مذاکرات بند کمرے میں ہوئے البتہ بات چیت سے قبل فریقین کے سفیر میڈیا سے کچھ دیر گفتگو بھی کی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مذاکرات سے متعلق تفصیلات میڈیا کو جلد ہی پیش کی جائیں گی۔
خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی 2 ہفتے کی جنگ بندی کے پہلے ہی روز اسرائیل نے لبنان پر اب تک کے سب سے بڑے فضائی حملے کیے تھے۔
ان حملوں میں اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے رہنماؤں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جن میں جاں بحق افراد کی تعداد 250 سے بھی زائد ہوگئی ہے۔
جس پر ایران اور پاکستان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے لبنان پر حملے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔ فرانس سمیت متعدد یورپی ممالک بھی جنگ بندی کا دائرہ کار لبنان تک چاہتے ہیں۔
ادھر برطانیہ سمیت 17 ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل اور لبنان پر زور دیا ہے کہ وہ امریکا میں ہونے والے مذاکرات کے قیمتی موقع سے فائدہ اٹھائیں۔
برطانوی وزارتِ خارجہ کے مطابق مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ براہِ راست مذاکرات نہ صرف لبنان اور اسرائیل بلکہ پورے خطے میں دیرپا امن اور سیکیورٹی کی راہ ہموار کرسکتے ہیں۔
تاہم امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ یہ دونوں ممالک لبنان میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی یقین دہانی اور ٹھوس اقدامات کی بنیاد پر ہی جنگ بندی کا فیصلہ کریں گے۔