بلوچستان کے ایک ضلع میں کھلے عام افیون اور چرس کی پیداوار کا انکشاف

بلوچستان کے 4 علاقوں میں ایران سے اسمگل ہونے والا تیل فروخت ہورہا ہے، کسٹم کا سینیٹ کمیٹی میں انکشاف


اسٹاف رپورٹر April 14, 2026
(فوٹو: فائل)

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ بلوچستان کے ضلع عبداللہ میں افیون اور چرس کی پیداوار ہورہی ہے۔

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی جانب سے کسٹمزکے گودام سے سگریٹوں کی بھاری مقدارکی چوری پر بنائی گئی سب کمیٹی کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔

اجلاس میں ایف آئی اے کی جانب سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس معاملے پر متعدد افسران کو نوٹسزجاری کئے جاچکے ہیں ،اس کے علاوہ کئی افسران سے تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں جونہی ان نوٹسزکاجواب آتاہے ہم اپنی رپورٹ تیارکرلیں گے۔

کمیٹی اجلاس میں ایرانی تیل کی پاکستان میں اسمگلنگ کے معاملے پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔ کسٹم حکام نے کمیٹی کے پوچھنے پر بتایاکہ بلوچستان کے چاراضلاع  پنجگور، گوادر، کیچ اور واشومیں ایرانی تیل بیچنے کی اجازت ہے اوراس وقت روزانہ کا 30لاکھ لیٹروہاں پر ایران سے لایا جا رہا ہے، تیل کی یہ مقدارمختلف دنوں میں مختلف ہوتی ہے کبھی یہ 3 ملین لیٹرروزانہ سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔

کسٹم حکام کا کہنا تھا بتایا جاتا ہے ان علاقوں کو اسمگل شدہ تیل کی اجازت اس لئے بھی دی جاتی ہے ان علاقوں میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے پٹرول پمپ وغیرہ نہیں بنائے جاتے، وہاں پر یہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں تیل فراہم نہیں کرتیں اس لئے مقامی لوگوں کو سہولت دینے کیلئے یہ اقدام کیاجاتا ہے۔

کسٹم حکام کی جانب سے وضاحت پر کنوینرکمیٹی سیف اللہ ابڑونے کہا تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے اس بارے میں جواب مانگیں ان سے پوچھیں کہ ایسا کیوں ہے۔

انہوں نے ایف آئی اے سے بھی کہا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں۔ ان کاکہناتھا تیل سپلائی کرنیوالی ٹرانسپورٹ کمپنیاں ان علاقوں میں تیل سپلائی نہیں کرتیں لیکن ان علاقوں میں تیل سپلائی کرنے کے پیسے حکومت سے لیتی رہتی ہیں۔

کسٹم حکام نے کمیٹی کو بتایا گزشتہ ایک سال میں 2.5ارب روپے کی پیٹرولیم مصنوعات جو اسمگل ہورہی تھیں ان کو پکڑا گیا ہے۔

کمیٹی رکن سینیٹر عمرفاروق نے بتایا کہ بلوچستان میں اس وقت بھی تیل پاکستان کے دیگرعلاقوں میں بہت سستا ہے، وہاں شہروں کے اندرپیٹرول 240 روپے جبکہ اڈے کے اندرسے 210 روپے فی لیٹرمیں فروخت کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا اسمگلر پہلے کسٹم والوں کو پیسے دیتے ہیں پھر اسمگلنگ کرتے ہیں۔

کنوینرکمیٹی سیف اللہ ابڑونے کہا پورا ملک اس وقت کرپشن پر چل رہا ہے مگر یہ اسمگلنگ کسٹم حکام کو نظر نہیں آتی، تیل کی اسمگلنگ میں ملوث لوگ اپنی وڈیو تک بناتے ہیں، جب بھی کمیٹی سے نکلتا ہوں ایف بی آر مجھے نوٹس جاری کر دیتی ہے،پانچ سے چھ نوٹس گھر آئے ہوئے تھے مگر میں ڈرنے والا نہیں ہوں کیونکہ میرا کوئی بیٹری یا تمباکو کا کاروبار نہیں جو میں گھبرا جاوٴں۔

کمیٹی اجلاس میں انکشاف ہوا کہ بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں افیون اور چرس کی پیدوار کھلے عام جاری ہے۔

کمیٹی نے ایف آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ ایرانی تیل کی اسمگلنگ کے معاملے پر چیف سیکرٹری بلوچستان کو نوٹس کریں اور انہیں طلب کرکے پوچھیں، اگروہ نہیں آتے تو جہازبھیجیں اورانہیں اٹھاکرلے آئیں۔

کنوینرکمیٹی نے ایف آئی اے کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ کے پی کے اوربلوچستان میں ٹیکس سے مستثنی علاقوں میں موجودفیکٹریوں کے باہر ناکے لگائیں اوران سے رپورٹس طلب کریں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس سے مستشنی علاقوں میں قائم فیکٹریوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں، فاٹا اور پاٹا کرپشن کے حب بن چکے ہیں۔ ٹیکس چوری کیا جارہا ہے، کے پی وزیراعلی گیارہ سو ارب روپے مانگ رہا ہے۔ ترقیاتی کام تو ہو نہیں رہا۔

کمیٹی کو کسٹم حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ کے پی کے کے ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں واقع سٹیل ملز نے پانچ سالوں کے دوران 100ارب روپے سے زائد کا خام مال امپورٹ کیا۔

اسی طرح گھی اوردیگرفیکٹریوں کی جانب سے 320ارب روپے مالیت کا سامان بیرون ممالک سے منگوایاگیا۔ کنوینرکمیٹی سیف اللہ ابڑونے کہا کہ سارے مافیاز خیبرپختونخوا میں کام کررہے ہیں ملک کو اربوں روپے کا نقصان ہورہاہے۔

کنوینرکمیٹی نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ ٹیکس سے مستشنی علاقوں میں فیکٹریوں پر چھاپے مارے جائیں، ایف بی آراورکسٹم حکام ان فیکٹریوں کے باہر اپنی پکٹس لگائیں سب کو چیک کریں،اس ملک کو آگے لے کرجاناہے، ملک کیلئے کچھ کرجائیں،ٹیکس سے مستثنیٰ علاقے ملک کیلئے ناسورہیں۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑونے ہدایت کی کہ قبائلی علاقوں میں TESCOچیف کو نوٹس کرکے فیکٹریوں کے بجلی کے بل چیک کریں اور تفصیلات منگوائیں۔

انہوں نے کہا NTDCکے ایک ٹھیک میں 1.28ارب روپے ٹیکس کی مدمیں ایک کمپنی کو دے دیئے گئے ،ان سے بھی ریکوری کروائیں، فاٹااورپاٹا ٹیکس سے مستثنیٰ علاقے ہیں وہاں پر گھی اوراسٹیل کی فیکٹریاں لگائی ہوئی ہیں، یہ ٹیکس سے مستثنی علاقے ملک کیلئے ناسورہیں، بتائیں ان علاقوں میں جوپیداوارہوئی وہ ان علاقوں میں کہاں سپلائی کی گئیں۔

کمیٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کمیٹی سربراہ سینیٹرسیف اللہ ابڑونے ایران امریکہ مذاکرات میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے فیلڈ مارشل کی تعریف کی۔

انہوں نے کہا جو 10 دن سے پاکستان میں چل رہا ہے یہ ایک حقیقت ہے تاریخ مین بہت کم ایسے مواقع آئے ہیں اور یہ سب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی وجہ سے ممکن ہوا، یہ موقع حکومت کی وجہ سے نہیں آیا چاہئے کوئی کتنا بھی دعویٰ کرے،میاں صاحب نے جو بھی کیا ان کو معلوم ہو گا، اسحاق ڈار نے بھی اچھی کوشش کی ہے،اس سارے معاملے میں اصل کوشش فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے کی گئی،ایسا نظام چل رہا ہے کہ سیاسی جماعتیں صرف کرپشن میں ملوث ہوں۔

انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں میں جائیں کوئی بھی پراجیکٹ کرپشن سے خالی نہیں ہے،فیلڈ مارشل اس نظام کو چلا رہے ہیں، فنڈز بھی لاتے ہیں اور مینج بھی کرتے ہیں، سویلین کا کام ہے صرف ان نظام کو سنبھالنا،پاکستان میں پولیٹیکل سسٹم کی کوئی ضرورت نہیں ہے ون لائن سسٹم چلنا چاہیے۔

1999 میں پرویز مشرف کی نے ٹیک اوو کیا تو 12 سے 14 ٹیکنوکریٹس کی حکومت آئی کس نے ہاتھ نہیں ڈالا، جو آتا ہے اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا لیکن جب جاتا ہے پاکستان اور بیرون ملک جائیدادیں ہوتی ہیں۔