امن کی کوشش ، انسانیت کی بقاء کے لیے امید کا پیغام

اسرائیل کا کردار بھی اس پورے منظرنامے میں نہایت اہم ہے


ایڈیٹوریل April 15, 2026
ایران سے منسلک 4 جہازوں کی ناکہ بندی توڑنے کی اطلاعات تھیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی بحریہ کی طرف سے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کو عملا بلاک کر دیا گیا ہے ، اگرتہران معاہدہ کرنا چاہتاہے تو اب بھی مذاکرات کی میزپر واپس آسکتاہے۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل صدرٹرمپ کے بحری محاصرے یا ناکہ بندی کے فیصلے کی حمایت کرے گا جب کہ نیٹو اتحادیوں نے ٹرمپ کا ساتھ دینے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ناکہ بندی کے منصوبے میں شامل نہیں ہوں گے۔

اتحادیوں نے تجویز دی ہے کہ وہ صرف جنگ کے خاتمے کے بعد ہی مداخلت کریں گے اور محاصرے میں حصہ لے کر تنازع کا حصہ نہیں بنیں گے۔ چین نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی بین الاقوامی برادری کے مفادات کے خلاف ہوگی اور تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ امن اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔ دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران امریکا تنازع طے کرانے کے لیے کوششیں جاری ہیں، ہماری کاوشوں سے جنگ بندی اب بھی قائم ہے،انھوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد مذاکرات سے پاکستان کو جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کا موقع ملاہے۔دریں اثناء وزیراعظم شہبازشریف آیندہ 48 گھنٹوں میں سعودی عرب اور ترکیے کا دورہ کریں گے، وزیر اعظم کی سعودی اور ترک حکام سے اہم معاملات پر مشاورت متوقع، اعلیٰ سطح کا وفد بھی وزیراعظم کے ساتھ ہوگا۔

عالمی سیاست کے افق پر جب کشیدگی کے سیاہ بادل اپنی پوری ہیبت کے ساتھ چھا جاتے ہیں اور طاقت کے ایوانوں میں فیصلے انسانی تقدیروں پر اثر انداز ہونے لگتے ہیں تو تاریخ ایک بار پھر اپنے اوراق کھول کر ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ جنگ کا ہر باب دراصل ایک اجتماعی المیے کی داستان ہوتا ہے، جب کہ امن کی ہر کوشش انسانیت کے لیے امید کا ایک نیا چراغ روشن کرتی ہے۔

ایسے ہی ایک نازک اور فیصلہ کن لمحے میں پاکستان نے اسلام آباد کو ایک ایسے سفارتی مرکز میں تبدیل کر دیا ہے ،جہاں نصف صدی سے برسرپیکار دو طاقتیں، امریکا اور ایران، ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر بات چیت پر آمادہ ہوئی ہیں۔ یہ پیش رفت محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ عالمی سیاست میں ایک نئے امکان کی نوید ہے، جس میں طاقت کے بجائے مکالمے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

 یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا پہلا دور اگرچہ کسی واضح معاہدے پر منتج نہیں ہوا، لیکن سفارت کاری کے اصولوں کے مطابق یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ ایسے معاملات میں فوری نتائج کی توقع رکھنا حقیقت پسندی کے خلاف ہے۔ اصل کامیابی اس بات میں مضمر ہوتی ہے کہ فریقین بات چیت پر آمادہ ہوں اور ایک دوسرے کے موقف کو سننے کے لیے تیار ہوں، یہی وہ پہلا قدم ہوتا ہے جو کسی بھی بڑے معاہدے کی بنیاد بنتا ہے۔

 دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے اس کشیدگی کو ایک نئی شدت بخشی ہے۔ آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان ایک ایسا اقدام ہے جس کے اثرات نہایت دور رس ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کو عالمی معیشت کی شہ رگ کہنا مبالغہ نہیں، کیونکہ دنیا کی ایک بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے، اگر اس گزرگاہ میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی منڈیوں، توانائی کی قیمتوں اور صنعتی پیداوار پر فوری طور پر مرتب ہوں گے۔یہی وجہ ہے کہ چین نے اس ممکنہ ناکہ بندی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین کو تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

چین کا یہ موقف نہ صرف اس کے اقتصادی مفادات کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار کو بھی ظاہر کرتا ہے، جہاں وہ خود کو ایک ذمے دار اور متوازن طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔اسی طرح نیٹو کا اس تنازع میں براہ راست شامل ہونے سے گریز ایک اہم اشارہ ہے۔ مغربی اتحاد کی جانب سے محتاط رویہ اختیار کرنا ،اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ اس کشیدگی کو مزید بڑھانے کے بجائے اسے محدود رکھنے کے خواہاں ہیں، یہ رویہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں اب طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری اور توازن کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

 اسرائیل کا کردار بھی اس پورے منظرنامے میں نہایت اہم ہے۔ بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے امریکی موقف کی حمایت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت کرتا ہے جو ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کر سکے، تاہم یہ حکمت عملی بھی اپنے اندر کئی خطرات سموئے ہوئے ہے، کیونکہ دباؤ کی پالیسی اکثر ردعمل کو جنم دیتی ہے۔ایران کی جانب سے سخت ردعمل اور اس کی عسکری قیادت کی وارننگز اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ حالات کسی بھی وقت بگڑ سکتے ہیں۔

جب ریاستیں اپنی خودمختاری کو خطرے میں محسوس کرتی ہیں تو وہ اکثر جارحانہ حکمت عملی اختیار کرتی ہیں، اور یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں سفارت کاری کی ناکامی کے اثرات نمایاں ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ایسے میں جے ڈی وینس کی جانب سے مذاکرات کو مثبت قرار دینا ایک امید افزا اشارہ ہے۔ اگرچہ یورینیم افزودگی اور جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے اختلافات بدستور موجود ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے پیچیدہ معاملات کا حل فوری طور پر ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے لیے مسلسل بات چیت، اعتماد سازی اور تدریجی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔

پاکستان کے لیے یہ موقع ایک دو دھاری تلوار کی مانند ہے۔ ایک طرف یہ اس کے لیے عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو مستحکم کرنے کا سنہری موقع ہے، تو دوسری جانب یہ ایک بڑی ذمے داری بھی ہے، اگر پاکستان اس عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے تو وہ نہ صرف ایک موثر ثالث کے طور پر ابھر سکتا ہے بلکہ عالمی سیاست میں ایک اہم کردار بھی حاصل کر سکتا ہے،تاہم کسی بھی ناکامی کی صورت میں اس کے اثرات اس کی خارجہ پالیسی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ عالمی طاقتیں اس تنازع کو کس حد تک طول دینا چاہتی ہیں اور کس حد تک اسے حل کرنے میں سنجیدہ ہیں۔ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اکثر تنازعات صرف اصولی اختلافات کی بنیاد پر نہیں بلکہ مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے بھی جاری رہتے ہیں۔ توانائی کے وسائل، جغرافیائی اہمیت اور سیاسی اثر و رسوخ جیسے عوامل اس تنازع کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔آبنائے ہرمز کی جیو اکنامک اہمیت اس تمام بحث کا ایک مرکزی نکتہ ہے۔ یہ محض ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم ذریعہ ہے، اگر اس راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر فوری اور شدید ہوں گے۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک اس تنازع کو بڑھانے کے بجائے اسے کم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں فعال کردار اور لبنان کے مسئلے پر اس کا واضح مؤقف بھی اس کی خارجہ پالیسی کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہتا ہے بلکہ عالمی سطح پر امن اور استحکام کے لیے بھی کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان نے جس جرات، بصیرت اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نازک ذمے داری کو قبول کیا ہے، وہ نہایت قابلِ تحسین ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ایسی امید کی کرن ہیں جو ایک تاریک عالمی منظرنامے میں روشنی کا پیغام دے رہی ہیں، اگر یہ کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ پاکستان جنگ کے خاتمے اور قیام امن کے لیے اپنی بھرپور کوشش کررہا ہے، توقع اور امید ہے کہ بہت جلد نہ صرف جنگ بندی میں توسیع ہوگی ، بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرا دور بھی شروع ہوگا، جس میں مزید فریقین بھی شریک ہوکر جنگ کے خاتمے میں اپنا اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

تاریخ انسانی شاہدہے کہ جنگ ہمیشہ تباہی وبربادی کا پیشہ خیمہ ثابت ہوتی ہے، اور اس کے خاتمہ ہمیشہ مذاکرات کی میز پر ہوتا ہے، دنیا کو امن کو ضرورت ہے، یقینا امریکا، ایران اور اسرائیل کو بلاخر ایک امن معاہدے پر متفق ہونا پڑے گا، یہی وقت کیا اہم ترین ضرورت ہے اور اسی میں انسانیت کی فلاح کا راز مضمر ہے۔

دنیا کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ مکالمہ، برداشت اور باہمی احترام ہے، اگر امریکا، ایران اور اسرائیل اس حقیقت کو تسلیم کر لیں تو ایک ایسا مستقبل ممکن ہے جہاں جنگ کے بجائے امن، نفرت کے بجائے ہم آہنگی اور تصادم کے بجائے تعاون کو فروغ حاصل ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف خطے بلکہ پوری انسانیت کے لیے فلاح اور ترقی کا ضامن بن سکتا ہے۔