عالمی امن کے لیے پاکستان کا ابھرتا کردار

پاکستان نے اس بحران میں جو سفارتی حکمت عملی اختیار کی ہے اسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے


اطہر قادر حسن April 15, 2026

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے جہاں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ اسرائیل کی سازش سے امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف اختیار کی گئی جارحانہ پالیسی نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

جنگ کے بادل چھٹنے کے بجائے مزید گہرے ہو رہے ہیں اور جو اطلاعات میدانِ جنگ سے موصول ہو رہی ہیں وہ تباہی اور بربادی کی ہولناک تصویر پیش کرتی ہیں۔ ایران کے مختلف علاقوں میں ہونے والی بمباری اور حملوں نے انسانی جانوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی رپورٹس اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ محض ایک محدود کارروائی نہیں بلکہ ایک منظم دباؤ کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ امریکا جو ہمیشہ اپنے مفادات کو ترجیح دینے کے حوالے سے جانا جاتا ہے ایک بار پھر اسی روش پر گامزن دکھائی دیتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ امریکا کی دوستی اکثر مفادات کے تابع رہی ہے اور جیسے ہی اس کے مقاصد پورے ہوتے ہیں وہ اپنے اتحادیوں کو تنہا چھوڑنے میں دیر نہیں لگاتا۔حالیہ جنگ کے دوران امریکی صدر کے مسلسل بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ صبح و شام دیے جانے والے متضاد اور جارحانہ بیانات نہ صرف سفارتی آداب کے منافی ہیں بلکہ عالمی سطح پر بے چینی کو بھی ہوا دے رہے ہیں۔ خاص طور پر مسلم ممالک کے حوالے سے استعمال کی جانے والی زبان نے شدید ردعمل کو جنم دیا ہے اور اسے کئی حلقوں میں ناقابل قبول قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایران نے واضح طور پر مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی جارحیت کا دفاع کر رہا ہے۔ ایرانی قیادت کے مطابق جہاں جہاں سے اس پر حملے کیے گئے ہیں وہاں بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔ اس ردعمل کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک بھی اس کشیدگی کی لپیٹ میں آ چکے ہیں جس سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو گیا ہے ۔

اس صورتحال نے مسلم اُمہ کے اتحاد پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے اور یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ بیرونی قوتیں مسلم ممالک کو باہمی تنازعات میں الجھانے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔تاہم اس تمام تر کشیدگی کے باوجود اس جنگ کے حتمی نتائج کے بارے میں ابھی کوئی واضح پیش گوئی کرنا ممکن نہیں۔ حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی پیش رفت سامنے آ رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کا کردار نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے جس نے ایک ذمے دار اور بالغ نظر ریاست کے طور پر ثالثی کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔پاکستان نے اس بحران میں جو سفارتی حکمت عملی اختیار کی ہے اسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔

ایک طویل عرصے کے بعد یہ تاثر ابھر کر سامنے آیا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی درست سمت میں گامزن ہے۔ اسلام آباد نہ صرف خطے بلکہ عالمی سفارتکاری میں ایک فعال کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں میں ایک بڑی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔ان مذاکرات کے انعقاد میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے مشترکہ طور پر کردار ادا کیا جسے ایک مثبت مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اگرچہ مذاکرات کا عمل ابھی تک کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا تاہم یہ ایک اہم پیش رفت ضرور ہے کہ دونوں فریقین نے ایک دوسرے کا مؤقف سننے پر آمادگی ظاہر کی۔

ادھر میدانِ جنگ کے علاوہ معاشی محاذ پر بھی اس تنازع کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکا ہے۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں طرح کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔ مہنگائی میں اضافہ، تجارتی عدم توازن اور سرمایہ کاری میں کمی جیسے مسائل شدت اختیار کر رہے ہیں۔خود امریکا کے اندر بھی اس جنگ کے حوالے سے تحفظات پائے جا رہے ہیں۔

سیاسی اور عوامی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ جنگ واقعی ضروری تھی یا محض طاقت کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔ ایران کی جانب سے بھرپور مزاحمت نے بھی امریکی عسکری برتری کے تصور کو چیلنج کیا ہے جس سے عالمی سطح پر طاقت کے توازن کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی نے عالمی تجارت کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ اگرچہ امریکا نے اس حوالے سے اعلان کیا لیکن عملی طور پر اسے مؤثر بنانا آسان ثابت نہیں ہو رہا۔ ایران کی جانب سے مزاحمت اور خطے کی پیچیدہ جغرافیائی صورتحال اس اقدام کو مشکل بنا رہی ہے۔

اس تمام تر صورتحال میں پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ اگرچہ بظاہر مذاکرات تعطل کا شکار دکھائی دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ بات چیت کا عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ سفارتکاری میں اکثر اہم پیش رفت پس پردہ ہی ہوتی ہے اور یہی توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان مستقبل میں بھی اس عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ کسی بھی تنازع کا دیرپا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ہی ہوتے ہیں۔

جب ایک بار بات چیت کا دروازہ کھل جائے تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں بھی یہی امید کی جا رہی ہے کہ تمام فریقین بالآخر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے اور ایک قابل قبول حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔

 یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان اس وقت ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ امریکا، ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت پاکستان کو ایک منفرد حیثیت دیتی ہے۔ اگر یہ کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو نہ صرف خطے میں استحکام آئے گا بلکہ پاکستان کا عالمی وقار بھی مزید بلند ہوگا۔یہ کشیدگی ابھی اپنے اختتام کو نہیں پہنچی اور آنے والے دنوں میں اس میں مزید اتار چڑھاؤ متوقع ہیں۔ تاہم امید کی جا سکتی ہے کہ سفارتی کاوشیں بالآخر رنگ لائیں گی اور خطہ ایک بڑے تصادم سے محفوظ رہ سکے گا۔