ترقی کے لیے مالیاتی نظام کی اہمیت

فنانشل سسٹم خصوصاً بینکاری نظام کسی بھی معاشرے میں صرف رقم جمع کرانے یا نکالوانے کی جگہ نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک مکمل مالیاتی نظام کا مرکز ہوتے ہیں۔


[email protected]

فنانشل سسٹم خصوصاً بینکاری نظام کسی بھی معاشرے میں صرف رقم جمع کرانے یا نکالوانے کی جگہ نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک مکمل مالیاتی نظام کا مرکز ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے سیاسی اور معاشی امور کے ماہرعزیز سنگھور کے مطابق جدید دنیا میں بینکنگ نظام کے بغیر ترقی کا تصور ممکن نہیں ہے۔ بینکنگ سسٹم صارفین کو بچت کی سہولت فراہم کرتے ہیں، قرضے دیتے ہیں، سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرتے ہیں اور مالیاتی شفافیت کو فروغ دیتے ہیں۔ جب کسی ملک یا شہر میں بینکاری نظام متاثر ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی سطح پر بھی ظاہر ہوتے ہیں۔

آج کے دور میں فنانشل سسٹم ترقی کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔جدید ریاستوں میں مالیاتی نظام کو بنیادی ڈھانچے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ جس طرح سڑکیں،اسپتال اور اسکول ضروری ہوتے ہیں، اسی طرح بینک بھی ایک بنیادی سہولت شمار ہوتے ہیں۔ کسی جگہ یہ سسٹم نہ ہو یا اگر موجود ہے تو اس میں تعطل یا رکاوٹ آجائے تو پھر اس علاقے کی سماجی زندگی کا ایک اہم پہلو مفلوج ہوجاتا ہے۔ اس کے اثرات سب سے زیادہ عام شہریوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔

سرکاری ملازمین، پنشنرز، مزدور اور چھوٹے کاروباری افراد اس صورتحال سے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ جن لوگوں کی ماہانہ آمدنی کا انحصار تنخواہوں یا پنشن پر ہوتا ہے، انھیں اپنی رقوم وصول کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ایک چھوٹے تاجر کے لیے روزمرہ لین دین، چیک کلیئرنس، رقم کی ترسیل اور کاروباری ادائیگیاں بینکنگ سسٹم کے بغیر ممکن نہیں ہوتیں۔ جب یہ سہولیات میسر نہ ہوں تو کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونا ایک فطری امر ہے۔ اس کا براہ راست اثر مقامی منڈیوں، روزگار کے مواقع اور تجارتی سرگرمیوں پر پڑتا ہے۔

 بلوچستان کا ضلع نوشکی جغرافیائی، تاریخی اور تجارتی لحاظ سے ایک اہم خطہ ہے۔ یہ ضلع نہ صرف سرحدی تجارت کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے بلکہ ماضی میں قافلوں کے گزرگاہ کے طور پر بھی اپنی شناخت رکھتا رہا ہے۔ اس کا شمار ملک کے ان اضلاع میں ہوتا ہے جہاں غربت کی شرح سب سے زیادہ ہے، یہ شرح تقریباً 60 فیصد ہے۔ نوشکی ڈویژن کی آبادی 207,834 ہے اور خواندگی کا تناسب 57 فیصد کے قریب ہے مگر خواتین میں خواندگی کا تناسب خاصا کم ہے۔ آبادی میں سے 35 فیصد افراد کی عمریں 10 سال سے کم ہیں ، نوشکی مسلسل دہشت گردی کا شکار ہے۔ اس دہشت گردی سے عوام براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔

بینکاری سہولیات نہ ہو نے کی وجہ سے کاروباری طبقے کو ہی نہیں بلکہ عوام کو بھی مشکلات کا سامنا ہے ۔بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ نے متعلقہ بینکوں کے سربراہان کو باضابطہ خطوط ارسال کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ بینک برانچز کو ہنگامی بنیادوں پر بحال کیا جائے تاکہ عوام اور کاروباری طبقے کو درپیش مشکلات کا فوری ازالہ ممکن ہو سکے۔ یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں دہشت گردوں اور شرپسندوں نے نوشکی میں مالیاتی اداروں کی برانچز کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا تھا، جس کے نتیجے میں مالیاتی سرگرمیاں تقریباً مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔

 نوشکی کی جغرافیائی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نوشکی کی معیشت کا ایک بڑا حصہ زراعت اور مویشی بانی پر مشتمل ہے۔ یہاں گندم، جو اور خاص طور پر زیرہ کی پیداوار مشہور ہے۔ کسان اپنی فصلوں کی فروخت کے بعد رقم کی محفوظ ترسیل اور ذخیرہ کے لیے بینکوں پر انحصار کرتے ہیں۔ایک پہلو پنشنرز اور بزرگ شہریوں کی مشکلات ہیں۔ ایسے افراد جو پہلے ہی جسمانی کمزوری یا بیماری کا شکار ہوتے ہیں، انھیں اپنی پنشن وصول کرنے کے لیے دوسرے شہروں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا خطوط ارسال کرنا ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم صرف خطوط سے مسئلہ حل نہیں ہوگا جب تک عملی اقدامات نہ کیے جائیں۔ اگر اس معاملے میں مشکلات حائل ہیں تو عارضی برانچز یا موبائل بینکنگ یونٹس کے ذریعے سسٹم فعال کیا جاسکتاہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی، صوبائی اور وفاقی سطح پر مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کے دور دراز اضلاع پہلے ہی بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں، ایسے میں مالیاتی سسٹم کی عدم موجودگی ترقی کے عمل کو مزید متاثر کرتی ہے۔ ضروری ہے کہ اس کام کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں۔

 آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بینکنگ سسٹم کسی بھی معاشرے کی اقتصادی شہ رگ ہوتے ہیں۔ ان کی عدم فعالیت یا بندش صرف مالیاتی سرگرمیوں کو نہیں متاثر کرتی بلکہ ایک پورے معاشرتی ڈھانچے کو متاثر کرتی ہے۔

ضلع نوشکی جیسے اہم علاقے میں بینکوں کی فعالیت نہ صرف عوامی ضرورت ہے بلکہ ایک انتظامی ذمے داری بھی ہے، اگر اس مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو اس کے اثرات آنے والے وقت میں مزید گہرے اور دور رس ہو سکتے ہیں۔ لہذا بلوچستان کی صوبائی حکومت، وفاقی حکومت ہی نہیں بلکہ بلوچستان خصوصاً ضلع نوشکی کے کاروباری طبقے اور سیاست دانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کریں تاکہ نوشکی کے شہریوںکو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے اور علاقے کی معاشی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہو سکیں۔ بلوچستان مسلسل برسوں سے بدامنی کا شکار ہے۔