امن، امن اور صرف امن

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا پرامن حل نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے خوش آیند ثابت ہو سکتا ہے


زاہدہ حنا April 15, 2026

اسلام آباد کی فضا میں جب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی خبر سنائی دی تو یوں محسوس ہوا جیسے طویل اندھیری رات کے بعد اُفق پر روشنی کی ایک مدھم سی لکیر ابھر آئی ہو، اگرچہ یہ بات چیت کسی حتمی معاہدے پر نہ پہنچ سکی مگر اس نے ایک بار پھر یہ امید ضرور جگائی کہ دنیا کے پیچیدہ ترین تنازعات کا حل جنگ نہیں بلکہ مکالمے اور افہام و تفہیم میں پوشیدہ ہے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ بندوق کی گھن گرج نے ہمیشہ تباہی کو جنم دیا ہے جب کہ مذاکرات نے انسانیت کے لیے امن کی راہیں ہموار کی ہیں۔

ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق اور ڈیجیٹل انقلاب نے دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے۔ فاصلے سمٹ چکے ہیں ، رابطے آسان ہو گئے ہیں اور معلومات کی رسائی نے انسانی شعور کو نئی وسعتیں عطا کی ہیں، مگر اس تمام تر ترقی کے باوجود انسان اب بھی جنگوں کے سائے سے آزاد نہیں ہو سکا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی اختلافات کے حل کے لیے ہتھیاروں کا سہارا لیا جا رہا ہے حالانکہ اس کے نتائج ہمیشہ تباہ کن ثابت ہوئے ہیں۔

 ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کئی دہائیوں پر محیط ہے جس کا آغاز 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد ہوا۔ اس کشیدگی نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن کو متاثر کیا ہے۔ پابندیوں دھمکیوں اور پراکسی تنازعات نے اس تعلق کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے میں جب بھی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی کوئی صورت پیدا ہوتی ہے تو یہ عالمی سطح پر امید کی ایک نئی کرن ثابت ہوتی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی حالیہ بات چیت بھی اسی امید کی ایک جھلک تھی جس نے یہ پیغام دیا کہ شدید ترین اختلافات کے باوجود مکالمے کے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں۔

 یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان نے 1979 کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنی بساط کے مطابق کوششیں کیں۔ اسلام آباد میں ہونے والی حالیہ بات چیت بھی انھی سفارتی کاوشوں کا تسلسل معلوم ہوتی ہے۔ یہ اقدامات اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ اختلافات کے حل کے لیے بات چیت ہی واحد موثر راستہ ہے۔

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جنگوں نے انسانیت کو صرف دکھ درد اور تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں نے کروڑوں انسانوں کو موت کی نیند سلا دیا، شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی کی تباہی آج بھی انسانیت کے ضمیر پر ایک گہرا زخم ہے۔ ان واقعات نے یہ ثابت کر دیا کہ طاقت کے اندھے استعمال کا انجام ہمیشہ ہولناک ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جب بھی قوموں نے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا امن اور استحکام کی نئی راہیں کھلیں۔ سرد جنگ کی طویل کشمکش بھی بالآخر بات چیت اور سفارتی حکمت ِ عملی کے ذریعے ہی اپنے انجام کو پہنچی۔

جنگ جب بھی ہوتی ہے اس کا سب سے زیادہ بوجھ عام انسان اٹھاتا ہے۔ مائیں اپنے بیٹوں کو کھو دیتی ہیں ،بچے یتیم ہو جاتے ہیں، بستیاں اجڑ جاتی ہیں اور انسانی تہذیب کے نقوش مٹنے لگتے ہیں۔ ایک انسان کی موت صرف ایک فرد کا نقصان نہیں ہوتی بلکہ ایک پورے خاندان کے خوابوں کا بکھر جانا ہوتی ہے۔ اسی طرح جب شہر تباہ ہوتے ہیں تو صرف عمارتیں نہیں گرتیں بلکہ صدیوں پرانی تہذیبی یادیں بھی مٹ جاتی ہیں۔ اس لیے یہ سوال نہایت اہم ہے کہ آخر جنگیں کس کے مفاد میں لڑی جاتی ہیں؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ان جنگوں کا فائدہ چند طاقتور حلقوں کو تو ہو سکتا ہے مگر عام انسان ہمیشہ اس کی قیمت ادا کرتا ہے۔

 آج کی دنیا میں جہاں ٹیکنالوجی نے انسان کو بے پناہ طاقت عطا کر دی ہے وہاں جنگوں کی تباہ کاریوں میں بھی کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ جدید ہتھیار چند لمحوں میں پورے کے پورے شہروں کو مٹا سکتے ہیں۔ ڈرون ٹیکنالوجی اور سائبر وارفیئر نے جنگ کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا دیا ہے۔ ایسے میں یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ عالمی طاقتیں تصادم کے بجائے مکالمے کو ترجیح دیں۔ جب انسان چاند اور مریخ تک رسائی حاصل کر سکتا ہے تو وہ اپنے باہمی تنازعات کو حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، بشرطیکہ اس کے اندر امن اور انسان دوستی کا جذبہ موجود ہو۔

امن صرف جنگ کی عدم موجودگی کا نام نہیں بلکہ یہ انصاف مساوات اور انسانی وقار کے احترام سے عبارت ہے۔ جب تک دنیا میں ناانصافی استحصال اور جبر موجود رہیں گے پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اقتصادی عدم مساوات، سیاسی جبر اور انسانی حقوق کی پامالی وہ عوامل ہیں جو تنازعات کو جنم دیتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری نہ صرف جنگوں کو روکنے کی کوشش کرے بلکہ ان بنیادی وجوہ کا بھی تدارک کرے جو تصادم کو جنم دیتی ہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا پرامن حل نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے خوش آیند ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے خطے میں استحکام آئے گا توانائی کی منڈیوں میں توازن پیدا ہوگا اور عالمی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس سے انسانیت کو ایک بار پھر یہ یقین حاصل ہوگا کہ اختلافات کو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔

اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت اگرچہ کسی حتمی معاہدے پر نہ پہنچ سکی مگر اس نے امید کے چراغ کو روشن ضرور کیا ہے۔ مذاکرات کا عمل خود ایک کامیابی ہوتا ہے کیونکہ یہ اعتماد سازی کی بنیاد فراہم کرتا ہے اور مستقبل میں پیش رفت کی راہیں ہموار کرتا ہے۔ امن ایک لمحاتی واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے جس کے لیے صبر، بصیرت اور اخلاص کی ضرورت ہوتی ہے۔

آج کے شورش زدہ عالم میں یہ احساس پہلے سے کہیں زیادہ شدت اختیار کر چکا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ انسانی تاریخ کا ہر خونچکاں باب ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ نفرت اور تشدد کے راستے ہمیشہ تباہی کی طرف لے جاتے ہیں جب کہ محبت، مکالمہ اور باہمی احترام ہی وہ اقدار ہیں جو ایک پرامن اور خوشحال دنیا کی بنیاد رکھ سکتی ہیں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اختلافِ رائے فطری امر ہے مگر اس کا حل تصادم نہیں بلکہ گفت و شنید ہے۔

اگر عالمی طاقتیں اپنے وسائل کو اسلحے کے انبار لگانے کے بجائے تعلیم، صحت اور انسانی فلاح و بہبود پر صرف کریں تو دنیا ایک بہتر اور محفوظ مقام بن سکتی ہے۔ بھوک، غربت اور جہالت وہ مسائل ہیں جو کسی بھی جنگ سے زیادہ سنگین ہیں مگر افسوس کہ ان کے حل کے لیے وہ سنجیدگی اختیار نہیں کی جاتی جو ہتھیاروں کی تیاری کے لیے کی جاتی ہے۔ یہ انسانی ترجیحات کا المیہ ہے جسے بدلنے کی ضرورت ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات خواہ وہ کسی فوری نتیجے تک نہ پہنچ سکے ہوں ،اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ امن کا راستہ مکالمے سے ہو کر گزرتا ہے۔ دنیا کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ باہمی اعتماد برداشت اور انسان دوستی ہے، اگر ہم واقعی ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کے خواہاں ہیں تو ہمیں جنگ کے بجائے امن کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔

امن، امن اور صرف امن یہی وہ پیغام ہے جو آج کے انسان کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسانیت کی بقا اور ایک روشن مستقبل کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔ جب قومیں ہتھیاروں کے بجائے الفاظ پر اعتماد کرنا سیکھ لیں گی تو وہ دن دور نہیں جب دنیا حقیقی معنوں میں امن کا گہوارہ بن جائے گی۔