امریکی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے ایران پر زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ کی پالیسی جاری ہے اور اب اسے مزید سخت کیا جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اعلان امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران کیا۔
انھوں نے کہا کہ ایرانی تیل خریدنے یا اپنے بینکوں میں ایرانی رقوم رکھنے والے ممالک کے خلاف سخت اقدامات اُٹھائیں گے۔
امریکی وزیر خزانہ نے نے بتایا کہ امریکا نے ایران کے خلاف اب آپریشن اکنامک فیری شروع کیا ہے۔ جس کا مقصد ایرانی حکومت کی مالی وسائل تک کی رسائی روکنا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس اکنامک آپریشن میں خاص طور پر پاسداران انقلاب کے مالی نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاسداران انقلاب کی قیادت کے مزید اثاثے منجمد کیے جائیں گے اوت ایرانی قیادت سے منسلک افراد کے مالی وسائل بھی نشانہ بنیں گے۔
علاوہ ازیں امریکی محکمہ خزانہ نے انسداد دہشت گردی کے تحت ایران سے وابستہ 3 شخصیات اور 17 اداروں پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔