ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور بھی پاکستان میں ہونے کا امکان ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران سے مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں ہوسکتا ہے۔ اگلے دو دن میں کچھ ہو سکتا ہے اور ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں، پتہ ہے کیوں؟ کیونکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔
اس سے قبل ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور ہو تو پاکستان ہماری ترجیح ہے جب کہ پاکستان نے ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش کردی ہے۔ دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے اثرات عالمی معیشت پر پڑنا شروع ہو چکے ہیں، اگر تنازع طویل ہوا اور توانائی کے شعبے کو مزید نقصان پہنچا تو عالمی شرح نمو کم ہو کر 2 فیصد تک آ سکتی ہے جب کہ اگلے سال مہنگائی میں 6 فیصد سے زائد اضافہ متوقع ہے۔
مشرق وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے اس نازک اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر قدم نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے مستقبل کو متاثر کر سکتا ہے۔ حالیہ پیش رفتیں،ایران اور امریکا کے درمیان متوقع مذاکرات، آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال، عالمی معیشت پر بڑھتے ہوئے دباؤ، اور خطے میں تیز ہوتی سفارتی سرگرمیاں،یہ سب اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ دنیا ایک بار پھر ایک بڑے امتحان سے گزر رہی ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا دوبارہ آغاز بلاشبہ ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن اس کے پس منظر میں چھپی پیچیدگیاں اس امید کو مکمل یقین میں بدلنے نہیں دیتیں۔ یورینیئم افزودگی کے معاملے پر اختلاف، جو بظاہر ایک سائنسی اور تکنیکی مسئلہ معلوم ہوتا ہے، درحقیقت سیاسی عدم اعتماد، تاریخی تنازعات اور عالمی طاقت کے کھیل کا مظہر ہے۔
امریکا کی جانب سے بیس سالہ پابندی کا مطالبہ اور ایران کا پانچ سال پر اصرار اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے ارادوں پر مکمل اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ اختلاف صرف مدت کا نہیں بلکہ نظریے، خودمختاری اور سلامتی کے تصور کا ہے،اگر اس تنازع کو تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ایران اور امریکا کے تعلقات ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ ماضی کے معاہدے، جو بڑی امیدوں کے ساتھ طے پائے، داخلی سیاسی تبدیلیوں اور عالمی دباؤ کے باعث پائیدار ثابت نہ ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب مذاکرات کی بات ہوتی ہے تو دونوں فریق ایک دوسرے کے وعدوں پر مکمل یقین کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔
اس عدم اعتماد کی فضا کو ختم کیے بغیر کسی بھی معاہدے کی کامیابی محض ایک عارضی حقیقت ہوگی۔ایسے میں پاکستان کا بطور میزبان سامنے آنا ایک غیر معمولی سفارتی موقع بھی ہے اور ایک کڑا امتحان بھی۔ پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش اور فریقین کا اس پر آمادگی ظاہر کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا اب ایسے پلیٹ فارمز کی تلاش میں ہے جو غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد ہوں۔
پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، مسلم دنیا میں اس کا مقام اور بڑی طاقتوں کے ساتھ اس کے متوازن تعلقات اسے ایک منفرد حیثیت دیتے ہیں۔تاہم یہ کردار ادا کرنا آسان نہیں۔ ثالثی کا عمل صرف میز فراہم کرنے کا نام نہیں بلکہ اعتماد قائم کرنے، اختلافات کو سمجھنے اور ایک قابلِ قبول راستہ نکالنے کا عمل ہے۔ پاکستان کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ مذاکرات شفاف، مسلسل اور نتیجہ خیز ہوں، اگر یہ عمل کامیاب ہوتا ہے تو یہ نہ صرف پاکستان کی سفارتی کامیابی ہوگی بلکہ عالمی سطح پر اس کے کردار کو ایک نئی پہچان بھی ملے گی۔
اسی تناظر میں پاکستان کی قیادت کے سعودی عرب، ترکیہ اور قطر کے دورے بھی نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ دورے ایک مربوط سفارتی حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں جس کا مقصد خطے میں امن اور استحکام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ سعودی عرب، جو مسلم دنیا کی ایک بڑی طاقت ہے، حالیہ برسوں میں اپنے علاقائی کردار کو ایک نئی جہت دے رہا ہے۔ ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں مفاہمت کا ایک نیا باب کھل سکتا ہے۔ترکیہ، اپنی جغرافیائی اور سیاسی حیثیت کے باعث، ہمیشہ مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔
اس کی سفارتی مہارت اور علاقائی اثر و رسوخ اسے اس عمل میں ایک اہم فریق بناتے ہیں۔ قطر، جو ماضی میں بھی کئی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کر چکا ہے، ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کر سکتا ہے جہاں پیچیدہ مسائل کو نسبتاً نرم ماحول میں زیر بحث لایا جا سکے۔تاہم ان تمام سفارتی کوششوں کے باوجود زمینی حقائق خاصے پیچیدہ اور بعض اوقات تشویشناک ہیں۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال اس پیچیدگی کی ایک واضح مثال ہے۔ یہ تنگ مگر انتہائی اہم بحری گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔ یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کرتی ہے۔ امریکی نگرانی اور ناکہ بندی کے دعوؤں کے باوجود تجارتی جہازوں کا گزرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صورتحال مکمل طور پر قابو میں نہیں۔
عالمی مالیاتی ادارے کی حالیہ رپورٹ بھی اسی خدشے کو مزید تقویت دیتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی یا اس میں اضافہ ہوا تو عالمی شرحِ نمو میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ مہنگائی میں اضافہ، توانائی کی قیمتوں میں غیر یقینی اور ترقی پذیر ممالک پر بڑھتا ہوا دباؤ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ بحران صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہے گا۔خاص طور پر ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں، اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے سب سے پہلی شرط نیت کی شفافیت ہے۔ جب تک فریقین ایک دوسرے کو نیچا دکھانے یا وقتی فائدہ حاصل کرنے کے بجائے مسئلے کے حل کی نیت سے میز پر نہیں آئیں گے، کوئی بھی معاہدہ دیرپا ثابت نہیں ہوگا۔ ایران کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ عالمی برادری کے خدشات محض سیاسی نہیں بلکہ سلامتی سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی طرح امریکا کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری کو نظرانداز کر کے پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔دوسری اہم شرط تسلسل ہے۔ ماضی میں کئی بار مذاکرات ہوئے، لیکن وہ کسی نہ کسی وجہ سے ٹوٹ گئے۔ اس عدم تسلسل نے عدم اعتماد کو جنم دیا۔ اس بار ضروری ہے کہ مذاکرات کو ایک طویل المدتی عمل کے طور پر دیکھا جائے، نہ کہ فوری نتائج حاصل کرنے کے ایک ذریعہ کے طور پر۔تیسری شرط علاقائی شمولیت ہے۔ مشرق وسطیٰ کے مسائل کا حل صرف دو ممالک کے درمیان ممکن نہیں۔
اس کے لیے ایک وسیع تر علاقائی مکالمہ درکار ہے، جس میں تمام متعلقہ فریقین کو شامل کیا جائے۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور قطر جیسے ممالک اس ضمن میں ایک پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔چوتھی شرط اعتماد سازی کے عملی اقدامات ہیں۔ قیدیوں کا تبادلہ، پابندیوں میں جزوی نرمی، انسانی بنیادوں پر تعاون اور کشیدگی میں کمی جیسے اقدامات اس عمل کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو نہ صرف مذاکرات کو تقویت دیتے ہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی اعتماد پیدا کرتے ہیں۔پانچویں شرط عالمی طاقتوں کا ذمے دارانہ کردار ہے۔ چین، روس اور یورپی ممالک کو بھی اس عمل میں مثبت کردار ادا کرنا ہوگا، اگر عالمی سیاست صرف مفادات کے گرد گھومتی رہی تو ایسے تنازعات کبھی حل نہیں ہو سکیں گے۔
ایک متوازن اور منصفانہ عالمی نظام ہی پائیدار امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا اس وقت جس سمت جا رہی ہے، وہاں کسی نئی جنگ کی گنجائش نہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی، معاشی عدم استحکام، اور سماجی بے چینی نے پہلے ہی عالمی نظام کو کمزور کر رکھا ہے۔ ایسے میں مشرقِ وسطیٰ میں ایک طویل تنازع پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے، لہٰذا یہ وقت ہے کہ تمام فریقین اپنی ذمے داریوں کا ادراک کریں۔
مذاکرات کو محض ایک رسمی عمل کے بجائے ایک سنجیدہ اور نتیجہ خیز کوشش بنایا جائے۔ اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے حل کی راہ تلاش کی جائے۔ طاقت کے مظاہرے کے بجائے اعتماد سازی پر زور دیا جائے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس حقیقت کو تسلیم کیا جائے کہ امن کسی ایک فریق کی جیت نہیں بلکہ سب کی بقا کا ضامن ہے،اگر یہ اصول اپنائے گئے تو بعید نہیں کہ موجودہ بحران ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو، جہاں مشرقِ وسطیٰ جنگوں کی سرزمین کے بجائے امن، استحکام اور تعاون کی علامت بن جائے، لیکن اگر یہ موقع بھی ضایع ہو گیا تو تاریخ ایک بار پھر یہی لکھے گی کہ انسان نے اپنی ضد، انا اور مفادات کی خاطر ایک اور موقع کھو دیا۔
دنیا کو امن چاہیے اور یہ امن صرف اسی وقت ممکن ہے جب طاقتور تحمل کا مظاہرہ کریں، کمزور اعتماد کا، اور سب مل کر ایک ایسا راستہ اختیار کریں جو تصادم کے بجائے مکالمے، دشمنی کے بجائے تعاون، اور جنگ کے بجائے امن کی طرف لے جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری انسانیت کو ایک محفوظ، مستحکم اور روشن مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔