لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن پر حملے میں ایک فرانسیسی فوجی ہلاک جب کہ تین دیگر اہلکار زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے الزام عائد کیا کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے، اس حملے کے پیچھے حزب اللہ کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔
انھوں نے لبنانی حکام سے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار عناصر کو فوری طور پر گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
ادھر لبنان کے وزیر اعظم نے بھی اس حملے کی مذمت کی اور فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
لبنانی وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں تعینات امن فوجیوں کی حفاظت یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے اور کسی بھی گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اقوام متحدہ کے امن مشن نے بھی کی تصدیق کی کہ حملہ امن فوجیوں کی سیکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ ہے اور اس کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔
دوسری جانب حزب اللہ کی جانب سے ابتدائی طور پر اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
لبنانی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور حتمی ذمہ داری کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
امریکا، برطانیہ، جرمنی اور یورپی یونین سمیت کئی ممالک نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے امن مشن کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
ادھر اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے شمالی غزہ میں اپنی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں جب ایک حملے میں اس کے ٹھیکیدار ڈرائیورز ہلاک ہوگئے۔
یونیسف کے بیان کے مطابق اسرائیلی فوج کی کارروائی میں دو ٹرک ڈرائیورز ہلاک ہوئے جو پانی کی فراہمی کے منصوبے سے وابستہ تھے۔
یہ واقعہ غزہ سٹی کے منصورہ واٹر فلنگ پوائنٹ پر پیش آیا، جہاں دو دیگر افراد بھی زخمی ہوئے۔ جن میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔