نیو یارک ٹائمز میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کیساتھ جاری حساس مذاکرات میں اس کے تمام جوہری پروگرام کو 20 سال کے لیے معطل کرنے کی تجویز دے دی ہے، جب کہ امریکی صدر اب تک ایسی ٹھوس یقین دہانی کے خواہاں ہیں کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہ ہو سکے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے مختصر دورے کے بعد روانگی سے قبل کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بنیادی اختلاف اسی نکتے پر برقرار ہے کہ ایران کو کیسے روکا جائے کہ وہ نہ صرف موجودہ وقت میں بلکہ طویل مدت تک جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر جوہری افزودگی کی مستقل پابندی کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ یہ تجویز پیش کی ہے کہ ایران اپنی تمام جوہری سرگرمیاں 20 برس کے لیے روک دے تاکہ ایران کے لیے یہ موقف اختیار کرنا ممکن ہو جائے کہ اس نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت اپنے حقِ افزودگی سے ہمیشہ کے لیے دستبرداری اختیار نہیں کی۔ذرائع کے مطابق اس کے جواب میں ایران نے ایک بار پھر یہ تجویز سامنے رکھی ہے کہ بیس سال کے بجائے پانچ سال تک اپنی جوہری سرگرمی معطل کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔
امریکی اور ایرانی حکام کے مطابق تہران نے اسی نوعیت کی تجویز اس سے قبل فروری میں جنیوا میں ہونے والے ناکام مذاکرات میں بھی دی تھی اور انھی مذاکرات کی ناکامی کے بعد صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف عسکری کارروائی کا فیصلہ کیا تھا۔ مذاکرات میں کئی دیگر اہم امور بھی زیر بحث رہے کہ جن میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری گزرگاہ کی بحالی اور حماس و حزب اللہ جیسے گروہوں کی ایرانی حمایت کا خاتمہ شامل ہے۔
تاہم ذرائع کے مطابق سب سے بڑا تنازع بدستور یہی ہے کہ ایران نہ تو اپنے جوہری عزائم ترک کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے، نہ ہی اپنی وسیع ایٹمی تنصیبات ختم کرنے اور افزودہ یورینیم کے ذخائر ملک سے باہر منتقل کرنے پر کسی بھی طور آمادہ ہے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس وقت اصل اختلاف جوہری پروگرام کے اصولی خاتمے پر نہیں بلکہ اس کی معطلی کی مدت پر ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کسی ممکنہ معاہدے کی گنجائش ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
یہ اطلاعات بھی ہیں کہ دونوں فریق آیندہ چند روز میں ایک اور بالمشافہ ملاقات پر غور کر رہے ہیں۔صدر ٹرمپ مختلف بیانات میں ماضی میں اوباما دور کے جوائنٹ کمپری ہینسیو پلان آف ایکشن (JCPOA) پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اس معاہدے میں شامل بعض شقیں وقتی تھیں، جو بتدریج ختم ہو جاتیں اور جن کے مان لینے سے ایران کو مزید افزودگی کی اجازت مل جاتی اور 2030 تک بیشتر پابندیاں ختم ہو جاتیں، اگرچہ عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے کے تحت ایران پر بم بنانے کی پابندی برقرار رہتی، لیکن ٹرمپ کے نزدیک یہ انتظام ناکافی تھا۔
امریکا اور ایران کے تعلقات کی تاریخ ایسے اقدامات سے بھری پڑی ہے جن کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو سست کرنا یا اس کی رفتار کم کرنا رہا ہے۔ کبھی یہ کام سائبر حملوں کے ذریعے کیا گیا، کبھی اقتصادی پابندیوں کے ذریعے، اور کبھی سفارتی کوششوں سے۔ اس تمام دباؤ کے باوجود ایران کو ایٹم بم تک پہنچنے میں ان ممالک سے بھی زیادہ وقت لگا ہے جنھوں نے سنجیدگی سے جوہری ہتھیار حاصل کیے، جن میں شمالی کوریا، بھارت، پاکستان اور اسرائیل شامل ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیر کی شام کہا کہ پاکستان میں ایران کیساتھ’’اچھی بات چیت‘‘ہوئی، تاہم اب فیصلہ تہران کو کرنا ہے۔ ان کے بقول ایران نے کچھ لچک ضرور دکھائی، مگر’’ابھی مطلوبہ حد تک پیش رفت نہیں کی۔‘‘ادھر وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیویٹ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ، نائب صدر وینس اور امریکی مذاکراتی ٹیم نے ایران کے سامنے اپنی سرخ لکیریں واضح کر دی ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کی جاری بحری ناکہ بندی نے ایران پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے تہران کی معاہدے کی ضرورت مزید بڑھ سکتی ہے۔
مذاکرات میں ایک اور اہم مسئلہ ایران کے پاس مبینہ طور پر موجود 970 پاؤنڈ ایسے یورینیم کی موجودگی ہے جو نیوکلئیر ہتھیار سازی بنانے میں استعمال ہو سکتا ہے۔ امریکی مطالبہ ہے کہ یہ مواد ایران سے باہر منتقل کیا جائے تاکہ اسے کسی ممکنہ جوہری ہتھیار پروگرام میں استعمال نہ کیا جا سکے۔ اطلاعات کے مطابق یہ بات بھی زیر غور ہے کہ صدر ٹرمپ اصفہان میں زیر زمین محفوظ اس ذخیرے کو قبضے میں لینے کے لیے زمینی کارروائی کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔
جب کہ ایران نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورینیم ملک کے اندر ہی رہے گا، البتہ وہ اسے اتنا کم افزودہ کرنے پر تیار ہے کہ وہ فوری طور پر ہتھیار سازی کے قابل نہ رہے، لیکن ماہرین کے مطابق یہ قدم اگرچہ ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے وقت میں اضافہ کر سکتا ہے، لیکن خطرہ برقرار رہے گا کیونکہ ایران بعد میں اسی مواد کو دوبارہ افزودہ کر کے موجودہ سطح یعنی تقریباً 60 فیصد تک لا سکتا ہے، جب کہ جوہری ہتھیار کے لیے درکار سطح 90 فیصد سمجھی جاتی ہے۔
مذاکرات کے اگلے مرحلے میں ایک اور اہم پہلو ایران کے منجمد مالی وسائل کی بحالی کا بھی ہیں۔ ایران چاہتا ہے کہ مغربی ممالک اس کے تقریباً 6 ارب ڈالر کے فنڈز بحال کریں، جو تیل کی فروخت سے حاصل ہوئے تھے اور ٹرمپ کے پہلے دور کی پابندیوں کے باعث قطر کے بینکوں میں منجمد پڑے ہیں۔صدر ٹرمپ برسوں سے یہ الزام دہراتے رہے ہیں کہ سابق امریکی صدر اوباما کی انتظامیہ نے ایران کو’’جہازوں سے بھری ہوئی‘‘نقد رقم فراہم کی تھی۔
ان کا اشارہ ان 1.4 ارب ڈالر کے ایرانی اثاثوں کی واپسی کی طرف تھا جو طویل عرصے سے منجمد تھے، جب کہ اس کیساتھ تقریباً 300 ملین ڈالر سود بھی شامل تھا۔سفارتی مبصرین کے مطابق ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ مذاکرات کس نتیجے پر پہنچیں گے، تاہم موجودہ پیش رفت سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین کے درمیان مکمل تعطل کے بجائے محدود مگر قابل ذکر سفارتی گنجائش اب بھی موجود ہے۔