یہ کہنا کہ اسلام آباد میں منعقدہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے تھے، سراسر غلط ہے۔ دونوں جانب کے مذاکرات کاروں نے خود کہا تھا کہ انھوں نے اپنے اپنے نکات ایک دوسرے کو بتا دیئے ہیں اور دونوں نے ہی کہا تھا کہ وہ ان نکات سے اپنی اعلیٰ قیادت کو آگاہ کریں گے اور وہ آگے بڑھنے کے لیے جو ہدایات دیں گے، اس پر عمل کیا جائے گا مگر اس کے بعد ہر طرف یہ شور برپا ہو گیا کہ مذاکرات ناکام ہو گئے۔
عالمی تذکرہ کاروں نے بھی کہا تھا کہ یہ دراصل ایک وقفہ ہے، دونوں وفود نے دراصل ان مذاکرات کو حتمی شکل دینے سے قبل اپنے ممالک کی اعلیٰ قیادت کی رضامندی لینے کا فیصلہ کیا تھا جو یقینی طور پر ایک دانش مندانہ فیصلہ تھا کیونکہ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس مسئلے پر گزشتہ 47 سالوں سے کشیدگی جاری تھی، وہ کبھی نہ تو براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہوئے تھے اور پھر ایک میز پر بیٹھ کر اسے سلجھانے کی بات تو کسی کے گمان میں بھی نہیں تھی مگر اسلام آباد میں یہ ممکن ہو گیا تھا۔
اب اگر اسے پاکستان کی ثالثی کا کرشمہ نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔ دونوں ممالک کی رقابت پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی تھی جب کہ اسرائیل اور بھارت اس سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔
اسرائیل تو چاہتا ہی نہیں تھا کہ امریکا ایران جنگ کبھی ختم ہو کیونکہ اس جنگ کا محرک وہی تھا اور اس جنگ سے اسے یہ فائدہ ہو رہا تھا کہ وہ اپنے گریٹر اسرائیل کے ناجائز منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے لبنان پر اسی وقت تابڑتوڑ حملے کر رہا تھا اور اسی دوران اس نے جنوبی لبنان کے کچھ علاقوں پر قبضہ بھی کر لیا تھا اور صرف اس پر ہی اکتفا نہیں کر رہا تھا، مزید آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ ادھر بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کا ایران سے جنگ شروع ہونے سے دو روز قبل اسرائیل کا دورہ ایک پراسرار دورہ تھا جب کہ اس غیرمتوقع دورے کی خود بھارت میں سخت تنقید کی جا رہی تھی مگر مودی کا مقصد نیتن یاہو کی ہمت افزائی کرنا تھا کیونکہ اس کا گریٹر اسرائیل کے منصوبے سے ملتا جلتا اکھنڈ بھارت کا منصوبہ ہے۔
امریکا اور اسرائیل مل کر بھی ایران کو شکست نہیں دے سکے، تو جب ایران کا معرکہ سر نہیں ہو سکا تو پاکستان کو شکست دینا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے کیونکہ پاکستان تو ایک ایٹمی طاقت ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ طے نہ ہونے کی جتنی خوشی بھارت اور اسرائیل کو ہوئی ہے، اتنا ہی دکھ دنیا کے تمام ممالک کو ہوا ہے کیونکہ گیس اور تیل کی کمیابی کے مسئلے نے پوری دنیا متاثر ہے اور اسی مسئلے نے مہنگائی کو کئی گنا بڑھا دیا ہے مگر افسوس کہ پاکستان دشمنی میں بھارت اور اسرائیل کے لیے تیل کی بندش اور مہنگائی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وہ تو بس یہ چاہتے ہیں کہ دنیا کا کچھ بھی ہو، پاکستان کو تباہ وبرباد کر دیا جائے تو ان کے دلوں کو دائمی سکون میسر آ جائے گا۔
اب اس خبر کو ان دونوں ممالک نے کس طور پر لیا ہوگا کہ ایران اور امریکا مذاکرات پھر اسلام آباد میں ہی ہو رہے ہیں اور ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ اب مذاکرات کامیاب بھی ہوں گے اور دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدہ بھی طے پا جائے گا۔ ٹرمپ کی جانب سے یہ کہا جانا کہ یہ مذاکرات کسی دوسرے ملک میں کیسے منعقد کیے جا سکتے ہیں جب اس کا اس معاملے میں کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے تو اس سے پتا لگتا ہے کہ مودی نے ٹرمپ کو جو کال کی ہے وہ یقینا انھیں پاکستان سے بدظن کرنے کے لیے کی گئی ہوگی اور ان مذاکرات کو پاکستان کے بجائے کسی اور ملک میں بلکہ لگتا ہے۔
ٹرمپ سے درخواست کی گئی ہوگی کہ دہلی میں یہ مذاکرات کر لیے جائیں مگر ٹرمپ اتنے بھی بے وقوف نہیں ہیں کہ وہ مودی کی چال کو نہ سمجھ سکیں۔ دراصل اس وقت بھارتی عوام مودی کی ناکام خارجہ پالیسی پر سخت برہم ہیں چنانچہ مودی کی یہ خواہش ہے کہ کاش مذاکرات اب پاکستان کے بجائے بھارت میں شروع ہو جائیں اور چونکہ اب مذاکرات کامیاب ہونے والے ہیں اور ایران و امریکا کے درمیان امن معاہدہ ہونے والا ہے تو اس معاہدے کی کامیابی کا سہرا مودی کے سر بندھ جائے گا اور وہ فخر سے کہہ سکے گا کہ اس کی کوشش اور محنت سے مذاکرات ہوئے ہیں اور اس طرح اس نے دنیا کو تباہی سے بچا لیا ہے مگر خوش قسمتی سے ٹرمپ نے مذاکرات کے اگلے مرحلے کو اسلام آباد میں ہی منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس مقام پر مذاکرات کرنے کے لیے ایران بھی راضی ہے۔
ایرانی دراصل پاکستان میں خود کو زیادہ محفوظ خیال کرتے ہیں جب کہ وہ مودی کو اسرائیل کا پٹھو اور مسلمانوں کا دشمن سمجھتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔ ایران پر اسرائیل اور امریکی حملے سے قبل مودی کا اسرائیل جانا اور وہاں نیتن یاہو سے گھل مل جانا اور پھر بھارت میں مشترکہ دوستانہ بحری مشقوں میں حصہ لینے کے لیے گئے ایرانی جنگی جہاز کو بھارت کی ہی حدود میں تباہ کیے جانے کو ایران نہیں بھولا ہے، وہ مہمان جہاز بھارت کی سہولت کاری اور مرضی کے بغیر ہرگز تباہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔
پھر جب ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت ہوئی تو بھارت نے تعزیت تک نہیں کی۔ دنیا بھر میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے بلاجواز حملوں کی تنقید کی گئی مگر بھارتی حکومت خاموش رہی۔ یہ سب مودی نے اس لیے کیا کہ کہیں اسرائیل اس سے ناراض نہ ہو جائے۔ اب مودی کی دوغلی پالیسی کا بھانڈا پھوٹ گیا ہے۔ اب وہ عرب ممالک جو پہلے بھارت کے مرید بنے ہوئے تھے، وہ بھی بھارت سے دور ہوتے جا رہے ہیں البتہ متحدہ عرب امارات کی حکومت اب بھی مودی کا دم بھر رہی ہے۔ پاکستان سے اپنا قرض فوراً واپس مانگنا بھی بھارت کو خوش کرنے کی حکمت عملی ہے مگر اسے یاد رکھنا چاہیے کہ مودی کٹر ہندوتوا لیڈر ہے، وہ کبھی مسلمانوں سے وفا نہیں کر سکتا کیونکہ آر ایس ایس کا آئین یہی کہتا ہے۔
بہرحال اب چاہے اسرائیل اور بھارت کتنے ہی روڑے اٹکائیں، ایران امریکا امن مذاکرات اسلام آباد میں ہی منعقد ہوں گے اور کامیاب رہیں گے۔ دونوں ممالک کے مابین امن معاہدہ بھی ہوگا جس کا کریڈٹ پاکستان کو ہی جائے گا۔