مذاکرات،عالمی امن کی جانب اہم قدم

خلیجی ممالک کی صورتحال بھی اس بحران سے براہِ راست متاثر ہو رہی ہے


ایڈیٹوریل April 21, 2026
28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ میں صدر ٹرمپ ایران کو متعدد بار ڈیڈلائنز دے چکے ہیں

واشنگٹن اور تہران کے مابین جنگ بندی ختم ہونے میں ایک دن باقی ہے، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسٹیووٹکوف اور جیرڈکشنر اسلام آباد پہنچ جائیں گے، تہران نے ہماری ڈیل قبول نہ کی تو ہم ان کے ہر پاور پلانٹ اورپل کو تباہ کردیں گے ، دوسری جانب ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے ایک ایرانی بحری جہاز کو امریکی فوج نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے ۔

دوسری جانب ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق تہران نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دورمیں شرکت سے انکار کردیا ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے دوست ممالک کے تعاون سے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی مخلصانہ اور سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا۔

 موجودہ عالمی منظرنامہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کروا رہا ہے کہ طاقت، مفادات اور سفارت کاری کے درمیان توازن قائم رکھنا کس قدر دشوار عمل ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی، جو وقتی طور پر جنگ بندی کے معاہدے کے ذریعے محدود کی گئی تھی، اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ہر لمحہ صورتِ حال کے یکسر بدل جانے کا امکان موجود ہے۔ جنگ بندی کے خاتمے میں محض چند گھنٹے باقی رہ گئے ہیں اور اس دوران ہونے والی پیش رفت نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی برادری کو بھی شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔اسلام آباد کو اس تمام بحران میں ایک اہم سفارتی مرکز کے طور پر ابھرتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ فریقین کو ایک میز پر لا کر نہ صرف کشیدگی میں کمی لائے بلکہ ایک پائیدار حل کی بنیاد بھی رکھ سکے۔ تاہم ایران کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار یا کم از کم ہچکچاہٹ نے اس پورے عمل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ یہ انکار محض ایک وقتی ردعمل نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں حالیہ واقعات، بیانات اور اقدامات کی ایک طویل فہرست موجود ہے، جس نے تہران کو اس نتیجے پر پہنچایا کہ موجودہ حالات مذاکرات کے لیے موزوں نہیں۔

 ایران کا موقف بنیادی طور پر اعتماد کے بحران کے گرد گھومتا ہے۔ تہران کا دعویٰ ہے کہ امریکا نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور اگر اس الزام کو سنجیدگی سے لیا جائے تو یہ معاملہ محض ایک سفارتی اختلاف سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کسی بھی مذاکراتی عمل کی بنیاد باہمی اعتماد پر ہوتی ہے اور جب یہی بنیاد کمزور پڑ جائے تو باقی تمام کوششیں رسمی اور غیر موثر ہو جاتی ہیں۔ ایران نے نہ صرف امریکی اقدامات کو جارحانہ قرار دیا ہے بلکہ اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ امریکی تجاویز حقیقت پسندانہ نہیں اور ان میں سنجیدگی کا فقدان ہے۔

دوسری جانب امریکا کا رویہ بظاہر دہرا محسوس ہوتا ہے۔ ایک طرف اعلیٰ سطح وفد کی اسلام آباد آمد کی تیاری اور مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی جا رہی ہے، تو دوسری طرف سخت بیانات، دھمکیاں اور ممکنہ عسکری کارروائیوں کے اشارے بھی دیے جا رہے ہیں۔ اس طرح کی حکمت عملی عام طور پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتی ہے، مگر اس کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے مذاکراتی فضا متاثر ہوتی ہے اور فریق مخالف کو یہ تاثر ملتا ہے کہ بات چیت دراصل ایک رسمی عمل ہے، اصل مقصد اپنی شرائط منوانا ہے،اگر اس تنازع کو تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو ایران اور امریکا کے تعلقات ہمیشہ سے پیچیدہ اور تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ جوہری معاملہ خاص طور پر اس کشیدگی کا مرکزی نقطہ رہا ہے۔

ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جب کہ امریکا اور اس کے اتحادی اسے ایک ممکنہ خطرہ قرار دیتے ہیں۔ اس حوالے سے ماضی میں ہونے والے معاہدے بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکے، جس کی ایک بڑی وجہ باہمی بداعتمادی اور بدلتے ہوئے سیاسی حالات تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب دوبارہ مذاکرات کی بات ہو رہی ہے تو فریقین کے درمیان شکوک و شبہات کی فضا پہلے سے کہیں زیادہ گہری دکھائی دیتی ہے۔

 موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ یہ وہ اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ عالمی معیشت پر فوری اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ حالیہ واقعات، جن میں گولیوں کا تبادلہ اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں مداخلت شامل ہے، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال کس قدر حساس ہو چکی ہے، اگر یہ کشیدگی مزید بڑھی تو توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں خلل اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

چین کا ردعمل اس تمام تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس نے نہ صرف صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے بلکہ ذمے دارانہ رویے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ چین کی دلچسپی محض سفارتی نہیں بلکہ معاشی بھی ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ اس کی توانائی ضروریات کا ایک اہم ذریعہ ہے، اگر یہ تنازع شدت اختیار کرتا ہے تو چین بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ممکنہ طور پر ایک تعمیری کردار ادا کرنے کی کوشش کرے گا، اگرچہ اس کردار کی نوعیت اور حدود کا تعین حالات کے مطابق ہوگا۔

 خلیجی ممالک کی صورتحال بھی اس بحران سے براہِ راست متاثر ہو رہی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے مالی معاونت کے امکانات پر غور اور متبادل کرنسیوں کی بات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ تنازع محض عسکری یا سفارتی نہیں بلکہ معاشی جنگ کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔ اگر تیل کی تجارت میں تبدیلیاں آتی ہیں یا ڈالر کے متبادل نظام متعارف کروائے جاتے ہیں تو اس کے اثرات عالمی مالیاتی نظام پر بھی مرتب ہوں گے۔پاکستان کے لیے یہ تمام صورتحال ایک پیچیدہ چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔

ایک طرف وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی ذمے داری ادا کرنا چاہتا ہے، دوسری طرف اسے اپنے قومی مفادات، علاقائی تعلقات اور داخلی استحکام کا بھی خیال رکھنا ہے۔ پاکستان کی قیادت کی جانب سے مسلسل رابطے اور سفارتی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اس کردار کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ تاہم ثالثی کا عمل ہمیشہ نازک ہوتا ہے، خاص طور پر جب فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان ہو۔پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اور اس کے دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات اسے ایک منفرد مقام دیتے ہیں، مگر یہی خصوصیت اس کے لیے خطرات بھی پیدا کرتی ہے، اگر وہ کسی ایک فریق کے زیادہ قریب دکھائی دیتا ہے تو اس کی غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں، جو اس کے سفارتی کردار کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان نہایت احتیاط اور توازن کے ساتھ اپنی حکمت عملی ترتیب دے۔

موجودہ حالات میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا جنگ بندی میں توسیع ممکن ہو سکے گی یا نہیں؟ اگر یہ توسیع نہ ہو سکی تو پھر کشیدگی میں اضافہ یقینی ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ اس صورت میں عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا پہلے ہی مختلف معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔سفارت کاری اس وقت واحد راستہ ہے جو اس بحران کو کسی حد تک قابو میں لا سکتا ہے، مگر سفارت کاری اسی وقت موثر ہوتی ہے جب اس کے ساتھ سنجیدگی، لچک اور اعتماد سازی کے اقدامات بھی ہوں۔ یکطرفہ مطالبات اور دھمکیاں وقتی فائدہ تو دے سکتی ہیں مگر دیرپا حل فراہم نہیں کر سکتیں۔

ایران کا یہ کہنا کہ وہ ڈیڈ لائنز یا الٹی میٹم پر یقین نہیں رکھتا، دراصل اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔امریکا کے لیے بھی یہ ایک آزمائش ہے کہ وہ اپنی عالمی قیادت کے دعوے کو کس حد تک عملی شکل دیتا ہے، اگر وہ واقعی سفارتی حل چاہتا ہے تو اسے اپنے رویے میں لچک پیدا کرنا ہوگی اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اسی طرح ایران کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ مکمل انکار یا سخت موقف کسی حل کی جانب نہیں لے جاتا۔

وقت کا تقاضا یہی ہے کہ تمام فریقین جذبات کے بجائے عقل و تدبر سے کام لیں۔ طاقت کا استعمال ہمیشہ آخری راستہ ہونا چاہیے، پہلا نہیں، اگر اس اصول کو نظر انداز کیا گیا تو نہ صرف یہ تنازع شدت اختیار کرے گا بلکہ اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔یہ ایک ایسا لمحہ ہے جہاں فیصلے صرف موجودہ حالات کو نہیں بلکہ مستقبل کی سمت کو بھی متعین کریں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا جائے، کیونکہ ایک غلط فیصلہ پورے خطے کو ایک ایسے بحران میں دھکیل سکتا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں ہوگا۔