امریکا افواج نے ایک تازہ کارروائی میں ایران سے وابستہ پابندی زدہ آئل ٹینکر کو ایشیا پیسیفک روک کر اس میں سوار ہوئے اور اپنی تحویل میں لے لیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کی تصدیق کی امریکی وزارت دفاع جسے اب وزارت جنگ کہا جا رہا ہے نے اپنے ایک بیان میں کی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی مدد کرنے والے غیر قانونی بحری نیٹ ورکس کے خلاف عالمی سطح پر جاری مہم کا حصہ ہے۔
امریکی وزارت جنگ نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ہم دنیا بھر میں سمندری قانون نافذ کرنے کی کارروائیاں جاری رکھیں گے تاکہ غیر قانونی نیٹ ورکس کو ختم کیا جا سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان پابندی زدہ جہازوں کو روکا جاسکے جو ایران کو مادی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ چاہے وہ کہیں بھی کام کر رہے ہوں۔
امریکی وزارت جنگ کے حکام کے مطابق ایم/ٹی ٹیفانی نامی یہ جہاز امریکی محکمہ خزانہ کے ذیلی ادارے آفس فاردن اسسٹ کنٹرول کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے اور اس پر ایران کا تیل منتقل کرنے کا الزام ہے۔
بحری ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق یہ واقعہ ممکنہ طور پر انڈین اوشیئن میں پیش آیا۔
یاد رہے کہ چند روز قبل امریکی بحریہ نے خلیج عمان میں ایک ایرانی پرچم بردار جہاز پر فائرنگ کے بعد اسے قبضے میں لے لیا تھا۔
امریکی افواج کے بین الاقوامی سمندر پر کیے گئے یہ تمام اقدامات ایران کی بندرگاہوں کے خلاف جاری امریکی بحری ناکہ بندی کا حصہ قرار دیے جا رہے ہیں۔