امریکا اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے اور صدر ٹرمپ نے اس سے قبل مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے وفد اسلام آباد روانہ بھی کردیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ بار بار جنگ بندی معاہدے میں توسیع نہ کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے ایران پر سیزفائر ڈیل کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے بقول اگر ایران نے ڈیل نہیں کی تو امریکی فوج اس پر بمباری کرنے کے لیے تیار بیٹھی ہیں اور میرے حکم کی منتظر ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ نائب صدر کی قیادت میں امریکی وفد پاکستان کے لیے روانہ ہوچکا ہے اور ایرانی وفد بھی پہنچ جائے گا۔
تاہم اب سے کچھ دیر قبل ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بی بی سی سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ امریکا سے مذاکرات کے نئے دور کے لیے وفد کو اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات پر تشویش کا اظہار بھی کیا کہ تاحال امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کی ہے۔
اسماعیل بقائی نے امریکی فوج کی جانب سے ایران کے بحری جہاز کو قبضے میں لینے اور صدر ٹرمپ کی ایران میں شہری انفرااسٹریکچر کو تباہ کرنے کی دھمکیوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران نے 2 ہفتوں کی جنگ بندی اور پاکستان میں مذاکرات کا پہلا دور نیک نیتی اور سنجیدگی کے ساتھ شروع کیا تھا لیکن حریف مذاکراتی فریق (امریکا) میں سنجیدگی اور نیک نیتی کی کمی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صدر ٹرمپ پر الزام عائد کیا کہ وہ بار بار نہ صرف اپنی پوزیشن اور بیانات تبدیل کر رہے ہیں بلکہ جنگی جرائم کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔
بی بی سی گفتگو میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے یہ نہیں بتایا کہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے امریکا کو ایران کی کون سی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
البتہ اس سوال کے جواب میں اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ شرائط پر ایرانی حکام کے درمیان ابھی مشاورت جاری ہیں جس میں مذاکرات میں حصہ لینے کا بھی فیصلہ کیا جائے گا۔