برطانیہ نے تمباکو نوشی سے پاک نسل کی مہم کے تحت 31 دسمبر 2008 کے بعد سے پیدا ہونے والے ہر بچے پر سگریٹ خریدنے پر پابندی عائد کردی۔
برطانوی میڈیا کے مطابق یہ پابندی یہ ’’ٹوبیکو اینڈ ویپس بل‘‘ کے تحت عائد کی جا رہی ہے جو پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظور ہو چکا ہے اور جلد شاہ چارلس کی منظوری کے بعد باقاعدہ نافذ ہو جائے گا۔
اس نئے قانون کے تحت کے 17 سال یا اس سے کم عمر افراد کے لیے مستقبل میں سگریٹ خریدنا ہمیشہ کے لیے غیر قانونی ہوگا۔ دکانوں کو ان افراد کو تمباکو فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اسی طرح بچوں کے ساتھ گاڑی میں، کھیل کے میدانوں، اسکولوں اور اسپتالوں کے باہر ویپ پینا ممنوع ہوگی۔
تاہم اس قانون کے تحت گھروں اور کھلے نجی مقامات پر ویپنگ کی اجازت برقرار رہے گی۔
برطانیہ کے وزیر صحت نے اسے تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیماری کے علاج سے بہتر اس کی روک تھام ہے۔ یہ قانون جانیں بچائے گا اور صحت کے نظام پر دباؤ کم کرے گا۔
وزارت صحت کے بیان میں بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ تمباکو نوشی برطانیہ میں قابلِ روک تھام اموات، بیماریوں اور معذوری کی بڑی وجہ ہے اسی لیے اس قانون کو صحت عامہ کے لیے ایک بڑا اقدام سمجھا جا رہا ہے۔