واپڈا کی بجلی استعمال نہیں کرتے، رات میں میچز کروانے کیخلاف درخواست پر پی سی بی کا جواب

پی ایس ایل میچز فلڈ لائٹ میں کروانا انسانی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں، درخواستگزار


اسٹاف رپورٹر April 22, 2026

ملک بھر میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث پی ایس ایل میچز رات کو فلڈ لائٹ میں منعقد کروانے کا معاملہ عدالت پہنچ گیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں رات کے وقت پی ایس ایل میچز فلڈ لائٹ میں منعقد کروانے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

جسٹس چوہدری محمد اقبال نے شہری اشبا کامران کی درخواست پر سماعت کی۔

درخواست میں وفاقی حکومت، پی سی بی اور وزرات پانی وبجلی کو فریق بناکر موقف اپنایا گیا ہے کہ ملک میں بجلی کا شدید بحران چل رہا ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ حکومت نے بچلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا شیڈول جاری کر دیا ہے جس سے کاروبار اور شہری متاثر ہو رہے ہیں۔

درخواستگزار کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل میچز فلڈ لائٹ میں کروانا انسانی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔

درخواستگزار نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ایک خودمختار ادارہ ہے جو وفاقی حکومت کے ماتحت ہے۔ ایک طرف بچلی بچت کا کہا جا رہا ہے اور دوسری طرف رات میں فلڈ لائٹ میچز کروائے جا رہے ہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ پی ایس ایل دن کی روشنی میں منعقد ہونے سے بجلی کی بچت ہوگی، عدالت رات کو پی ایس ایل میچز روکنے اور دن کی روشنی میں کروانے کا حکم دے۔

درخواستگزار نے مزید کہا کہ عدالت فلڈ لائٹ میں پی ایس اہل میچز کروانے والوں کے خلاف انکوائری کا حکم بھی دے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے وکیل نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ جنریٹرز کے ذریعے میچز کرواتا ہے، ہم واپڈا کی بجلی استعمال نہیں کرتے۔

عدالت نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے وکیل کو جواب داخل کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 5 مئی تک ملتوی کردی۔