ایپسٹین کے ساتھی سُن لیں؛ آنکھ کے بدلے آنکھ، آئل ٹینکر کے بدلے آئل ٹینکر؛ ایران

نام نہاد ‘سمندری ڈاکوؤں’ کے خلاف خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی


ویب ڈیسک April 22, 2026
آئل ٹینکر کے بدلے آئل ٹینکر آنکھ کے بدلے آنکھ

ایران نے آبنائے ہرمز میں دو جہازوں کو اصول و ضوابط کی خلاف ورزی پر فائرنگ کرکے روک لیا جسے ایرانی ٹینکر پر قبضے کا جواب سمجھا جا رہا ہے۔

ایرانی پارلیمان کے رکن، قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائیکا نے اپنے بیان میں امریکا کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور آئل ٹینکر کے بدلے آئل ٹینکر۔

اپنے سوشل میڈیا پر فارسی زبان میں کی گئی پوسٹ میں اُن کا کہنا تھا کہ جس طرح 40 روزہ جنگ میں دشمن کو دندان شکن جواب دیا گیا اسی طرح اب بھی نام نہاد ‘ایپسٹن کے سمندری ڈاکوؤں’ کے سامنے خاموش نہیں رہیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ، اور آئل ٹینکر کے بدلے آئل ٹینکر” کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ ایپسٹین کے ساتھی اس کھیل کو فتح میں نہیں بدل پائیں گے جسے وہ ہار چکے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایران سے منسلک ایک بحری جہاز پر فائرنگ کرکے اسے روکا اور قبضہ کرلیا تھا جس پر آج ایران نے دو بحری جہازوں کو تحویل میں لے لیا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی 20 روزہ جنگ بندی آج ختم ہونے جا رہی ہے جس کے لیے گزشتہ روز مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہونا تھا۔

ایران نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی، ناکہ بندی ختم نہ کرنے اور شہری علاقوں پر حملے کی دھمکیاں دینے کو جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے مذاکرات میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔

البتہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پُرامید تھے اور نائب صدر کی وفد کے ہمراہ اسلام آباد روانگی کا اعلان بھی کرچکے تھے۔ انھیں یقین تھا کہ ایران مذاکرات میں شامل ہونے پر راضی ہوجائے گا۔

تاہم ایران نے آخری وقت اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کیا جس پر امریکی صدر نے جے ڈی وینس کے دورۂ پاکستان کو مؤخر کرتے ہوئے جنگ بندی میں توسیع کردی تاہم ناکہ بندی برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ مذاکرات کے لیے راضی نہ ہونے کے باوجود وہ پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر ایران پر حملے نہیں کریں گے۔

انھوں نے مزید کہا تھا کہ جنگ بندی میں توسیع اور ایران پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ ایران کی عسکری اور سیاسی قیادت کے آبنائے ہرمز سے متعلق کسی ایک نیتجے پر متفق نہ ہونے تک برقرار رہے گی۔