ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے جنگ بندی مذاکرات میں تعطل پر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس کی وجہ امریکا کی ہٹ دھرمی کو قرار دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے جاری بیان میں جنگ بندی مذاکرات سے انکار کی وجہ بتادی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی جاری رکھی ہوئی ہیں، صدر ٹرمپ مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں اور وعدوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہی تین وجوہات امریکا کے ساتھ حقیقی اور جامع مذاکرات کی راہ میں بنیادی رکاوٹیں ہیں۔ جنھیں ختم کیے بغیر جنگ بندی مذاکرات دوبارہ شروع نہیں ہوسکتے۔
ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ایران نے مکالمے اور معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور اب بھی کرتا ہے۔ دنیا آپ کی نہ ختم ہونے والی منافقانہ بیان بازی، دعوؤں اور اقدامات کے درمیان تضاد کو دیکھ رہی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان آبنائے ہرمز پر اتفاق رائے تک جنگ بندی میں توسیع جاری رہے گی۔