کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان ملک میں سولر سسٹم نصب کرکے بڑے پیمانے پر بجلی پیدا کرنے والوں اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت خود توانائی کے بحرانوں کو حل کرنا ہی نہیں چاہتی اور اس سلسلے میں حکومتوں کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے گرمیوں ہی میں نہیں، سردیوں میں بھی ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ جاری رہی اور اب گرمیوں میں گیس کی کم کھپت کے باوجود گھریلو صارفین کو ضرورت کے مطابق گیس فراہم نہیں کی جا رہی اور گیس کمپنیاں اپنے گیس فراہمی کے اعلان کردہ شیڈول پر بھی عمل نہیں کر رہیں جس کی وجہ سے ملک بھر میں توانائی کا بحران حل ہونے میں نہیں آ رہا بلکہ مسلسل بڑھ رہا ہے جس سے ہر کوئی پریشان ہے۔
اس بار ملک میں سردی اور ٹھنڈ کا دورانیہ ماضی سے زیادہ رہا اور گرمی میں تیزی آنا شروع ہی ہوئی تھی کہ ملک میں شدید لوڈ شیڈنگ نے بجلی استعمال کرنے والوں کی چیخیں نکلوا دی ہیں اور بعض علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ چودہ پندرہ گھنٹوں تا جا پہنچی ہے تو آنے والے سخت گرمی کے مہینوں میں عوام پر کیا گزرے گی، اس کا حکومت کو کوئی احساس نہیں ہے۔
پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد نئی حکومت نے گیس کے بحران پر کہا تھا کہ سابق حکومت نے وقت پر باہر سے گیس نہیں خریدی تھی، نہ گیس خریداری کا معاہدہ کیا تھا جس کی وجہ سے ملک میں گیس کا بحران رہا جس کے بعد بھی عوام کو ضرورت کے مطابق گیس نہیں ملی تھی اور حالیہ توانائی کے بحران کو حکومت حالیہ جنگ سے پیدا ہونے والی عالمی صورت حال کو قرار دے رہی ہے جو حکومت کے خیال میں معقول جواز ہے مگر ایران پر جنگ تو 28 فروری کو مسلط کی گئی مگر سردیوں میں بھی ملک میں گیس ہی کی قلت نہیں بلکہ بجلی کی بھی لوڈ شیڈنگ کی جاتی رہی اور پی ٹی آئی کے بعد آنے والی حکومتوں نے بھی توانائی کے بحرانوں کے حل پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دی اور عام حالات میں بھی بجلی و گیس صارفین کو دستیاب نہیں تھی۔
وفاقی وزیر توانائی کا بیان کہ ’’پن بجلی کی کمی اور گیس وبجلی کی قلت کی وجہ سے ملک میں توانائی کا بحران پیدا ہوا ۔‘‘کنزیومر ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ توانائی بحران حکومت کی ناقص منصوبہ بندی اور غیر مستقل توانائی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور غلط جواز پیش کیے جا رہے ہیں اور حکومت اپنی غلطیوں کا سارا بوجھ صارفین پر ڈال رہی ہے اور توانائی بحران شدت ابھی سے اختیار کر گیا ہے ،مگر حکومت اس مسئلے کو اب بھی سنجیدگی سے لیتی نظر نہیں آ رہی جس کی وجہ سے عوام سخت اذیت میں مبتلا کر دیے گئے ہیں جس کا حکومت کو کوئی احساس نہیں اور غیر حقیقی تاویلیں پیش کی جا رہی ہیں جب کہ حقائق اس کے بالکل برعکس اور واضح نظر آ رہے ہیں۔
وفاقی وزیر توانائی کے بقول بجلی کی موجودہ طلب اٹھارہ ہزار میگاواٹ ہے جب کہ پیداوار اس سے کہیں کم ہے۔ موجودہ حکومت نے ملک میں بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لیے سولر انرجی اور نیٹ میٹرنگ بنائی تھی جس پر ملک میں بڑی تعداد میں سرمایہ کاری کے لیے بجلی پیدا کی گئی اور فاضل بجلی دیکھ کر حکومت نے برسوں سے بجلی پیدا نہ کرکے بھی ماہانہ کروڑوں روپے کمانے والوں کے مفاد پر سولر انرجی لگانے والوں کی حوصلہ افزائی کی بجائے اپنی پالیسی ہی تبدیل کر لی جس سے سرمایہ کاری کرکے سولر سسٹم کو فروغ دینے والوں کا نہ صرف نقصان ہوا بلکہ حکومت کی طرف سے بار بار اپنی ہی پالیسی تبدیل کرنے سے حکومت پر عوام کا اعتماد ہی ختم ہو گیا۔
حکومت نے اپنی سولر پالیسی بدلنے پھر وزیر اعظم کی طرف سے ایکشن کے بعد پالیسی تبدیلی سے عوام کا اعتماد مجروح کیا جس کے نتیجے میں ملک میں گرمی شروع ہوتے ہی بجلی کی لوڈ شیڈنگ شروع ہوئی۔ حکومت کی بار بار پالیسی بدلنے سے سولر انرجی سسٹم بری طرح متاثر ہوا۔ لوگوں نے سولر سسٹم میں پھنسنے سے توبہ کر لی اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں نے ملک میں بجلی پیداوار کا بحران پیدا کر دیا ہے۔ حکومت کی طرف سے گردشی قرضے ختم ہونے کے صرف دعوے ہوئے اور ملک لوٹنے والی بجلی کمپنیوں کے ساتھ حکومت نے معاہدے بھی کیے مگر ملک میں بجلی کے نرخ کیا کم ہوتے بجلی کی قلت پیدا کرکے لوڈ شیڈنگ بڑھا دی گئی ہے۔
روزنامہ ایکسپریس کے مطابق بجلی پیداوار میں اضافے سے شارٹ فال تین ہزار میگاواٹ رہ گیا ہے اور ڈیمز سے پانی کا اخراج بڑھنے سے بجلی کی پیداوار ضرور بڑھی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایل این جی ملنے سے لوڈ مینجمنٹ میں بہتری آئی جس کے نتیجے میں صرف اسلام آباد میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم ہوئی جو مذاکراتی ماحول میں حکومت کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت کی مہربانیاں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں پر مسلسل اس لیے جاری ہیں کہ ان کے مالکان کا تعلق ملک کی بڑی سیاسی پارٹیوں سے ہے مگر حکومت ان کے مفادات کو ترجیح دیتی ہے اور نجی طور پر سولر انرجی پیداوار بڑھانے والوں کو اپنی بار بار پالیسی بدل کر نقصان پہنچاتی آ رہی ہے۔
ایک طرف چینی ماہرین نے سورج کی حرارت ذخیرہ کرنے کا حل ڈھونڈ لیا ہے جس سے رات کے وقت بھی سولر سے بجلی کی پیداوار یقینی ہو جائے گی مگر پاکستان میں حکومت دن کی روشنی میں سولر سے بجلی کی پیداوار صرف اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرنے والوں کو سہولت نہیں دے رہی بلکہ پہلے والوں ہی کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے۔ کنزیومر ایسوسی ایشن کی تجویز پر حکومت کو فوری توجہ دے کر بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ہدایت دینی چاہیے کہ وہ گھروں، دفاتر، تجارتی مراکز اور صنعتوں میں سولر سسٹم لگانے کے لیے زیرو فی صد مارک اپ قرضے فراہم کیے جائیں حکومت اس سلسلے کو اس لیے شروع نہیں کرے گی کہ ملک بجلی کی پیداوار میں خودکفیل نہ ہوجائے اور توانائی بحران حل ہو۔ حکومت اس سلسلے میں پٹرول کی طلب زیادہ ہونے کا جواز پیش کرے گی جو عارضی ہے مگر بجلی پیداوار بڑھنے سے حکومتی افراد کی بجلی کمپنیوں کی فاضل کمائی ماری جائے گی جو بجلی مہنگی کرکے فراہم کی جا رہی ہے۔