نہ آسمان گرا

زمین پھٹی نہ آسمان گرا، سندھ کی ایک اور بیٹی صدیوں پرانی فرسودہ رسم ’’کاروکاری‘‘ کا شکار ہوگئی۔



زمین پھٹی نہ آسمان گرا، سندھ کی ایک اور بیٹی صدیوں پرانی فرسودہ رسم ’’کاروکاری‘‘ کا شکار ہوگئی۔ خیرپور کے قریب گاؤں ٹنڈو مستی میں رشتہ داروں کے ہاتھوں نوجوان لڑکی کے قتل نے ہر سوچنے والے شخص کو افسردہ کردیا۔ تعلیم کی شرح بڑھنے، خواتین کی زندگی کی دوڑ میں مردوں کے شانہ بشانہ جدوجہد کرنے، خواتین کی معاشی صورتحال بہتر ہونے اور پیپلز پارٹی کی حکومت کے خواتین کو مردوں کے برابر حیثیت دینے کی پالیسی کے باوجود سندھ میں خواتین کے حالات زیادہ بہتر نہیں ہیں۔ سماجی قدریں تبدیل تو ہورہی ہیں مگر قدامت پرستی کی سندھی معاشرے میں جڑیں اب بھی گہری ہیں۔

ایک اطلاع کے مطابق ٹنڈو مستی کی خالدہ چانڈیو عرف روبینہ چانڈیو نے اپنی پسند کی شادی کی مگر بااثر افراد کے دباؤ پر خالدہ کو والدین کے گھر بھیج دیا گیا ۔ خالدہ چانڈیو اپنے گھر واپس آگئی مگر ظالموں کا دل ٹھنڈا نہ ہوا۔ بقول لڑکی کے باپ کے جرگہ منعقد ہوا۔ جرگے نے یہ رائے دی کہ لڑکی والے ایک ایکڑ زمین اور 20 لاکھ روپے ادا کریں مگر جب لڑکی کے باپ نے یہ جرمانہ ادا نہ کیا تو پھر لڑکی کی جان لینے کا فیصلہ ہوا۔ اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق خالدہ چانڈیو زوجہ راشد دختر محمد رمضان کو رات کے اندھیرے میں ویران جگہ پر لے جایا گیا۔ لڑکی کے ماموں نے خالدہ کو قریب سے پستول کی گولیاں ماریں۔ خالدہ تڑپ تڑپ کر مرگئی۔

ظالموں نے اس قتل کی وڈیو بنائی، قتل میں لڑکی کا نانا بھی شامل تھا۔ ایک رپورٹ میں یہ لکھا گیا ہے کہ خالدہ چانڈیو کو ایک شخص صدام کے ساتھ کاروکاری کے جھوٹے الزام میں قتل کیا گیا۔ یہ معلوم نہ ہوسکا کہ صدام کا کیا حشر ہوا۔ پولیس نے خالدہ کے ماموں اور نانا سمیت متعدد افراد کو گرفتار کرلیا۔ پولیس نے اپنی روایت پر عمل کرتے ہوئے جرگہ کی سربراہی کرنے والے افراد کو گرفتار نہیں کیا۔ پولیس والے کہتے ہیں کہ انھیں اطلاع مل گئی تھی کہ خالدہ چانڈیو کو کاروکاری کے الزام میں قتل کیا جارہا ہے مگر شاید پولیس موقع واردات پر پہنچ نہیں پائی۔ لڑکی کے باپ نے ایک اور کہانی سنائی۔ والد رمضان کا کہنا ہے کہ وہ مزدوری کے لیے کراچی گئے تھے۔

انھیں وہاں اطلاع ملی کہ خالدہ کو ایک لڑکا صدام لے گیا تھا۔ صدام کے گھر گئے تو وہاں نہیں تھی۔ کسی نے کہا کہ لڑکی کا ماموں اس کو لے گیا ہے۔ لڑکی کے باپ رمضان نے پولیس پر الزام لگایا کہ پولیس نے ڈھائی لاکھ روپے رشوت لی اور دوسرے فریق کے کہنے پر ان کے گھر گرادیے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایف آئی آر میں جرگہ کا ذکر نہیں ہے۔ خالدہ عرف روبینہ چانڈیو کی والدہ نبل خاتون کا کہنا ہے کہ اگر پولیس ان کی بیٹی کو دارالامان منتقل کردیتی تو ان کی جان بچ جاتی۔

امِ رباب چانڈیو جو اپنے والد کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے کئی برسوں سے جدوجہد کررہی ہے، نے خالدہ چانڈیو قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت، عدالتیں اور انتظامیہ قبائلی سردار جرگہ سسٹم کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ ان کا موقف ،خالدہ کا قتل، درندگی کی انتہا اور حکمرانوں کی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ یہ صورتحال لاقانونیت کا واضح اور جیتا جاگتا ثبوت ہے۔

کاروکاری سے متعلق دستیاب مواد سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف 4 برسوں میں 446 خواتین سمیت 149مرد کاروکاری کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2022ء میں کاروکاری کی102 وارداتیں ہوئیں جن میں 89خواتین اور 25مرد ہلاک ہوئے۔ سال 2023 میں کاروکاری کے 151 واقعات ہوئے جن میں 123 خواتین اور 29 مرد جاں بحق کیے گئے۔ سال 2024 میں کاروکاری کے 132 واقعات میں 152 افراد قتل ہوئے۔ قتل ہونے والوں میں 132خواتین اور 29 مرد شامل ہیں۔

2025 میں اکتوبر تک کے ملنے والے اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبہ میں کاروکاری کے 140 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 162 افراد کو قتل کیا گیا۔ ایک بین الاقوامی ایجنسی کے اندازے کے مطابق پورے ملک میں ہر سال 1000 خواتین کاروکاری کے الزام میں قتل کردی جاتی ہیں۔ کاروکاری کے واقعات اپر سندھ کے علاوہ بلوچستان، جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں بھی ہوتے ہیں۔ ایک صحافی کاکہنا ہے کہ جو واقعات پولیس میں رپورٹ ہوتے ہیں اعداد و شمار ان کے مطابق مرتب کیے جاتے ہیں۔ بہت سے واقعات پولیس میں رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

کاروکاری کے بارے میں خاصی تحقیق ہوئی ہے اور بہت سی کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایچ آر سی پی کی رہنما سعدیو بلوچ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اپر سندھ میں جب ایک طرف فصل کٹتی ہے تو دوسری طرف عورتوں کے سر کٹتے ہیں۔ زمیندار کاروکاری کے نام پر بیوی کو قتل کرتے ہیں اور پھر شادیاں رچاتے ہیں۔ انھوں نے اس موضوع پر مزید لکھا ہے کہ مرد اپنے مخالفین کو سزا دینے کے لیے اپنی ماں، بیوی یا بیٹی پر کاروکاری کا الزام لگاتے ہیں اور اپنے مخالف اور اپنی عزیزہ کو قتل کرکے گرفتار ہوجاتے ہیں، یوں غیرت کے نام پر قتل کرکے اپنے حلقہ میں ’’معزز ‘‘ہونے کا اعزاز حاصل کرتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض افراد خاص طور پر ہندو برادری کو بلیک میل کرنے کے لیے کاروکاری کا جھوٹا الزام لگاتے ہیں۔

ہندو برادری ایک کمزور برادری کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس بناء پر ہندو برادری کے افراد فوری متعلقہ شخص کا مطالبہ پورا کرتے پر تیار ہوجاتے ہیں۔ ایسے موقع پر گاؤں کے وڈیرے و متعلقہ پویس اسٹیشن کا کردار منفی ہوتا ہے۔ بعض اوقات کاری قرار دی جانے والی عورت کو وڈیرہ کی حویلی میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں اس کا ہر طرح کا استحصال ہوتا ہے۔ عموماً ایف آئی آر مقتولہ کا کوئی قریبی عزیز درج کراتا ہے اور ملازم بھی قریبی عزیز ہوتا ہے۔ عموماً اس صورتحال کا فائدہ ملزم کو ہوتا ہے۔ اگرچہ حکومت نے فوجداری قوانین میں تبدیلی کی ہے۔ اب ریاست ایف آئی آر درج کراتی ہے۔ یوں ملزم کی فوری ضمانت تو نہیںہوتی مگر جب مقدمہ طویل ہوتا ہے تو پھر گواہ عدالت کے سامنے گواہی نہیں دیتے اور لواحقین اپنے قریبی عزیزوں کو معاف کردیتے ہیں۔

اس صدی کے پہلے عشرے میں ملتان میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی کو پسند کی شادی کرنے کے جرم میں قتل کردیا گیا تھا۔ پہلے تو یہ معاملہ دبا رہا مگر ملتان میں انسانی حقوق کے وکیل راشد رحمن نے اس سلسلے میں عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اس خاندان کی طرف سے سب سے زیادہ معمر شخص نے اقرارِ جرم کیا، یوں دادا کو بعد میں اس کے بیٹے نے معاف کردیا۔ اگرچہ سندھ ہائی کورٹ نے جرگہ کے انعقاد پر پابندی عائد کی ہوئی ہے مگر پورے سندھ میں جرگے منعقد ہوتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے وزراء اور اعلیٰ پولیس افسران ان جرگوں میں شرکت کرتے ہیں۔ جرگہ میں کاروکاری کے مقدمات کا فیصلہ ہوتا ہے اور عموماً ملزمان کو جرمانہ عائد کر کے معاف کردیا جاتا ہے۔ سندھ یونیورسٹی کے اساتذہ کی رہنما ڈاکٹر عرفانہ ملاح نے لکھا ہے کہ اندرونِ سندھ کاروکاری قرار دی جانے والی عورتوں کے علیحدہ قبرستان ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان خواتین کو اسلامی رسومات ادا کیے بغیر ہی دفن کردیا جاتا ہے۔ سندھ میں ترقی کی رفتار سب سے زیادہ تیز نہیں ہے مگر پھر بھی ترقی کا پہیہ چل رہا ہے۔ سندھی سماج میں اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اب لڑکیوں کے تعلیم یافتہ ہونے کی شرح میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے۔ اندرونِ سندھ کی لڑکیاں زندگی کے ہر شعبہ میں نمایاں خدمات انجام دیتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

اس تبدیلی میں پیپلز پارٹی ،بائیں بازو کی تنظیموں اور سندھی میڈیا کا اہم کردار ہے۔ سندھی اخبارات اردو اخبارات کی طرح رجعت پسندی کو تحفظ نہیں دیتے۔ اسی طرح سندھی زبان کے ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا نے شعور پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے مگر اس تمام مثبت انڈیکیٹرز کے باوجود کاروکاری کی رسم اب تک موجود ہے۔ اس صورتحال میں ایک عنصر حکومت کا رویہ ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے خواتین کی بہبود کے لیے اچھے قوانین نافذ کیے ہیں مگر دوسری طرف حکومت اس بناء پر جرگہ کے انعقاد کو نہیں روک سکی کہ کیونکہ حکمراں پارٹی کے اہم رہنما ان جرگوں میں شرکت کرتے ہیں۔ منتخب اراکین محض اپنے ووٹ بینک کو بچانے کی خاطر ملزمان کی سرپرستی کرتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ جرگہ کے انعقاد پر پابندی کو یقینی بنایا جائے۔

جو منتخب اراکین اور پولیس افسر جرگہ میں شرکت کرتے ہیں ان کے خلاف تادیبی کارروائی ہونی چاہیے۔ کاروکاری کے مقدمات میں ملزمان کی ضمانت نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے قانون میں تبدیلی ہونی چاہیے۔ کاروکاری کے ہر مقدمہ میں کی پیروی میں خواتین وکلاء کو شامل کرنا چاہیے اور یہ مقدمات ان عدالتوں میں چلائے جائیں جن کی پریذائیڈنگ افسر خاتون جج ہو۔ تعلیمی اداروں کے نصاب میں پہلی کلاس سے عورت او رمرد کی برابری اور کاروکاری کی رسم کے نقصانات جیسے موضوعات شامل ہونے چاہئیں۔ ہر مضمون کا نصاب اس طرح مرتب ہونا چاہیے کہ طالب علم جدید رجحانات کی طرف متوجہ ہوں۔