سندھ: خواتین پر گھریلو تشدد سےتحفظ سےمتعلق قانون پر عدم عملدرآمد کے باعث واقعات میں کمی نہیں آسکی

سندھ میں خواتین کو گھریلو تشدد سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے سال 2013 میں قانون منظور کیا گیا


رزاق ابڑو April 23, 2026

سندھ میں خواتین کو گھریلو تشدد سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے سال 2013 میں منظور کیے گئے قانون سندھ ڈومیسٹک وایولینس (پریوینشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ پر 13 سال گزرنے کے باوجود عملدرآمد نہ ہونے کے باعث خواتین پر گھریلو تشدد کے واقعات میں کمی نہیں آسکی ہے۔

مذکورہ قانون کی منظوری کے بعد صوبے میں گھریلو تشدد سے متعلق کیسز درج ہونا شروع ہوئے لیکن پولیس کی جانب سے کمزور تفتیش ہونے اور ادارتی معاونت نہ ملنے کے باعث متاثر خواتین کی اکثریت کو انصاف نہ مل سکا۔

مذکورہ قانون خواتین کو گھریلو تشدد کی مختلف اقسام سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، جن میں جسمانی تشدد، جنسی زیادتی، ہراسانی، نفسیاتی و جذباتی دباؤ، معاشی استحصال وغیرہ شامل ہیں۔ مذکورہ قانون کے تحت گھریلو تشدد کے مرتکب افراد کے عدالتوں سے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں، جن میں جرمانے اور قید شامل ہیں۔

تاہم قانونی ماہرین اور غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق مذکورہ قانون پر صحیح طور پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث گھریلو تشدد میں ملوث افراد سزائوں سے بچ جاتے ہیں۔

معاشرے کے مظلوم طبقات کو قانونی مدد فراہم کرنے والی غیر سرکاری تنظیم لیگل ایڈ سوسائٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ کے گھروں میں خواتین کے خلاف گھریلو تشدد عام ہے،جبکہ متاثر خواتین کے لیے اس کی شکایت کرنے اور انصاف حاصل کرنے میں رکاوٹیں حائل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ گھریلو تشدد سے تحفظ کے لیے قانون موجود ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث متاثر خواتین کو عدالتوں سے انصاف نہیں مل پاتا۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ قانون پر عملدرآمد کے لیے ادارتی معاونت بھی مہیا نہیں ہے کیونکہ سندھ کمیشن آن اسٹیٹس آف وومن جیسے متعلقہ سرکاری ادارے مالی اور انتظامی طور پر خودمختار نہیں ہیں۔ 

2025 میں بھی گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ رکارڈ کیا گیا لیکن ملوث افراد کو سزائیں نہ ہونے کے برابر رہیں۔

غیر سرکاری تنظیم سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے پہلے 6 ماہ میں صوبہ سندھ میں گھریلو تشدد کے 204 کیسز رپورٹ رپورٹ ہوئے، ان میں سے 98 کیسز کے چالان عدالتوں میں پیش کیے گئے، جن میں سے 70 کیسز پر کارروائی ہوئی لیکن کسی ایک میں بھی سزا نہیں سنائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق پولیس نے عدالتوں میں چالان کیے گئے کل کیسز میں سے 14 کیس واپس لے لیے جس سے مذکورہ کیسز کی تفتیش کے معیار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

سندھ میں کسانوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ہاری ویلفیئر ایسو سی ایشن کے صدر اکرم خاصخیلی کے مطابق خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کے واقعات کی شرح شہری علاقوں سے زیادہ صوبے کے دیہی علاقوں میں زیادہ ہے، جس کا سببب تعلیم کی کمی اور غربت ہے۔

ایکسپریس ٹربیون سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سال 2025 کے دوران صوبے کے مختلف علاقوں سے گھریلو تشدد کے 772 واقعات رپورٹ ہوئے۔

ان کے مطابق گھریلو تشدد کے تمام واقعات رپورٹ نہیں ہوتے اس لیے ایسے واقعات کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ کے دیہی معاشرے میں محدود پیمانے تک خواتین پر تشدد کو ابھی تک جائز اور مردوں کا حق سمجھا جاتا ہے اس لیے بھی گھریلو تشدد کے تمام واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے کے شہری علاقوں میں خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کے واقعات دیہی علاقوں کی بنسبت زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں۔ سندھ پولیس کی حالیہ اعداد و شمار میں ہوا ہے جن کے مطابق صرف کراچی میں ہر مہینے پولیس کو ایک ہزار سے زیادہ خواتین کی طرف سے گھریلو تشدد کی شکایات موصول ہوتی ہیں۔

پولیس نے گزشتہ سال کے پہلے 6 ماہ میں صوبے بھر میں گھریلو تشدد کے حوالے سے 204 کیس درج کیے گئے، تاہم اکثر کیسز میں ملوث ملزمان کو سزائیں نہیں ملیں۔ 

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف سال 2024 کے دوران بدترین گھریلو تشدد کے باعث صوبے میں 165 خواتین اور 9 لڑکیاں جاں بحق بھی ہوئیں ان کے علاوہ صوبے میں 250 خواتین اور 10 لڑکیاں جسمانی تشدد کا نشانہ بنیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن کے وائس چیئرپرسن برائے سندھ خضر حیات کے مطابق شہروں میں گھریلو تشدد کے کیسز رپورٹ ہونا مثبت عمل ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ قوانین پر مکمل عملدرآمد ہو اور تشدد کے واقعات میں ملوث افراد کو سزائیں بھی ملیں۔

سندھ وومن لایرز الائنس کی چیئرپرسن ایڈووکیٹ شازیہ نظامانی کے مطابق ابھی تک گھریلو تشدد کی شکار تمام خواتین اس کے خلاف شکایات درج نہیں کراتیں، جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تھانوں میں ان کی شکایات درج کرنے والے اکثر مرد پولیس اہکار ہوتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ خواتین کی شکایات درج کرنے پر خواتین پولیس اہہلکاروں کو تعینات کیا جائے۔