پاکستان میں آئندہ 15 سال کے دوران لاکھوں نوجوانوں کو ملازمتیں نہ ملنے کا خدشہ

عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس میں روزگار کو ترقی پذیر ممالک کا بڑا مسئلہ قرار دیا گیا ہے


ارشاد انصاری April 23, 2026
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

اسلام آباد:

عالمی بینک نے پاکستان سمیت ترقی پذیرممالک میں آئندہ 10 سے 15 سال کے دوران لاکھوں نوجوانوں کو نوکریاں نہ ملنے کا خدشہ ظاہر کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس میں روزگار کو ترقی پذیر ممالک کا بڑامسئلہ قرار دیاگیا ہے۔  مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ہونے والے اس اجلاس میں تشویش کا اظہارکیا گیا ہے۔

اس بارے صدر عالمی بینک اجے بانگا کا کہنا ہے کہ روزگار غربت کم کرنے کا سب سے موٴثر ذریعہ ہے۔  عالمی بینک نے لاکھوں نوجوانوں کو نوکریاں نہ ملنے کاخدشہ ظاہر کرتا ہے۔

اجلاس میں بتایاگیا کہ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے نوکریوں کے مواقع مزیدکم ہونے کا امکان ہے۔  انہوں نے ترقی پزیرممالک میں روزگار پیدا کرنے کواولین ترجیح قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیرممالک میں اگلے 10 سے 15 سال میں 1.2 ارب نوجوان روزگار کے قابل ہوں گے۔

واضح رہے کہ عالمی بینک کی جانب سے رکن ممالک کے لیے 80 سے 100 ارب ڈالر تک امداد متوقع ہے۔  عالمی بینک نے فوری ریلیف اورطویل مدتی معاشی اصلاحات جاری رکھنے پر زور دیا  ہے اوررکن ملکوں میں نجی سرمایہ کاری بڑھانے کو ترقی کی کنجی قراردیا گیا ہے۔

عالمی بینک نے روزگار بڑھانے کے 5 اہم شعبوں کی نشاندہی کی ہے، جس میں   توانائی اور انفرااسٹرکچر کے منصوبے روزگار کے لیے اہم قرار دیے گئے  ہیں۔ اسی طرح سیاحت کے فروغ سے معیشت اور روزگار میں اضافہ ممکن ہے۔ علاوہ ازیں  زراعت اور ایگری بزنس میں نوکریوں کے بڑے مواقع موجود ہیں۔  صحت کا شعبہ بھی روزگار پیدا کرنے میں اہم ہے۔