سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کہا ہے کہ امریکا-ایران جنگ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ، فریٹ اور انشورنس اخراجات میں بڑھوتری اور عالمی سطح پر رسک آف رجحان سے پیدا ہونے والے چیلنجز کے باوجود پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ مستحکم رہی ہے۔
ایس ای سی پی کی مالی سال 26-2025 کی تیسری سہ ماہی کے لیے کیپٹل مارکیٹ کی جائزہ رپورٹ کے مطابق اس رپورٹ میں مارکیٹ کی کارکردگی، سرمایہ کاروں کی سرگرمی، ڈیٹ مارکیٹ، معاشی رجحانات، عالمی عوامل اور اہم اصلاحات کا احاطہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 10 سے 13 فیصد اضافہ ہوا، امریکی سافٹ ویئر اسٹاکس میں تقریباً 23 فیصد کمی آئی، ایس اینڈ پی 500 میں 4.3 فیصد، ایم ایس سی آئی یورپ میں 3.2 فیصد، ایم ایس سی آئی ایشیا میں 1.1 فیصد اور ایم ایس سی آئی ایمرجنگ مارکیٹس میں 0.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ایس ای سی پی نے بتایا کہ اس پس منظر میں پاکستان کا کے ایس ای-100 انڈیکس 14.54 فیصد کم ہوا تاہم مقامی سرمایہ کاروں کی مضبوط شرکت، پرائمری مارکیٹ کی سرگرمی اور ریگولیٹری اصلاحات نے مارکیٹ کے اعتماد کو برقرار رکھا، کے ایس ای-100 انڈیکس سہ ماہی کے آغاز پر 174,054 پوائنٹس پر تھا اور 26 جنوری کو 191,033 کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچا، بعد ازاں 31 مارچ کو 148,743 پوائنٹس پر بند ہوا۔ 19 مارچ کو اس کی کم ترین سطح 144,119 رہی، جو مجموعی طور پر 22.57 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ کے ایس ای آل شیئر انڈیکس میں 14.85 فیصد، کے ایس ای-30 میں 15.52 فیصد کمی آئی، جنوری میں مارکیٹ مضبوط رہی اور کے ایس ای-100 میں 5.81 فیصد اضافہ ہوا جبکہ فروری میں بڑھتی لاگت، جغرافیائی سیاسی خدشات اور منافع لینے کے رجحان کے باعث 3.75 فیصد کمی ہوئی، مارچ میں یہ کمی مزید بڑھ کر 11.50 فیصد ہو گئی ہے لیکن اس کمی کے باوجود مارکیٹ سرگرمی مضبوط رہی۔
مزید بتایا گیا کہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 19.69 کھرب روپے سے کم ہو کر 16.53 کھرب روپے ہو گئی، یعنی 3.15 کھرب روپے کی کمی ہوئی، مجموعی طور پر 48.8 ارب شیئرز کا کاروبار ہوا جبکہ لین دین کی مالیت 2.68 کھرب روپے رہی، یومیہ اوسط حجم 791.7 ملین شیئرز اور اوسط مالیت 44.03 ارب روپے رہی، یوں فی سیشن تقریباً 485 کمپنیوں میں ٹریڈنگ ہوئی، جو وسیع شرکت کو ظاہر کرتی ہے، جس کے لیے مقامی سرمایہ کاروں نے اہم کردار ادا کیا۔
غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 111.61 ارب روپے کے شیئرز فروخت کیے جبکہ مقامی سرمایہ کاروں نے 111.55 ارب روپے کی خالص خریداری کی، کمپنیوں نے 73.51 ارب روپے، میوچل فنڈز نے 23.78 ارب روپے اور انفرادی سرمایہ کاروں نے 20.25 ارب روپے کی خریداری کی اور ٹریڈنگ بڑی کمپنیوں تک محدود رہی۔
ایس ای سی پی نے بتایا کہ نیشنل بینک آف پاکستان 182.42 ارب روپے کے ساتھ سرفہرست رہا، اس کے بعد پاکستان پیٹرولیم، او جی ڈی سی، فوجی فرٹیلائزر اور حبیب بینک شامل رہے، حجم کے لحاظ سے کے-الیکٹرک 4.64 ارب شیئرز کے ساتھ سرفہرست ہے۔
سہ ماہی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پرائمری مارکیٹ میں بھی سرگرمی جاری رہی، سہ ماہی کے دوران تین آئی پی اوز کی منظوری دی گئی، ڈیٹ مارکیٹ میں تین حکومتی اجارہ سکوک نیلامیاں ہوئیں جن کا ہدف 800 ارب روپے تھا، ان نیلامیوں میں 2.03 کھرب روپے کی بولیاں آئیں جبکہ حکومت نے 811.53 ارب روپے قبول کیے۔
رپورٹ کے مطابق ثانوی ڈیٹ مارکیٹ میں بھی سرگرمی رہی، 185.14 ارب روپے کے سکوک کا کاروبار 2,062 ٹرانزیکشنز میں ہوا، پی ایس ایکس کے بلز اینڈ بانڈز مارکیٹ میں 260.94 ارب روپے کی ٹریڈنگ ہوئی، اس کے علاوہ دو نجی سکوک بھی لسٹ کیے گئے۔
ایس ای سی پی کے مطابق یہ سہ ماہی انتہائی چیلنجنگ تھی تاہم مارکیٹ نے دباؤ کے باوجود استحکام دکھایا، مقامی سرمایہ کاری، ڈیٹ مارکیٹ کی سرگرمی، آئی پی اوز اور اصلاحات نے مارکیٹ کو سہارا دیا۔