ساری دنیا نے امریکا، ایران جنگ رکوانے میں پاکستان کا ثالثی کا کردار سراہا، دنیا کی واحد سپرپاور کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہو گیا، پہلے راؤنڈ میں کامیابی کا تناسب بہت کم تھا، ایسے دو ممالک جیسے ایک بھیڑیا اور دوسرا بھیڑ ہو، جنگ بندی کرانا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ جنگیں کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتیں، جنگ کی ضرورت صرف اسلحہ ساز کمپنیوں کو ہوتی ہے، یہ اسلحہ کے سوداگر امن کے خواہاں کبھی نہیں ہو سکتے۔ ایسے دو ممالک جو 47 سال سے ایک دوسرے کے دشمن ہوں ان کا ایک ٹیبل پر مذاکرات کے لیے دوبدو بیٹھنا ہی ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔
اتنی طویل دشمنی کے بعد اگر کوئی یہ سمجھ بیٹھا کہ دونوں ممالک دوستانہ ماحول میں ایک دوسرے کو تسلیم کریں گے تو یہ بہت بڑی غلط فہمی ہوگی۔ امریکا کی طرف سے ایسے اشارے ملے ہیں کہ وہ دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ دراصل دونوں ملکوں کو ’’کچھ دو اور کچھ لو‘‘ کی پالیسی پر کاربند ہونا چاہیے۔ لیکن ان دونوں ممالک میں ’’انا کا ٹکراؤ‘‘ بنیادی مسئلہ ہے۔ دونوں ممالک اپنے عوام کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جنگ انھوں نے جیتی ہے، ہارنا کوئی بھی پسند نہیں کرے گا لیکن جب دونوں ممالک جیت کے خواہاں ہیں تو ’’ہارنا‘‘ کس کے مقدر میں لکھا ہے۔
ہم جس دور میں جی رہے ہیں جہاں انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ انسان نے چاند پر قدم رکھ دیا، خلائی تحقیق نے پوری دنیا کو ’’گلوبل ولیج‘‘ میں تبدیل کر دیا ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی لوگ جنگوں کے ذریعے معاملات طے کرنا چاہتے ہیں، جنگوں نے دنیا کو صرف بربادی دی ہے، انسانی خون ارزاں ہو جاتا ہے، عمارتیں دھوئیں کے بادلوں میں چھپ جاتی ہیں، لاتعداد لوگ جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں جسمانی طور پر معذور ہو جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کو بڑھانے میں اسرائیل کا بہت بڑا ہاتھ ہے جو ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے منصوبے پر عمل پیرا ہے اس نے فلسطین، غزہ اور ایران میں دہشت گردی پھیلا رکھی ہے۔
امریکا نے ایران کو بہت ہلکا لیا تھا، اس نے سوچا تھا کہ ایران بھی وینزویلا کی طرح اس کے لیے تر نوالہ ثابت ہوگا، لیکن ایسا ہوا نہیں۔ ایران کی سرکردہ لیڈرشپ ختم ہو گئی لیکن نہ تو رجیم چینج ہوا نہ ایران نے ہتھیار ڈالے بلکہ امریکا کو ایران نے ناکوں چنے چبوا دیے، جس سے مسلم دنیا بہت خوش ہے۔ امریکی حملوں میں ایران کے کئی شہر ملبے کا ڈھیر بن گئے لیکن ایران میں نہ انارکی پھیلی نہ رجیم چینج ہوا نہ ایران کے حکمران لڑکھڑائے نہ خوفزدہ ہوئے۔ عالمی مبصرین کی اکثریت کہہ رہی ہے کہ امریکا جنگ ہار گیا کیونکہ وہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ امریکا نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ یوں سربازار رسوا ہوگا۔ پہلے دور کے مذاکرات سے امریکا یوں پیچھے ہٹا ہے کہ وہ بڑی طاقت ہے۔ کافی باتوں پر اتفاق ہو چکا ہے۔ جنرل عاصم منیر، شہباز شریف اور اسحاق ڈار کی کوششوں سے پندرہ روزہ جنگ بندی ہوئی اور اسرائیل کو بھی منہ کی کھانی پڑی۔ انشا اللہ پاکستان کا یہ سفارتی اعزاز برقرار رہے گا۔ بھارت کو پاکستان کا یہ اعزاز ایک آنکھ نہیں بھا رہا جب کہ بیشتر بھارتی صحافیوں نے پاکستان کی تعریف کی ہے۔
1945 میں دوسری جنگ عظیم کے دوران 6 اور 9 اگست کو انسانی تاریخ کا سب سے شرمناک واقعہ پیش آیا، جو آج بھی تاریخ کا بدترین دن مانا جاتا ہے۔ اس دن امریکا نے جاپان کے شہر ناگاساکی اور ہیروشیما میں ایٹم بم گرائے تھے جس نے دیکھتے ہی دیکھتے دو سے تین لاکھ کے درمیان لوگوں کی جان لی۔ آج اس دن کے بارے میں سوچا جاتا ہے تو آنکھوں سے آنسو امڈ پڑتے ہیں کہ کیا ایسے انسان بھی ہو سکتے ہیں جو لاکھوں بے گناہ انسانوں کی جان منٹوں میں لے لیتے ہیں۔ اس واقعے نے پوری انسانیت کے دَر و دیوار کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایٹمی بمباری کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے معصوم لوگوں کے جسموں سے گوشت پگھلنے لگا۔ اس دن کو تاریخ میں سیاہ ترین دن سمجھا جاتا ہے۔ اس بمباری کی وجہ سے آج بھی ناگاساکی اور ہیروشیما میں لوگ پیدا ہوتے ہیں تو ان میں عموماً کوئی نہ کوئی جسمانی نقص پایا جاتا ہے۔ ایٹم بم انسانیت کے لیے انتہائی تباہ کن ہے جب بھی اس کا استعمال ہوا ہے ہمیشہ اس نے تباہی مچائی۔ وہی امریکا جو آج دعوے کرتا ہے کہ وہ ہم سب سے زیادہ انسانیت کے حق میں ہے اس نے 1945 میں سب سے زیادہ انسانوں کو قتل کیا۔
ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ کشیدہ صورت حال میں پاکستان ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے جہاں وہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور پیغامات کی ترسیل کا بنیادی ذریعہ بن چکا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کے ذریعے مسلسل پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ پاکستان نے حال ہی میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے بعد دوسرے دور کی میزبانی کی پیشکش بھی کی ہے۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد خطے میں جاری جنگ کا خاتمہ، ایران پر عائد پابندیوں کی منسوخی اور نقصانات کا ازالہ کرنا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایران کے ساتھ ایک جامع معاہدے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے جس پر ایران مکمل کنٹرول کا اصرار کر رہا ہے۔
پاکستان اور ایران دونوں برادر اسلامی ممالک ہیں جن کے درمیان گہرے تاریخی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ تاہم سرحدی سیکیورٹی اور گیس پائپ لائن جیسے منصوبوں پر کبھی کبھار اختلافات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ اسی طرح پاکستان امریکا کا بھی اتحادی رہا ہے۔ خاص طور پر سیکیورٹی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں۔ تاہم حالیہ برسوں میں پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی میں توازن لانے کی کوشش کی ہے۔ امریکا اور ایران کے تعلقات ایرانی انقلاب کے بعد سے سخت کشیدہ ہیں۔ پاکستان کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ اپنی حکمت عملی پر توجہ دے اور اسے برقرار رکھتے ہوئے اپنے پڑوسی ملک ایران کے ساتھ بھی بہتر تعلقات قائم رکھے۔ یہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
چلیے جناب پاکستان کا وقار دنیا میں بلند ہو گیا ہے۔ اب جناب شہباز شریف کو ملک کے داخلی معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔ بہت تعریفیں ہو گئیں، کیا ہی اچھا ہو کہ ملک کے داخلی معاملات سلجھانے پر بھی اتنی ہی تعریفیں ملیں جتنی کہ ایران، امریکا جنگ رکوانے پر ملی ہیں۔ ان معاملات میں سب سے نمایاں ’’مہنگائی‘‘ ہے۔ امریکا ایران جنگ شروع ہوتے ہی وزیر اعظم نے 55 روپے فی لیٹر بڑھا دیے اور پھر بعد میں مزید اضافہ کرکے عام انسان کی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیا۔پٹرول مہنگا کر کے پٹرول کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا گیا، ہر چیز کی قیمت دوگنی ہو گئی۔ جہاں پٹرول کا عمل دخل تک نہ تھا وہاں بھی قیمت بڑھا دی گئی، عام آدمی کی سانسیں رک گئی ہیں، غریب اور متوسط طبقہ بے حال ہے، بیوروکریٹ عیاشی کر رہے ہیں، ارکان اسمبلی مزے لوٹ رہے ہیں۔
معیشت پاکستان کا سب سے بڑا داخلی مسئلہ بن چکا ہے، مہنگائی کا گراف اوپر جانے سے روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوامی سطح پر مایوسی پھیلائی ہے۔ ملک کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہو رہا ہے جس کے لیے پاکستان کو بار بار عالمی مالیاتی اداروں (IMF) سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ یہ ملک امیروں، وڈیروں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے لیے بنا ہے۔ اسی لیے مہنگائی کم کرنے کی کبھی بات نہیں ہوتی۔ شہباز شریف صاحب نے پاکستان کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے کافی اچھی شہرت کمائی تھی۔ ان کے وزیر اعظم بننے پر میرا خیال تھا کہ وہ ملک میں مہنگائی کو کم کریںگے، بے روزگاری کو دور کریں گے، لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔
حیرت اس بات پر ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور دہشت گردی نے طوفان اٹھا رکھا ہے۔ اب لوگ گن کر روٹیاں پکاتے ہیں، آدھا پیٹ کھاتے ہیں، بچوں کو بھی پیٹ بھر کھانا نہیں ملتا۔ میرے گھر جو ملازمہ کام کرتی ہے اس کی عمر تقریباً پچاس سال ہے تین بیٹیاں ہیں بہت دور سے کام پر آتی ہے اور مختلف گھروں میں ملنے والے کھانے کو احتیاط سے لے کر جاتی ہے تاکہ پیٹ بھر سکیں، جس دن کہیں سے کھانا نہیں ملتا اس دن وہ صرف چار روٹیاں پکاتی ہے کبھی سبزی سے کھاتی ہے، کبھی چٹنی سے۔ خدارا وزیر اعظم صاحب لوگوں پر رحم کیجیے اور مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کر دیجیے۔