لاہور:
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ حکومت خواتین اور مائیکرو انٹرپرائزز کو بااختیار بنانا اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور اس مقصد کے لیے نظام کو سازگار بنایا جا رہا ہے تاکہ انہیں صرف مدد ہی نہیں بلکہ مکمل اختیار اور رسائی فراہم کی جا سکے۔
اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن (پی آئی ایف ڈی) کے درمیان ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی، جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا کہ یہ معاہدہ محض ایک ایم او یو نہیں بلکہ وژن اور ویلیو کا ایسا امتزاج ہے جو ملکی معیشت کو نئی سمت دے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ تخلیقیت اور انٹرپرائز کے ملاپ سے ہی معیشتیں ترقی اورعالمی قیادت حاصل کرتی ہیں کیونکہ آج کے دور میں جدت کرنسی، تخلیق سرمایہ اور ڈیزائن ایک بڑی طاقت بن چکے ہیں۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان اصلاحات کے عمل سے گزر کر خود کو ایک نئی پوزیشن میں لا رہا ہے جہاں ہم مقدار کے بجائے معیار اور محض موجودگی کے بجائے عالمی ترجیح بننے کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔
معاونِ خصوصی نے مزید کہا کہ پاکستان میں آئیڈیاز کی کمی نہیں، صرف انہیں درست مواقع اور پلیٹ فارم مہیا کرنے کی ضرورت ہے اور سمیڈا اور پی آئی ایف ڈی کا یہ اشتراک کاروباری و تخلیقی صلاحیتوں کو جوڑنے کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس شراکت داری کے نتیجے میں مصنوعات کی بہتری، برانڈنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور عالمی منڈیوں تک رسائی کو فروغ ملے گا، جس سے مقامی کاروبار نہ صرف بڑھیں گے بلکہ بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بھی ہوں گے۔
انہوں نے نیشنل ویمن انٹرپرینیورشپ پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت خواتین اور مائیکرو انٹرپرائزز کو بااختیار بنانے کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور اس مقصد کے لیے نظام کو سازگار بنایا جا رہا ہے تاکہ انہیں صرف مدد ہی نہیں بلکہ مکمل اختیار اور رسائی فراہم کی جا سکے۔

ہارون اختر خان نے تقریب کے شرکا کو بتایا کہ تین سالہ "نیشنل پروڈکٹ ڈیولپمنٹ سپورٹ پروگرام" کے ذریعے چھوٹے کاروبار اور خواتین کو خصوصی سہولیات فراہم کی جائیں گی جو جامع اور پائیدار معاشی ترقی کی جانب ایک بڑا سنگ میل ہے۔
انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ اقدام پاکستان کو عالمی ویلیو چین میں اوپر لے جانے کا واضح اشارہ ہے اور ملک کے نوجوان اور خواتین اب معاشی قیادت سنبھالنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں، یہ شراکت داری ملکی مصنوعات کی عالمی شناخت بنانے اور برآمدات میں اضافے کے لیے ایک کلیدی محرک ثابت ہوگی۔